حکومت انتخابات سے کیوں بھاگ رہی ہے!
- تحریر سید مجاہد علی
- جمعرات 01 / دسمبر / 2022
سابق صدر اور پیپلز پارٹی کے معاون چئیرمین آصف زرداری نے کہا کہ کہ حکومتی اتحاد پنجاب اور خیبر پختونخوا اسمبلیوں میں عدم اعتماد لائے گا۔ آج ایک ٹی وی انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ انتخابات ہمارے فائیدے میں نہیں ہیں البتہ اگر عمران خان اسمبلیاں توڑنے میں کامیاب ہوگئے تو ہم انتخاب میں ضرور حصہ لیں گے۔ اس سے قبل صبح کے وقت ایک پریس کانفرنس میں وزیر داخلہ رانا ثنااللہ نے دعویٰ کیا تھا کہ ’ضروری نہیں کہ اسمبلیاں توڑنے کی صورت میں مقررہ مدت میں ہی اسمبلیوں کے انتخابات ہوجائیں۔ انہیں عام انتخابات تک مؤخر بھی کیا جاسکتا ہے‘ ۔ گویا حکومت یہ دعویٰ کرتے ہوئے کہ وہ انتخاب سے راہ فرار نہیں چاہتی ، درحقیقت انتخابات سے بچنے کے لئے کسی بھی حد تک جانے کے لئے تیار ہے۔
اسمبلیاں توڑنے سے پہلے عدم اعتماد لانے اور اسمبلیاں ٹوٹنے کی صورت میں دو صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات کو غیر معینہ مدت تک لٹکانے کے اشارے دینے کا ایک ہی مقصد ہے کہ کسی طرح عمران خان کو اسمبلیاں توڑنے سے باز رکھا جائے۔ شاید اسی خواہش کے اظہار کے طور پر پیپلز پارٹی کے چئیر مین اور وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے ایک روز پہلے دعویٰ کیا تھا کہ عمران خان کسی صورت اسمبلیاں نہیں توڑیں گے ۔ وہ محض دھمکیاں دے رہے ہیں۔ اسی قسم کا اشارہ رانا ثنااللہ نے یہ کہتے ہوئے دیا ہے کہ اگر اسمبلیاں توڑنا ہی مقصود ہے تو اس کے لئے اتنے غور و خوض کی کیا ضرورت ہے اور 20 دسمبر تک انتظار کیوں کیا جارہا ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ تحریک انصاف کو پہلے قومی اسمبلیوں کی نشستوں سے استعفے مؤثر کرنے کے لئے اسپیکر کے سامنے پیش ہوکر اپنے استعفوں کی تصدیق کرنا چاہئے۔ اسی طرح پی ٹی آئی کے ارکان اسمبلی تنخواہیں وصول کرنے، پارلیمنٹ لاجز پر قبضہ جاری رکھنے اور سابقہ وزیر سرکاری رہائش گاہیں چھوڑنے کی جلدی کریں۔
یہ ممکن ہے کہ عمران خان نے 26 نومبر کو روالپنڈی کی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے ’اس نظام سے نکلنے کے لئے اسمبلیاں چھوڑ دینے‘ کا جو اعلان کیا تھا ، وہ محض سیاسی ہتھکنڈا ہو لیکن اس پر حکومتی جماعتوں کی بدحواسی اور رد عمل عمران خان کو ایسے ہتھکنڈے مسلسل بروئے کار لانے پر آمادہ کرتا رہے گا۔ ملک میں سیاسی بحران کی بنیادی وجہ عدم اعتماد کی صورت حال ہے اور اقتدار پر قبضہ جاری رکھنے یا اسے واپس حاصل کرنے کی جد و جہد ہے۔ یعنی جمہوریت اور آئینی انتظام کے بلند بانگ نعرے لگاتے ہوئے بھی یہ واضح ہورہا ہے کہ عوامی مرضی کسی بھی پارٹی کا مطمح نظر نہیں ہے ۔ حکومتی پارٹیوں کی طرح تحریک انصاف بھی اقتدار سے مکمل دست بردار ہونے پر آمادہ نہیں ہے۔ صوبائی حکومتوں پر قابض رہ کر تحریک انصاف آئیندہ انتخابات کے لئے اپنی سیاسی پوزیشن مستحکم کرسکتی ہے۔ وفاقی حکومت کو مسلسل چیلنج کرکے تعطل اور بحران کی کیفیت کو برقرار رکھا جاسکتا ہے تاکہ عوام کی مایوسی کو اپنی طاقت بناکر موجودہ حکومتی اتحاد میں شامل جماعتوں کو شکست دی جاسکے۔ اسی لئے راولپنڈی میں اسمبلیاں توڑنے کا دوٹوک اعلان کرنے کی بجائے ، غیر واضح الفاظ میں موجودہ ناقص نظام کو چھوڑنے کی بات کی گئی لیکن نہ اسمبلیاں توڑنے کا اعلان ہؤا اور نہ ہی یہ واضح کیا گیا کہ کسی اصلاحی ایجنڈے کے بغیر نظام کیوں کر اس قابل ہوجائے گا کہ تحریک انصاف دوبارہ اس کا حصہ بننے پر آمادہ ہوجائے؟ اسی سے واضح ہوتا ہے کہ یہ ایک سیاسی اسٹنٹ ہے جس سے سرکاری پارٹیوں کو مسلسل دفاعی پوزیشن میں رکھ کر عمران خان عوام کو یہ یقین دلانا چاہتے ہیں کہ حکومتی اتحاد اپنی نااہلی کی وجہ سے ملکی مسائل میں اس حد تک اضافہ کرچکا ہےکہ وہ کسی صورت عوام کا سامنا کرنے کا حوصلہ نہیں کرسکتا ۔ اسی لئے انتخابات سے گریز کی حکمت عملی اختیار کی جارہی ہے۔
آصف زرادری نے اپنے انٹرویو میں بالواسطہ طور سے اعتراف کیا ہے کہ فوری انتخابات کا اتحادی پارٹیوں کو فائیدہ نہیں ہے۔ لیکن وہ منجھے ہوئے سیاست دان ہونے کے باوجود یہ سمجھنے سے قاصر دکھائی دیتے ہیں کہ اپریل میں تحریک انصاف کی حکومت ختم کرکے اتحادی حکومت قائم کرنے کے بعد سے حکومتی جماعتیں مسلسل عمران خان کے تیارکئے ہوئے سیاسی جال میں پھنسی ہوئی ہیں۔ ان کی کل سیاست رد عمل کی سیاست ہے۔ وزیر اعظم سے لے کر پارٹی سطح تک کے لوگ یہ انتظار کرتے ہیں کہ عمران خان کیا بیان دیتے ہیں اور ان کا آئینہ قدم کیا ہوگا۔ پھر اس کے مطابق تبصروں کا آغاز ہوجاتا ہے۔ عمران خان کی اسی حکمت عملی کی وجہ سے پورا حکومتی اتحاد دو اڑھائی ماہ تک ایک ایسی تعیناتی کے بارے میں ہیجان خیز صورت حال پیدا کرنے میں درحقیقت عمران خان کا ’معاون‘ بنا رہا جس کے بارے میں واضح تھا کہ یہ وزیر اعظم کا استحقاق ہے اور کوئی اس سے انکار نہیں کرسکتا۔ اس کے باوجود حکومتی ترجمانوں نے ضروری سمجھا کہ وہ اس بحث کو اتنی شدت سے آگے بڑھائیں کہ دیگر تمام مسائل پس منظر میں چلے جائیں۔
یہ درست ہے کہ اپریل میں اقتدار سے علیحدہ ہونے کے بعد سے عمران خان اپنا کوئی مطالبہ تسلیم نہیں کرواسکے۔ وہ آرمی چیف کی تعیناتی پر اثر انداز نہیں ہوسکے اور نہ ہی جلد انتخابات کا مطالبہ مانا گیا ہے۔ اب بھی غیر واضح ہے کہ حکومت کب نئے انتخابات کا اعلان کرتی ہے۔ تاہم ان ناکامیوں کو اسی وقت عمران خان کی پسپائی کہا جائے گا اگر یقین سے کہا جاسکے کہ عمران خان واقعی کسی خاص جنرل کو آرمی چیف بنوانے کی خواہش رکھتے تھے یا جلد انتخابات کروانا ہی ان کی حقیقی حکمت عملی ہے۔ یہ قیاس بھی تو کیا جاسکتا ہے کہ وہ یہ نعرے محض حکومت کو بدحواس رکھنے اور مسلسل سیاسی دفاعی پوزیشن میں رکھنے کے لئے بلند کرتے ہوں۔ انہیں اگر آج ہونے والے انتخابات میں اپنی کامیابی کا پورا یقین ہے تو انہیں یہ اندازہ بھی ہونا چاہئے کہ موجودہ سیاسی صورت حال میں سال بھر بعد منعقد ہونے والے انتخابات میں تحریک انصاف کی کامیابی کے زیادہ امکانات ہوسکتے ہیں۔ اس پہلو سے غور کرتے ہوئے یہ بھی پیش نظر رہنا چاہئے کہ عمران خان خواہ کیسے بھی لیکن پنجاب حکومت پر قبضہ قائم کرنے میں کامیاب ہوگئے تھے۔ یہ اندازہ درست ہوسکتا ہے کہ عمران خان شاید پنجاب کی حکومت سے محروم ہونے کا خطرہ مول نہیں لیں گے لیکن وہ وفاقی حکومت اور مد مقابل سیاسی پارٹیوں کو مسلسل ہراساں کرنے میں پوری طرح کامیاب ہیں۔ ان کی یہی حکمت عملی درحقیقت کسی بھی عام انتخاب میں تحریک انصاف کی کامیابی کی راہ ہموار کرے گی۔
