غلطیوں کا ادھورا اعتراف
- تحریر افضال ریحان
- جمعرات 01 / دسمبر / 2022
آرمی چیف جنرل قمر باجوہ کی چھ سالہ کارکردگی کا جائزہ تو آنے والے دنوں میں لیا جاتا رہے گا مگر ان کے تازہ ارشادات غیر سیاسی ہونے کے دعوے کی نفی کر رہے ہیں۔ اگرچہ یہ امر خوش آئند ہے کہ انہوں نے کم از کم اپنی اور اپنے محکمہ کی جن غلطیوں کا ادھورا اعتراف کیا ہے، طاقت کی ڈھٹائی، عدم برداشت اور جبر کی پالیسی میں یہ بھی ایک لحاظ سے غنیمت ہی قرار پائے گا۔
فرماتے ہیں کہ ’بھارتی عوام کم ہی اپنی فوج کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں، اس کے برعکس ہماری فوج عوامی تنقید کا ز یادہ نشانہ بنتی ہے۔ میرے نزدیک اس کی بڑی وجہ 70 سالوں سے فوج کی مختلف صورتوں میں سیاسی مداخلت ہے جو غیر آئینی ہے۔ پچھلے سال فروری میں ہم نے فیصلہ کیا کہ فوج آئندہ کسی سیاسی معاملے میں مداخلت نہیں کرے گی۔ اس طرح فوج نے تو اپنی اصلاح شروع کر دی ہے امید ہے کہ سیاسی پارٹیاں بھی اپنے رویے پر نظرثانی کریں گی‘۔ انہوں نے سابقہ مشرقی پاکستان اور موجودہ بنگلہ دیش کے حوالے سے جو گفتگو فرمائی ہے، اس پر ہم بعد میں آتے ہیں پہلے اس امر کا تقابلی جائزہ کہ انڈین آرمی پر اس نوع کی تنقید کیوں نہیں ہوتی جس نوع کی سخت تنقید ہمیشہ پاکستان آرمی پر وارد ہوتی رہتی ہے۔ اور یہ محض ہر دو ممالک کے عوام کا ہی طرز عمل نہیں عالمی رویہ بھی یہی ہے۔
اس کا بڑی حد تک جواب تو آرمی چیف نے خود ہی دے دیا ہے کہ بھارتی فورسز سیاسی معاملات میں عدم مداخلت کی پالیسی پر پوری طرح کاربند ہیں جبکہ پاکستانی فورسز کی تو 70 سالوں پر محیط پہچان ہی یہ بنی رہی ہے کہ وہ اپنے ہی ملک، اس کے آئین اور پارلیمنٹ پر یلغار کرتے ہوئے اسے بار بار فتح کرتی چلی آ رہی ہیں، جسے غیر آئینی قرار دیتے ہوئے جنرل صاحب نے سیاسی مداخلت کا نام دیا ہے۔ اب انہوں نے قوم کو خوشخبری سنائی ہے کہ وہ پچھلے سال فروری سے اس فیصلے پر کاربند ہیں کہ سیاسی معاملات میں مداخلت نہیں کرنی۔ جنرل صاحب کے اس تاریخی اقبالی بیان کو درویش ادھورا اس لئے سمجھتا ہے کہ ماشاء اللہ وہ خود گزشتہ چھ سالوں سے فوج کی کمان کرتے چلے آ رہے ہیں۔ اگر عدم مداخلت کے ان بیس مہینوں کو نکال بھی دیا جائے پھر بھی ان کے ذمہ یہ وضاحت موجود رہ جاتی ہے کہ ماقبل کے اپنے اتنے سالوں میں آپ نے ایسی جارحانہ مداخلت کیوں اپنائی یا جاری رکھی جس نے اس ملک کے نہ صرف یہ کہ سیاسی استحکام کی چولیں ہلا دیں بلکہ معاشی بدحالی کو بھی ڈیفالٹ کے قریب تک پہنچا دیا۔
