متنازع ٹوئٹس کیس: اعظم سواتی کو کوئٹہ پولیس نے تحویل میں لے لیا

  • جمعہ 02 / دسمبر / 2022

پاکستان تحریک انصاف نے دعویٰ کیا ہے کہ جیل میں بند پارٹی کے سینیٹر اعظم سواتی کو کوئٹہ پولیس نے اسلام آباد سے اپنی تحویل میں لے لیا ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز ہی اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے متنازع ٹوئٹ کے کیس میں گرفتار سینیٹر اعظم سواتی کو 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دے دیا تھا۔ سابق وزیر اعظم عمران خان نے ایک ٹوئٹ میں کہا کہ اعظم سواتی کو سینے میں شدید درد اور سانس لینے میں دشواری کے بعد آج صبح پمز (پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز) منتقل کیا گیا تھا۔

پی ٹی آئی چیئرمین نے دعویٰ کیا کہ جب ٹیسٹ کی رپورٹس کا انتظار کیا جا رہا تھا تو کوئٹہ پولیس نے انہیں ہسپتال سے ڈسچارج کرایا اور ان کی جان کو خطرے میں ڈالتے ہوئے انہیں اپنے ساتھ لے گئی۔ سابق وزیر اعظم نے پی ٹی آئی سینیٹر کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا افسوس ہے کہ ہمارا نظام انصاف اعظم سواتی کے بنیادی انسانی حقوق کی بار بار خلاف ورزیوں کو روکنے کے لیے تیار نہیں۔

سابق وفاقی وزیر اور تحریک انصاف کے مرکزی جنرل سیکریٹری اسد عمر نے اعظم سواتی کی گرفتار کی مذمت کرتے ہوئے کہا  کہعدالتی فیصلہ اور میڈیکل رپورٹس آنے سے قبل ہی اعظم سواتی کو بلوچستان پولیس کے حوالے کیا جانا شرمناک ہے۔

دوسری جانب سے کوئٹہ پولیس نے تاحال اس معاملے پر کوئی رد عمل نہیں دیا۔ ڈان ڈاٹ کام کی جانب سے بھی کوئٹہ پولیس سے رابطہ کیا گیا لیکن تاحال سینیٹر اعظم سواتی کو منتقل کیے جانے کی تصدیق نہیں کی گئی۔ یاد رہے کہ گزشتہ روز سینیٹر اعظم سواتی کو 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجا گیا تھا۔ ایف آئی اے کی جانب سے ریمانڈ ختم ہونے سے قبل ہی اعظم سواتی کو جوڈیشل ریمانڈ پر بھیجنے کے لیے جمع کی گئی درخواست منظور کرتے ہوئے عدالت نے اعظم سواتی کو 15 دسمبر کو دوبارہ پیش کرنے کی ہدایت کی تھی۔