حکومت ہمارے ساتھ بات کرے، ورنہ اسمبلیاں توڑ دیں گے: عمران خان

  • جمعہ 02 / دسمبر / 2022

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ یہ الیکشن کا کا نام نہیں لیتے، یہ الیکشن سے ڈرے ہوئے ہیں۔ ہم ان کو موقع دیتے ہیں، ہمارے ساتھ بیٹھیں ورنہ ہم اسمبلیاں توڑ دیں گے۔

پنجاب کی پارلیمانی پارٹی سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ہر پاکستانی کو فکر مند ہونا چاہیے۔ یہ ایسے حالات پیدا کر رہے ہیں کہ جب یہ جائیں گے، ایسے حالات ہو جائیں گے کہ جو بھی حکومت آئے گی وہ سنبھال نہیں سکے گی۔ یہ ملک کو ڈیفالٹ کی طرف لے کر جارہے ہیں، اگر کوئی بیل آؤٹ بھی کرے گا تو پاکستان کی نیشنل سیکیورٹی خطرے میں پڑ جائے گی۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ باہر سے لوگ پاکستان میں نہ سرمایہ کاری کریں گے، نہ باہر کے کمرشل بینکس پاکستان کو قرضے دیں گے کیونکہ پاکستان کے ڈیفالٹ کا خطرہ 100 فیصد سے بڑھ گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے اسمبلیوں کو تحلیل کرنے کا ٖفیصلہ کیا ہے۔ ہمارے ملک کی اس وقت جلدی سے الیکشن میں جانے کی ضرورت ہے۔ جب مستحکم حکومت آئے گی، باہر اور ملک میں مارکیٹس کو اعتماد ہوگا کہ حکومت 5 سال کے لیے آ گئی ہے، پھر لوگ منصوبہ بندی کریں گے۔

چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ دوسرا مسئلہ صوبوں کے اندر ہے۔ پنجاب میں 176 ارب روپے وفاق نے دینے تھے جو انہوں نے نہیں دیے، خیبرپختونخوا ایک چھوٹا سا صوبہ ہے، وفاق نے 120 ارب روپے دینے تھے، وہاں پر بھی شارٹ فال آ گیا۔ اسی طرح گلگت بلتستان کے وزیراعلیٰ اور آزاد کشمیر کے وزیراعظم کہہ رہے ہیں کہ وفاق پیسے نہیں دے رہا، میں نے سنا ہے کہ بلوچستان میں بھی یہی مسئلہ ہے۔

ایک طرف تو ملکی معیشت نیچے جارہی ہے تو دوسری طرف صوبوں کے اندر بحران آ گیا ہے۔ صوبائی حکومتوں کے اگر پروجیکٹس ہی پورے نہیں ہوں گے تو ہم پرفارمنس کیسے دکھائیں گے؟ صوبوں میں ایک دوسرا خوف آ گیا ہے۔ سب کچھ دیکھتے ہوئے فیصلہ کیا تھا کہ یا تو یہ ہمارے ساتھ بیٹھیں اور یہ سوچ لیں کہ اگر ہم پنجاب اور خیبرپختونخوا کی اسمبلیاں تحلیل کرتے ہیں تو تقریباً 66 فیصد پاکستان میں انتخابات ہوں گے۔ باقی کام ویسے ہی رک جائے گا، پی ڈی ایم کی 13 جماعتوں نے بھی الیکشن میں نکل جانا ہے۔ اس طرح وفاقی حکومت تو فریز (منجمد) ہوگئی۔

اب یا تو ہمارے ساتھ بیٹھیں، بات کریں، ہمیں عام انتخابات کی تاریخ دیں۔ نہیں تو پھر ہم اپنی اسمبلیاں تحلیل کردیں گے۔ ہم آپ کو یہ موقع دے سکتے ہیں کہ ہمارے ساتھ بیٹھیں، کیا آپ یہ چاہتے ہیں کہ صرف 66 فیصد پاکستان میں انتخابات ہوں اور آپ وفاق میں بیٹھے رہیں۔ ہم نے بڑی کوشش کی ہے یہ انتخابات کا نام ہی نہیں لیتے، صرف ایک وجہ ہے کہ ان کو ڈر لگا ہوا ہے کہ جیسے ہی الیکشن ہوں گے، یہ پٹ جائیں گے۔ اور اس کے لیے ان کو ملک کی کوئی فکر نہیں ہے۔