آزاد میڈیا کسی بھی جمہوری نظام کا ایک اہم ستون ہے: وزیر اعظم
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ جمہوریت اور آزاد میڈیا ایک دوسرے کو تقویت دیتے ہوئے ساتھ چلتے ہیں۔ آزاد میڈیا کسی بھی جمہوری نظام کا ایک اہم ستون ہے۔
اسلام آباد میں سیفٹی جرنلسٹ فورم کے تحت تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ اس ملک میں آزادی اظہار رائے سول سوسائٹی، صحافیوں، پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے ساتھ ساتھ معاشرے کے دیگر اہم طبقات کے دل کے بہت قریب رہی ہے۔ حال ہی میں کینیا میں معروف صحافی ارشد شریف کا قتل انتہائی افسوس ناک ہے جس پر میں نے فوری کینیا کے صدر سے خود بات کی تھی اور وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے بھی کینیا کے متعلقہ حکام کے ساتھ رابطہ کیا اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں سے اس پر فوری کارروائی کا پابند کیا۔ ارشد شریف کے قتل کے حوالے سے چیف جسٹس پاکستان کو کمیشن تشکیل دینے کے لیے خط بھی لکھا تھا۔
انہوں نے کہا کہ اس موقع پر میں تسلیم کرتا ہوں کہ پاکستانی جرنلسٹس سیفٹی کولیشن کا مقصد صحافیوں کی حفاظت، تحفظ اور ان کی ذمہ داری کو فروغ دینا ہے۔ جمہوریت اور آزاد میڈیا ایک دوسرے کو تقویت دیتے ہیں اور ساتھ ساتھ چلتے ہیں، پاکستان میں 33سال مارشل لا رہا لیکن گھٹن اور تلخ تاریخ کے باوجود پاکستان جمہوریہ ہے اور ہمیشہ رہے گا۔
وزیر اعظم نے کہا کہ 1973 کا آئین ہماری سیاسی قیادت کے اتفاق رائے کا نتیجہ ہے اور باہمی اختلافات اور اندرونی مسائل کے باوجود وہ ایک اہم مقصد کے لیے اکٹھے ہوئے اور ایک ایسا آئین بنایا جو آج بھی پاکستان کی وفاق کے لیے ایک طاقت ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایک متحرک اور آزاد میڈیا کے اظہار رائے کی آزادی کے اصول اور معلومات کی آزادی کسی بھی جمہوری نظام کا ایک اہم ستون ہیں۔ میری حکومت اس بات پر پختہ یقین رکھتی ہے کہ یہ آزادی اور حقوق جمہوریت کی ترقی کے لیے اہم ہیں اس لیے ہم ان تمام کوششوں کی حمایت کرنے کے لیے پرعزم ہیں جو اس کو فروغ دیتے ہیں اور ان روشن اصولوں کو برقرار رکھتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال پاکستان کی پارلیمنٹ نے تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد صحافیوں کے تحفظ اور میڈیا پروفیشن ایکٹ منظور کیا تھا اور یہ قانون پارلیمنٹ نے متفقہ طور پر منظور کیا تھا۔ شہباز شریف نے کہا کہ حامد میر نے اعتراض کیا تھا کہ اس ایکٹ میں سیکشن 6 غلطی سے شامل کیا گیا تھا لہٰذا میں اس پر غور کروں گا اور صحافیوں سے مشاورت بھی کروں گا۔
انہوں نے کہا کہ میں اس بات کو تسلیم کرتا ہوں کہ ابھی بھی صحافیوں کو اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی میں بہت سے چیلنجز کا سامنا ہے۔ اس کے لیے ریاست، میڈیا اور سول سوسائٹی، پارلیمان اور دیگر اداروں کے تعاون کی ضرورت ہے۔ اسی سے پاکستان سمیت دنیا بھر میں صحافیوں کے خلاف جرائم کو روکا جا سکتا ہے۔