موجودہ اتحادی حکومت دو نعروں کی بنیاد پر قائم کی گئی تھی۔ اوّل: تحریک انصاف نے ملکی معیشت کو تباہی کے کنارے پہنچا دیا تھا، اس لئے قومی مفاد کا تقاضہ تھا کہ عمران خان کو اقتدار سے محروم کرنے کے بعد ذمہ داری قبول کی جائے اور معاشی مسائل کا مناسب حل تلاش کیا جائے۔ دوئم:قومی مقصد کے لئے ملک کی باگ ڈور سنبھالنے سے اتحادی پارٹیوں کو سیاسی نقصان ضرور ہؤا ہے لیکن ملک و قوم کے وسیع تر مفاد میں آگے بڑھ کر متبادل قیادت فراہم کرنا تمام سیاسی پارٹیوں کی ذمہ داری تھی۔ اسی لئے انہوں نے اختلافات کے باوجود ایک مشترکہ پلیٹ فارم بناکر آگے بڑھنے کا فیصلہ کیا۔ یہ بھی اسی ایجنڈے کا حصہ تھا کہ انتخابات 2023 کے آخر میں مقررہ وقت پر ہوں گے اور اس مختصر مدت میں پوری جان فشانی سے قومی تعمیر کا کام کیا جائے گا۔
حکومتی اتحاد کے اس دو نکاتی ایجنڈے کی روشنی میں اگر اس کی حکومت کے آٹھ ماہ کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو اس میں آئی ایم ایف سے معاہدہ کرنے کے علاوہ کوئی دوسری قابل ذکر کامیابی دکھائی نہیں دیتی۔ ایک خاص ہیجان کے ماحول سے نکلنے کے بعد کوئی بھی پاکستانی حکومت بہر صورت آئی ایم ایف سے مالی معاونت کا معاہدہ کرنے پر مجبور ہوتی۔ یعنی اگر عمران خان تحریک عدم اعتماد سے بچ جاتے تو ان کی حکومت کو بھی آئی ایم ایف ہی کے پاس واپس جانا تھا اور ان تمام اقدامات کو واپس لینا پڑتا جو ایک خاص ماحول میں سیاسی ہتھکنڈے کے طور پر کئے گئے تھے۔ شہباز حکومت نے بس یہ کارنامہ سرانجام دیا کہ عمران خان کا بوجھ اپنے سر پر اٹھا لیا۔ اور جو سیاسی قیمت تحریک انصاف کو ادا کرنا پڑتی ، اسے خود ادا کرکے عمران خان کی مقبولیت کے لئے راہ ہموار کی ۔ جہاں تک قومی تعمیر اور ملکی معیشت کی بحالی کا تعلق ہے، اس کے بارے میں کوئی پیش رفت دکھائی نہیں دیتی۔
عمران خان نے اقتدار سے محروم ہونے کے بعد سادہ حکمت عملی اختیار کی کہ انہیں ملکی خبروں میں سر فہرست رہنا ہے۔ انہوں نے یہ مقصد بوجوہ کامیابی سے حاصل کیا ہے۔ حکومتی پارٹیاں مسلسل اسی سمت بگٹٹ دوڑنا شروع کردیتی ہیں جس طرف عمران خان اشارہ کرتے ہیں۔ لیکن تھوڑی مدت بعد وہ ایک نیا حربہ آزماتے ہیں اور حکومت کو ایک نیا ’مقصد‘ مل جاتا ہے۔ اس طریقہ سے حکومتی پارٹیوں نے درحقیقت تحریک انصاف کی سیاست اور عمران خان کی حکمت عملی کو کامیاب کیا ہے۔ حکومت نے قومی تعمیر کے بڑے مقصد کی طرف اشارہ کیا تھا لیکن دیکھا جاسکتا ہے کہ ملک مسلسل سیاسی انتشار کا شکار ہے۔ سیاسی اختلافات ، ذاتی لڑائیوں سے ہوتے ہوئے ایک دوسرے کے لئے نفرت کا سبب بن رہے ہیں۔ عمران خان نے طے کیا ہے کہ یہ نفرت انتخابات میں ان کی قوت میں اضافہ کرے گی۔ اسی لئے وہ اسے تیز تر کرنے میں کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ یہ دکھائی نہیں دیتا کہ حکومتی پارٹیوں نے اس ایک نکاتی سیاسی ایجنڈے کا مقابلہ کرنے کے لئے کیا حکمت عملی تیار کی ہے۔
آصف زرداری پنجاب اور خیبر پختون خوا میں عدم اعتماد لانے کا شوق پورا کرلیں یا اس امید پر دیے روشن کرتے رہیں کہ عمران خان اسمبلیاں توڑنے کا حوصلہ نہیں کریں گے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی شہباز شریف اور اتحادی حکومت کے دیگر ساتھیوں کو یہ بھی بتائیں کہ انتخابات میں عمران خان کا مقابلہ کرنے کے لیے انہیں متبادل سیاسی ایجنڈا تیار کرنا ہوگا۔ عمران خان کے راستے پر چل کر وہ انہی کے ہاتھ مضبوط کریں گے۔ ابھی تک تمام مباحث عمران خان سے شروع ہوکر انہی پر ختم ہوتے ہیں۔ پھر عام ووٹر حکومتی پارٹیوں کو کیسے اور کیوں خاطر میں لائے گا؟