نواز شریف اور ان کی حکومت کو نیچا دکھانے کے لئے سیاسی انجینئرنگ کی اخیر کر دی گئی۔ انہوں نے اس سے قبل جس 70 سالہ مداخلت کا اقبال و اعتراف فرمایا ہے تو ایسے آئین شکنوں کی کھلی مذمت بھی کی جانی چاہیے تھی۔ جنرل ایوب، جنرل یحییٰ، جنرل ضیاء اور جنرل مشرف جیسے آئین شکنوں نے عوامی شعور پر جن بوٹوں کی بھرمارکیے رکھی، کیا اس رویے کی کھلے لفظوں میں مذمت نہیں ہونی چاہیے تھی؟ ان کی مراعات ضبط کرتے ہوئے کیا ہمارے سلیبس میں جھوٹ کی جگہ سچ نہیں ڈالنا چاہیے تھا؟ بھارتی عوام ہی نہیں پوری دنیا میں اگر انڈین آرمی پر تنقید نہیں کی جاتی تو اس کی ایک وجہ کیا یہ بھی نہیں ہے کہ اس کی قیادت میں جنگی جنون کے ساتھ دوسروں پر حملہ آور ہونے کی کوئی پالیسی نہیں۔ مرحوم ایئر مارشل اصغر خاں کہا کرتے تھے کہ پاکستان اور انڈیا کے درمیان جتنی بھی جنگیں ہوئی ہیں، ان کی پہل ہمیشہ پاکستان کی طرف سے ہوئی ہے۔
درویش عرض گزار ہے کہ کارگل جیسا فتنہ گھڑنے اور ہر دو اقوام پر مسلط کرنے کی جنونی ذہنیت کس کی تھی؟ نواز شریف نے تو اس سے اعلان بریت کیا کیونکہ وہ تو انڈین پرائم منسٹر واجپائی صاحب کا لاہور میں استقبال کرتے ہوئے نئی دوستی کی شروعات کر رہے تھے۔ جبکہ دوسری طرف عین اسی وقت ان کے ہی نہیں امن وسلامتی اور ترقی و خوشحالی کی پیٹھ میں چھرا گھونپتے ہوئے جنرل مشرف بربادی کے ایجنڈے پر عمل پیرا تھا۔ اس میں ہر دو اطراف جو سینکڑوں ہزاروں انسان لقمہ اجل بنے یا اپاہج بنا دیے گئے تو کیا اس بربادی کی ذمہ داری کا باضابطہ تعین ہونا باقی نہیں ہے؟
کیا قومی معیشت و وقار کو یوں آگ میں جھونک دینے والوں کا کورٹ مارشل نہیں ہونا چاہیے؟ اس سے اوپر 65 کی جنگ پر بھی کیا اعلیٰ سطحی تحقیقات نہیں ہونی چاہیے تھیں؟ آپ لوگوں نے ناجائز طور پر لائن آف کنٹرول کراس کرتے ہوئے دوسری طرف اپنے چھاتہ بردار کیا سمجھ کر اتارے تھے؟ اس سے بھی اوپر ہم 1971 کی جنگ پر چلے جاتے ہیں جس کے متعلق آج خود جنرل باجوہ صاحب ارشاد فرما رہے ہیں کہ یہ ایک فوجی نہیں سیاسی ناکامی تھی۔ آپ کی سیاسی ناکامی کے لفظ میں وزن سے یہ درویش ا نکاری نہیں لیکن صورتحال کو پورے منظر نامے میں ملاحظہ فرمائیں تو واضح ہو گا کہ جس شخص کی طرف آپ اشارہ فرما رہے ہیں، کیا وہ مداری آپ ہی کے مقدس محکمہ کی کٹھ پتلی نہ تھا؟ کیا اس وقت برسر اقتدار آپ کا ہی آرمی چیف نہ تھا؟ خدا کے بندو! عوامی لیگ اور اس کا پاپولر لیڈر واضح میجارٹی 162 سیٹیں جیت جاتا ہے اور آپ اقتدار اس کے حوالے کرنے کی بجائے محض 81 سیٹوں والے سے سودے بازیاں کر رہے تھے۔ کیوں؟
