قومی سیاست و معیشت کے دگرگوں حالات: اللہ خیر کرے

قومی سیاست پر پڑنے والے بے یقینی کے سائے دو اعلیٰ سطحی تعیناتیوں کے بعد ہٹ جانے کی امید کی جا رہی تھی کیونکہ عمران خان پہلے اپنی مرضی کا آرمی چیف لگانے کے لئے کاوشیں کرتے رہے تھے ۔لیکن جب انہیں یقین ہونے لگا کہ ان کی خواہش پوری نہیں ہونے والی تو انہوں نے متوقع چیف کی تعیناتی میں رکاوٹیں ڈالنے کی حکمت عملی اختیار کی۔

 کبھی کہا گیا کہ جنرل باجوہ کو ایک سال کی توسیع دے دی جائے تاکہ منتخب حکومت اقتدار میں آکر مستقل چیف لگانے کا فیصلہ کرے۔ جب انہیں اس مہم جوئی کا نتیجہ بھی نکلتا ہوا نظر نہ آیا تو انہوں نے ”کسی بھی آرمی چیف کی تعیناتی“ کا بیانیہ اپنا لیا لیکن حکومت یا بڑوں پر دباؤ برقرار رکھا۔ عین چیفس کی تعیناتی کے متوقع اعلان کے دن انہوں نے راولپنڈی میں مارچ کی قیادت کا دبنگ اعلان کر دیا۔ راولپنڈی میں خیمہ بستی کے قیام سے لگ رہا تھا کہ عمران خان راولپنڈی میں طویل قیام کا ارادہ رکھتے ہیں اور پھر شاید اسلام آباد یاترا کے ساتھ ہی وہ حکومت کو مفلوج کرکے عام انتخابات کے اعلان پر مجبور کرنے کی کامیاب حکمت عملی پر عمل پیرا ہونے والے ہیں۔

معاملات اسی سمت جاتے نظر آ رہے تھے کیونکہ اعلیٰ سطحی تعیناتیوں کے اعلان کے بعد ان کے پاس اپنی احتجاجی سیاست کو آگے بڑھانے کا اس کے علاوہ اور کوئی دوسرا راستہ نظر نہیں آ رہا تھا۔26 مئی کے ناکام لانگ مارچ کے بعد ان کی ”لوگوں کا سمندر“ اور ”لاکھوں کا مجمع“ اکٹھا کرنے کی احتجاجی سیاست کے غبارے سے ہوا نکلتی دکھائی دے رہی تھی۔ انہوں نے اس بات کا اعتراف بھی کیا تھا کہ 25مئی کو تیاری کے بغیر میدان میں اترے تھے لیکن اب وہ بھرپور تیاری کے ساتھ آئیں گے۔ اس کے بعد عمران خان نے عوامی اجتماعات کی ایک سیریز شروع کی لیکن عمومی تاثر یہی پیدا ہوا کہ ”عوام کا سمندر“ کہیں نظر نہیں آیا۔ یہی وجہ ہے کہ وزیرآباد کے واقع کو بنیاد بنا کر انہوں نے اپنی حکمت عملی بدلی اور فیس سیونگ کی کاوشیں شروع کر دیں لیکن راولپنڈی کے جلسے / مارچ میں عوام کی مطلوبہ تعداد نہ آ سکی اور عمران خان کو مجبوراً بدحواسی میں اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کا اعلان کرکے فیس سیونگ کرنا پڑی۔

 اس کے بعد انہوں نے مشاورت شروع کی کہ اب کیا کرنا ہے۔ پنجاب اور کے پی کی اسمبلیاں توڑنی ہیں یا صرف اسمبلیوں سے مستعفی ہونا ہے اعلان کے بعد اس مسئلے پر بحث و مشاورت کا آغاز ہوا۔ دوتعیناتیوں کے بعد بے یقینی کے بادل چھٹنے کی جو امید پیدا ہونے لگی تھی وہ ختم ہو چکی ہے ہماری سیاست پر بے یقینی کے بادل ایک بار پھر سایہ فگن ہو چکے ہیں۔ عمران خان اپریل 2022 میں اقتدار چھن جانے کے بعد مسلسل بیانیے بناتے اور بدلتے آ رہے ہیں۔ ان کی عوامی پذیرائی اور سٹریٹ پاور کا زعم بھی ڈھل چکا ہے ۔اب انہوں نے نظام کو معطل کرنے کے لئے جو حکمت عملی اختیار کی ہے وہ خاصی خطرناک ہے۔ خطرناک اس حوالے سے کہ وہ جو کچھ کہہ رہے ہیں اور جو کچھ کرنا چاہتے ہیں،  اگر کر گزرے اور اس میں کامیاب بھی ہو گئے تو نظم و نسق ایک نئی ابتری کا شکار بھی ہو سکتا ہے اور اگر وہ صرف بیانیے کی حد تک کھیلتے ہیں تو نظام پر چھائی بے یقینی کے بادل گہرے رہیں گے۔ نظام جو پہلے ہی جمود کا شکار ہے عزومعطل بنا رہے گا۔ حکومتی کارکردگی اور حکمت عملی اپنی اثر پذیری دکھانے میں کامیاب نہیں ہو سکے گی۔

