ملک میں مہنگائی کی شرح 25 فیصد سے زائد ہوگئی

  • جمعرات 01 / دسمبر / 2022

پاکستان میں موجودہ مالی سال کے پہلے پانچ مہینوں میں مہنگائی کی شرح 25.14 فیصد رہی جو گزشتہ سال ان مہینوں میں 9.32 تھی۔

ادارہ شماریات کی جانب سے مہنگائی کے تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق نومبر کے مہینے میں مہنگائی کی شرح 23.84 فیصد رہی۔ زیر جائزہ مہینوں میں غذائی اشیا کی قیمتوں میں 31 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں 44 فیصد اضافہ ہوا۔ تعلیمی اخراجات میں 11 فیصد اضافہ ہوا اور میڈیکل اخراجات میں 17 فیصد اضافہ ہوا۔

اس دوران وفاقی وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پٹرول اور ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمتیں یکم دسمبر سے لے کر 15 دسمبر تک برقرار رکھی جائیں گی۔ جبکہ مٹی کے تیل کی قیمت دس روپے فی لیٹر سستی کر دی گئی ہے۔ لائٹ ڈیزل آئل کی قیمت میں ساڑھے سات روپے کمی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے مطابق چونکہ مٹی کا تیل کم ترین آمدنی والے ملک کے دوردراز علاقوں اور دیہاتوں میں استمعال کرتے ہیں اس وجہ سے اس کی قیمت میں کمی گئی ہے۔ ان کے مطابق لائٹ ڈیزل آئل بھی غریب لوگ خاص طور پر ٹیوب ویل پر استعمال کرتے ہیں۔

اسحٰق ڈار نے اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں تبدیلی نہیں ہوگی اور اگلے 15 دن تک موجودہ قیمت 235 روپے 30 پیسے رہے گی جو تقریباً 2 ماہ سے برقرار ہے۔ پیٹرول کی قیمت اس وقت قیمت 224 روپے 80 پیسے فی لیٹر ہے، اس میں بھی کوئی تبدیلی نہیں ہوگی اور اسی طرح برقرار رہے گی۔

مٹی کے تیل کی نئی قیمت 181 روپے 83 پیسے فی لیٹر ہوجائے گی۔ اسحاق ڈار کے مطابق لائٹ ڈیزل کی قیمت 186 روپے 50 پیسے ہے جس میں 7 روپے 50 پیسے کمی کے بعد اب نئی قیمت 179 روپے ہوجائے گی۔