دہشت گردی میں اضافہ تشویشناک ہے: رانا ثنا اللہ

  • جمعرات 01 / دسمبر / 2022

وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنااللہ خان نے گزشتہ روز کوئٹہ میں ہونے والے خود کش حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹی ٹی پی کی جانب سے ملک میں حملوں کی ذمے داری قبول کرنا خطرناک ہے۔ دہشت گردی میں اضافہ تشویشناک ہے لیکن نا قابل کنٹرول نہیں ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے علاقے بلیلی میں بلوچستان کانسٹیبلری کے ٹرک کے قریب کالعدم تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے کیے گئے خود کش دھماکے کے نتیجے میں پولیس اہلکار سمیت 4 افراد جاں بحق جب کہ متعدد اہلکار اور شہری زخمی ہوگئے تھے۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ملک کی سیکیورٹی کی صورتحال سے متعلق اجلاس منعقد کیا گیا۔ اجلاس میں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے شرکت نہیں کی۔ انہیں ملک کی امن و امان کی صورتحال سے متعلق ہونے والے اجلاس میں آنا چاہیے تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ ٹی ٹی پی کی جانب سے ملک میں حملے کی ذمے داری قبول کرنا افسوسناک، تشویشناک اور خطرناک ہے۔ پاکستان کی جانب سے افغانستان کو ہر طرح کی سہولیات ہیں۔ ان کی سرزمین کا ہمارے خلاف استعمال ہونا طالبان حکومت کے لیے بھی باعث تشویشناک ہونا چاہیے۔ یہ صورتحال خطے کے امن کے لیے انتہائی خطرناک چیز ہے۔

خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی کی لہر کے حوالے قوم کو یقین دہانی کراتا ہوں کہ یہ چیز قابو سے باہر ہوگی۔ ایسی صورتحال نہیں ہے کہ جو سنبھالی نہ جا سکے، اس پر قابو پانے کے لیے وفاق کی جانب سے معاملات ہاتھ میں لینے سے قبل صوبائی حکومت اپنی ذمے داریاں موثر انداز سے پوری کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومتوں کو امن و امان کی صورتحال کو قابو میں رکھنے کے لیے اقدامات کرنے چاہییں۔ صوبائی حکومتوں کو وفاق کی جانب سے مکمل تعاون کی یقین دہانی کراتا ہوں، سیاسی اختلافات چلتے ہیں لیکن ملکی مفاد اور اس کی سلامتی سب سے مقدم ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہماری مسلح افواج دہشت گردی کی صورتحال سے نمٹنے کی پوری صلاحیت رکھتی ہیں۔ ہم ہر طرح کی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں، اگر کسی آپریشن کی ضرورت ہوئی تو پھر اسے بلا تاخیر کیا جائے گا۔ عسکری قیادت نے 2 مرتبہ پارلیمنٹ کو ٹی ٹی پی کے حوالے سے بریفنگ دی تھی۔ پارلیمنٹ نے عسکری قیادت کو اختیار دیا تھا کہ ٹی ٹی پی کے جو لوگ آئین کے تابع آکر پر امن طور پر معاشرے کا حصہ بننا چاہیں تو آپ ان کے ساتھ بات کرسکتے ہیں۔ کچھ حد تک یہ بات ہوئی بھی ہے لیکن معاملہ یہ ہے کہ ٹی ٹی پی کسی ایک دھڑے کا نام نہیں ہے۔ ہر علاقے میں دو، دو چار، چار دھڑے ہیں۔ ایک دھڑے سے بات چیت کرتے ہیں، وہ صلح کرنا چاہتا ہے تو دوسرا دھڑا کارروائیوں میں لگ جاتا ہے۔ کچھ لوگ مذاکرات میں دلچسپی رکھتے ہیں اور کچھ انہیں نقصان پہنچاتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ صورتحال برقرار رہے گی، جو لوگ امن چاہتے ہیں، ان کو امن کا راستہ دیا جانا چاہیے۔ عسکری قیادت کی جانب سے پارلیمنٹ کو دی گئی بریفنگ کا بھی یہ ہی فیصلہ تھا، اس پر ہی عمل ہو رہا ہے۔ باقی روزانہ موثر آپریشن بھی ہو رہے ہیں۔ ٹی ٹی پی سے کوئی باضابطہ مذاکرات نہیں ہوئے۔ یہ وہ مذاکرات ہیں جو حالت جنگ میں بھی ہوتے ہیں جس میں کچھ چیزیں وقتی طور پر طے ہوجاتی ہیں۔

ان سے پوچھا گیا کہ ٹی ٹی پی کو افغانستان میں سہولت میسر ہے جب کہ طالبان نے وعدہ کیا تھا کہ ان کی سرزمین کسی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہوگی۔ اب ان کا ملک پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہو رہا ہے۔  وزیر داخلہ نے کہا کہ افغان حکومت کا اپنی سرزمین دہشت گردی کے خلاف استعمال نہ ہونے دینے کا وعدہ صرف پاکستان کے ساتھ نہیں بلکہ پوری دنیا کے ساتھ ہے۔ طالبان نے پوری دنیا کے ساتھ یہ وعدہ کیا تھا کہ افغانستان کی سرزمین کسی دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہوگی۔ اگر طالبان اس وعدے پر عمل کرتے ہیں تو یہ ان کے اپنے فائدے میں بھی ہوگا۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ عمران خان کی جانب سے اسمبلیاں تحلیل کرنے کا اعلان غیر آئینی ہ۔، اس طرح کے ادارے آئین اور جمہوری نظام کی توہین ہے۔ ہم اس کی مذمت کرتے ہیں لیکن اگر عمران خان اپنے اس اقدام میں کامیاب ہوتے ہیں تو ہم آئین کی منشا کے مطابق عمل کریں گے۔ اسمبلیاں تحلیل ہونے کی صورت میں اگر الیکشن کا انعقاد 90 روز میں ممکن ہوا تو انتخابات کرائے جائیں گے لیکن اگر کسی وجہ سے وہ تاخیر کا شکار ہوئے تو پھر عام انتخابات کے ساتھ بھی انتخابات کرائے جا سکتے ہیں۔

الیکشن جب بھی ہوں، ہم ان میں جانے کے لیے تیار ہیں، ہمیں الیکشن لڑنے میں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ کوئی یہ مت سمجھے کہ ہم الیکشن سے پیچھے ہٹنا چاہتے ہیں یا الیکشن سے خوفزدہ ہیں۔ ہمارا مؤقف اسمبلیوں کی مدت پوری کرنے کا ہے، پی ٹی آئی کا بھی یہ ہی مؤقف تھا کہ ایک دن پہلے بھی الیکشن نہیں ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی اسمبلیوں کی تحلیل سے پہلے اپنے دیے گئے استعفوں کی تصدیق کے لیے اسپیکر کے سامنے پیش ہوں۔ کم از کم وہ تنخواہیں لینا بند کریں، پارلیمنٹ لاجز خالی کریں، گاڑیاں واپس کریں، ان کے سابق وزرا سرکاری رہائش گاہیں خالی کریں۔