اسلام آباد کا سینٹورس مال سیل کردیا گیا، سیاسی انتقام کے الزامات
اسلام آباد میں کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے خلاف قوانین استعمال پر نجی شاپنگ مال سینٹورس میں کارروائی کے دوران شاپنگ مال کے عملے اور سیکیورٹی گارڈ کو باہر نکال کر عمارت سیل کردی۔
سوشل میڈیا پر گردش کرتی ویڈیوز میں دیکھا جاسکتا ہے کہ مال کے چاروں اطراف خاردار تاریں لگا دی گئیں ہیں جبکہ پولیس کی بھاری نفری بھی تعینات ہے۔ دو دسمبر کو سی ڈی اے کی جانب سے ایک نوٹی فکیشن میں کہا گیا کہ عمارت کے خلاف قوانین استعمال کرنے پر مال کو سیل کرنے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔
نوٹی فکیشن کے مطابق سینٹورس مال انتظامیہ کو متعدد بار نوٹس جاری کرنے کے بعد عمارت کو سیل کیا گیا۔ متعدد بار نوٹسز کے باوجود عمارت کے غیر موافق استعمال اور سی ڈی اے قواعد کی خلاف ورزیاں جاری رہیں۔ مسلسل نوٹسز کے باجود سینٹورس مال انتظامیہ نے تعمیل نہیں کی۔ سی ڈی اے آرڈیننس 1960 کے تحت بلڈنگ کنٹرول ریگولیشن 2020 کے مطابق نجی مال کو سیل کرنے کا حکم جاری کیا گیا ہے۔
اس دوران آل پاکستان انجمن تاجران کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے شعبہ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے حکام نے رات گئے کارروائی کرتے ہوئے سینٹورس مال کے عملے کو باہر نکال کر عمارت کا ایک حصہ مکمل طور پر سیل کردیا ہے۔ آل پاکستان انجمن تاجران کے صدر اجمل بلوچ نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ رات کے اندھیرے میں سینٹورس مال سیل کرنا انتقامی کارروائی ہے۔ سیاسی انتقام لینے کے لیے روزگار بند کر دینا نامناسب طریقہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ مال سیل کرنے کا مشورہ دینے والوں نے وزیراعظم شہباز شریف کی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے۔ آل پاکستان انجمن تاجران کے صدرنے کہا کہ سینٹورس مال سے سینکڑوں تاجروں کا کاروبار وابستہ ہے۔ اگر بندش کی گئی تو ہزاروں ملازمین بے روز گار ہو جائیں گے۔ یہاں سینکڑوں لوگ رہائش پذیر بھی ہیں۔
اجمل بلوچ نے کہا کہ اسلام آباد کی تاجر برادری سینٹورس مال کے تاجروں کے ساتھ کھڑی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت عمارت کو فوری ڈی سیل کرنے کے احکامات جاری کرے۔ انجمن تاجران کے صدر نے حکومت کو خبردار کیا کہ سینٹورس مال کو ڈی سیل نہ کیا گیا تو جناح ایونیو بند کر دیں گے۔
دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف نے کہا کہ چونکہ سینٹورس مال کے مالک وزیراعظم آباد کشمیر سردار تنویر الیاس ہیں اس لیے مال کو سیل کرنے کا اقدام گزشتہ روز وزیراعظم شہباز شریف اور سردار تنویر الیاس کے درمیان ہونے والی تکرار کا نتیجہ ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف منگلا ڈیم پن بجلی کے یونٹ نمبر 5 اور 6 کی افتتاحی تقریب سے خطاب کر رہے تھے کہ وزیر اعظم آزاد کشمیر نے مداخلت کی اور پوچھا کہ آپ نے آزاد کشمیر کے لیے کون سے اقدام کیے؟ شہباز شریف نے وزیراعظم آزاد کشمیر کو اپنی سیٹ پر بیٹھنے کا کہا ۔ پس منظر سے سردار تنویر الیاس کو شہباز شریف سے شکایت کرتے سنا جاسکتا ہے کہ آپ نے تقریر کے دوران آزاد کشمیر کے لوگوں کی قربانیوں کا ذکر نہیں کیا۔
عمران خان نے ٹوئٹر پر ایک بیان میں کہا کہ کشمیریوں کی قربانیوں کا ذکر نہ کرنے پر وزیر اعظم آزادکشمیر کی جانب سے شہباز شریف کی سرزنش پر پی ڈی ایم مافیا کے ذریعے سینٹورس مال کا سیل کیا جانا ظاہر کرتا ہے کہ گزشتہ 8 ماہ سے پاکستان میں جنگل کا قانون رائج ہے۔
عمران خان کے ٹوئٹ کے جواب میں وزیراطلاعات اور پاکستان مسلم (ن) کی رہنما مریم اورنگزیب نے شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان، شہباز شریف کو نہ بتائے کہ کشمیر پر کیا کرنا ہے۔
خیال رہے کہ 9 اکتوبر کو سینٹورس مال میں آگ لگنے کا واقعہ پیش آیا تھا جس پر دو گھنٹوں بعد قابو پالیا تھا اور عمارت کو سیل کردیا گیا تھا۔ بعد ازاں نامعلوم ملزمان کے خلاف مقدمہ بھی درج کیا گیا تھا، واقعے کی تحقیقات کے لیے 7 رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی تھی۔
ابتدائی رپورٹ کے مطابق پہلے فوڈ کورٹ میں آگ لگی تھی اور پھر چاروں جانب پھیل گئی جس کے بعد ریسکیو اہلکاروں نے 14 فائر انجن اور ایک ہیلی کاپٹر کی مدد سے 2 گھنٹوں بعد آگ پر قابو پالیا اور عمارت کے اندر موجود تمام لوگوں کو بحفاظت باہر نکالا تھا۔
ڈپٹی کمشنر اسلام آباد نے بتایا تھا کہ عمارت میں فائر فائٹنگ آلات اور الارم کے فعال ہونے کے حوالے سے تحقیقات کرے گی۔ تحقیقاتی کمیٹی اس بات کا بھی جائزہ لے گی کہ انتظامیہ کی جانب سے آتشزدگی سے نمٹنے کے لیے کیا اقدامات کیے گئے تھے۔