عمران خان اپنے ساڑھے تین سالہ دورِ حکمرانی میں بھی منفی اور تخریبی سیاست کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے عوام کو ریلیف دینے اور ملکی معیشت کو آگے بڑھانے کی کوئی سنجیدہ کاوش نہیں کی۔ لنگر خانے، پناہ گاہیں اور اسی طرح کی شوبازیوں کے علاوہ انہوں نے کچھ بھی نہیں کیا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ قومی معیشت بدحالی کا شکار ہوتی چلی گئی۔ اپریل میں اتحادیوں نے جب حکومت سنبھالی تو معاملات ابتر نہیں ابتر ترین حالت کا شکار ہو چکے تھے۔ سیاسی ماہرین کے مطابق اتحادیوں کا تحریک عدم اعتماد کے ذریعے عمران خان کو ایوانِ اقتدار سے رخصت کرکے حکومت سنبھالنے کا فیصلہ قطعاً درست نہیں تھا۔ عمران خان عوامی پذیرائی کھو چکے تھے ان کی مقبولیت کا گراف صفر نہیں بلکہ منفی ہو چکا تھا ۔ایسے میں اگر انہیں مدت پوری کرنے دی جاتی تو عام انتخابات 2023میں ان کی جماعت کا صفایا ہو جاتا لیکن اتحادیوں نے بقول خود سیاست نہیں ریاست بچانے کے لئے ایسا کیا۔ کیونکہ پاکستان معاشی بربادی کی تمام حدود کراس کر چکا تھا سفارتی سطح پر بھی تنہائی کا شکار تھا۔ اگر معاملات کو ایسے ہی آگے بڑھنے دیا جاتا تو تباہی یقینی تھی۔ بہرحال اتحادیوں نے جو فیصلہ کیا وہ اپنی جگہ لیکن ایک بات طے ہے کہ عمران خان کی منفی سیاست اب بھی جاری و ساری ہے۔ ویسے وہ اپنی احتجاجی سیاست اور منفی اندازِ فکر و عمل کے باعث ریاست کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ قومی سیاست پر چھائے ناامیدی اور نامرادی کے سائے چھٹتے نظر نہیں آ رہے ہیں۔

ایسی سیاسی صورت حال میں قومی معیشت بدحالی کا شکار ہے افراطِ زر کا کوئی حساب کتاب ہی نہیں ہے۔ قدرزر میں شدید گراوٹ ہے، ڈالر کی مانگ اور رسد میں شدید بگاڑ ہے۔ ہمارے پاس زرمبادلہ کے ذخائر خوفناک حد تک کم ہو چکے ہیں۔ ہمارے پاس اپنی تین ماہ کی درآمدات کے لئے درکار زرمبادلہ نہیں ہے۔ اطلاعات ہیں کہ ادویات سازی میں درکار خام مال کی درآمد رک جانے کے باعث بہت سی انتہائی ضروری ادویات کی تیاری بند ہو چکی ہے۔ آٹو سیکٹر، ضروری آلات کی درآمد نہ ہونے کے باعث گراوٹ کا شکار ہے۔ ضروری اشیائے صرف کی درآمد میں کمی کے باعث ان کی قیمتوں میں خوفناک حد تک اضافہ ہو چکا ہے۔ پاکستان کے پاس قرضہ جات کی ادائیگی کے لئے درکار رقوم بھی موجود نہیں ہیں۔

 ہم اس سے پہلے بھی قرض ادائیگیوں کے لئے مزید قرض لیتے رہے ہیں ، اب ایسا زیادہ شد و مد کے ساتھ ہونا طے پا چکا ہے۔ صنعتی ترقی کا پہیہ رکنے لگا ہے، بے روزگاری بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ توانائی کا شعبہ شدید مسائل کا شکار ہے۔ بجلی، گیس اور پٹرولیم مصنوعات میں گردشی قرضے جان لیوا حدود کو چھونے لگے ہیں۔ معاشی معاملات قابو سے باہر ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ ویسے تو عالمی معیشت بھی مسائل کا شکار ہے۔ عالمی معیشت میں چھائی سرد بازاری کے باعث معاملات دگرگوں ہیں۔ یوکرائن کی جنگ نے بھی طوالت پکڑی ہے جس کے باعث اجناس اور توانائی کے وسائل کی رسد میں گڑ بڑ ہو گئی ہے اس سے عالمی معیشت کے بگاڑ میں اضافہ ہو گیا ہے۔

ایسے حالات میں قومی سیاست پر چھائی بے یقینی کی کیفیت ہمارے معاشی معاملات کو پوائنٹ آف نو ریٹرن کی طرف لے جا رہی ہے۔ معاشی ڈیفالٹ کی باتیں بلند آہنگ میں کی جا رہی ہیں۔ معاشی سرگرمیوں کی سرد بازاری اپنی جگہ پر موجود ہے، اشیائے ضروریہ کی گرانی اور بے روزگاری میں اضافے کے باعث عامتہ الناس کی زندگیاں اجیرن بن چکی ہیں۔ سردی کے موسم میں گیس کی قلت اور ایل پی جی و دیگر ذرائع توانائی ایندھن کی قیمتوں میں اضافے نے معاملات میں اور بھی بگاڑ پیدا کر دیا ہے۔حالات کی دلدل سے نکلنے کا کوئی راستہ فی الوقت دکھائی نہیں  دیتا ہے۔ اللہ خیر کرے۔

(بشکریہ: روزنامہ پاکستان)