اگر اس وقت کے تیس مار خاں میں کچھ بھی جمہوری غیرت ہوتی تو وہ طاقتوروں کا کٹھ پتلی بننے کی بجائے شیخ مجیب الرحمن کی جیت کو کھلے بندوں قبول کرتے ہوئے آٰرام سے اپوزیشن بنچوں پر بیٹھ جاتا۔ مگر اپنی صدارتی ایکسٹیشن کیلئے اس وقت کے آرمی چیف نے جو گھناؤنا رول ادا کیا اور جس نوع کا سفاکانہ ملٹری آپریشن کرتے ہوئے بنگالی عوام کی تکہ بوٹی بنائی اس کا کیا جواز تھا؟ اتنا ظلم تو غیر ملکی قابض برٹش فورس نے بھی روا نہ رکھا ہو گا۔ شامی صاحب گواہ ہیں ان کی موجودگی میں درویش نے جنرل نیازی سے جب یہ کہا کہ کیا آپ ہی وہ جنرل نیازی ہیں جس نے ہمارے چہرے پر کالک ملی، ہمیں دنیا میں کہیں منہ دکھانے کے قابل نہیں چھوڑا، بنگالی عوام پر اتنا ظلم کیا کہ ان کی نسلیں بھی صدیوں تک روتی رہیں گی۔ اس پر اس جنرل نے بلند آواز میں آہوں اور سسکیوں کے ساتھ رونا شروع کر دیا۔
آج آپ کہتے ہیں کہ لڑنے والوں کی تعداد 93 ہزار نہیں 34 ہزار تھی، باقی 35 ہزار مختلف گورنمنٹ ڈیپارٹمنٹس کے لوگ تھے۔ سوال یہ ہے کہ آپ کی تعداد جو بھی تھی بھارتی قید میں تو 93 ہزار ہی گئے تھے جن کو ایک سویلین نے جھک کر وزیر اعظم ہند شریمتی اندرا گاندھی کی قید سے چھڑوایا تھا۔ ہماری آرمی کے یہ لوگ ہمیشہ انڈین فورسز کے مرہون منت رہیں گے، ورنہ بپھری ہوئی زخم خوردہ بنگالی قوم بدلے میں ان لوگوں کا کیا حشر کر دیتی۔ اس سے بھی بڑا سوال یہ ہے کہ اس حوالے سے جو متفقہ حمو دالرحمن کمیشن بنا تھا، اس کی تاریخی رپورٹ کو کس نے اتنی دہائیوں تک چھپا ئے رکھا کہ آج بھی قوم اس کے کئی حقائق سے بے خبر ہے۔ کیا اس اتنی اعلیٰ سطحی رپورٹ کا یہ تقاضا نہیں تھا کہ اس کے منفی کرداروں کو قرار واقعی سزا دی جاتی۔ اس حقیقت کو کون جھٹلا سکتا ہے کہ ان مسلمان پاکستانی فوجیوں نے بنگالی بچیوں کو بے دردی و سنگدلی سے ریپ کیا۔ اس حوالے سے جنرل نیازی نے جو کچھ کہا وہ تاریخ کا حصہ ہے اور اتنا شرمناک ہے کہ یہاں بیان کرنا بھی اذیت ناک لگ رہا ہے۔
جنرل صاحب کہنے کو بہت کچھ ہے اس ناچیز کا ضمیر چاہ رہا ہے کہ جلے دل کے پھپھولے کھول کر پھوڑ دے مگر آپ کا محکمہ زیادہ سچائی کو پسند نہیں فرمائے گا۔ آج بھی ہم اور ہمارا میڈیا کہاں اتنے آزاد ہیں کہ پوری سچائی قوم کو تفصیلات ساتھ بتا سکیں۔ آج آپ فرما رہے ہیں کہ فروری سے آپ کے محکمے نے ہمیشہ کیلئے سیاسی مداخلت یا انجینئرنگ سے توبہ کر لی ہے۔ آپ کی آواز مکے اور مدینے مگر مرزا غالب کیا خوب فرما گئے ہیں:
ترے وعدے پر