سپریم کورٹ نے ارشد شریف قتل کا مقدمہ آج رات تک درج کرنے کا حکم دے دیا
چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے صحافی ارشد شریف کے بہیمانہ قتل کے ازخود نوٹس پر سماعت کے دوران حکومت کو آج رات تک قتل کا مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا ہے۔
چیف جسٹس کی سربراہی میں جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس سید مظاہر علی اکبر نقوی اور جسٹس محمد علی مظہر پر مشتمل لارجر بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران سیکریٹری خارجہ اسد مجید، ڈی جی ایف آئی ایف محسن بٹ، سیکریٹری اطلاعات شاہیرہ شاہد، پی ایف یو جے کے صدر افضل بٹ، ڈی جی آئی بی، سیکریٹری داخلہ، صدر پی یو ایف جے سپریم کورٹ پہنچے۔
سماعت کے آغاز پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ جب رپورٹ آئی تو وزیر داخلہ فیصل آباد میں تھے۔ رانا ثنا اللہ کے دیکھنے کے بعد رپورٹ سپریم کورٹ کو دی جائے گی۔ اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ کیا وزیرِداخلہ نے رپورٹ تبدیل کرنی ہے؟ وزیر داخلہ کو ابھی بلا لیتے ہیں، تحقیقات کرنا حکومت کا کام ہے۔ عدالت کا نہیں۔ تحقیقاتی رپورٹ تک رسائی سب کا حق ہے۔ صحافی قتل ہوگیا، سامنے آنا چاہیے کہ کس نے قتل کیا۔
چیف نے اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کو واپس آئے کافی عرصہ ہوگیا۔ ارشد شریف کی والدہ کے خط پر انسانی حقوق سیل کام کر رہا ہے۔ حکومتی کمیشن کی حتمی رپورٹ تاحال سپریم کورٹ کو کیوں نہیں ملی؟ یہ کیا ہو رہا ہے، رپورٹ کیوں نہیں آرہی؟ عدالت عظمیٰ نے ارشد شریف قتل کیس کی رپورٹ کو آج ہی سپریم کورٹ میں جمع کروانے کی ہدایت کی۔
عدالت نے کہا کہ ارشد شریف کی میڈیکل رپورٹ غیر تسلی بخش ہے۔ معاملے کو سنجیدگی سے لے رہے ہیں۔ 5 رکنی بینچ حالات کی سنگینی کی وجہ سے ہی تشکیل دیا ہے۔ صحافیوں کے ساتھ کسی بھی صورت بدسلوکی برداشت نہیں کی جائے گی۔ کوئی غلط خبر دیتا ہے تو اس حوالے سے قانون سازی کریں۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے پوچھا کہ کیا یہ درست ہے کہ قتل کا مقدمہ نہ کینیا میں درج ہوا نہ پاکستان میں؟
عدالت نے دفتر خارجہ سے کینیا میں تحقیقات اور مقدمہ درج ہونے سے متعلق کل تک جواب مانگ لیا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ارشد شریف کے قتل کا مقدمہ درج کیوں نہیں ہوا؟ سیکریٹری داخلہ نے کہا کہ فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ کا جائزہ لے کر مقدمہ درج کرنے کا فیصلہ ہوگا۔ جسٹس مظاہر نقوی نے کہا کہ کیا مقدمہ درج کرنے کا یہ قانونی طریقہ ہے؟ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ مقدمہ درج کیے بغیر تحقیقات کیسے ہوسکتی ہیں؟
چیف جسٹس نے کہا کہ صحافی سچائی کی آواز ہیں۔ انسانی زندگی کا معاملہ ہے، ارشد شریف نامور صحافی تھے۔ صحافی ہی معلومات کا ذریعہ ہیں، قتل سے متعلق عوام کو بہت خدشات ہیں۔ ارشد شریف قتل کے تمام حقائق کو سامنے لانا ہوگا۔ ارشد شریف کے قتل پر کس کس پر انگلی نہیں اٹھائی گئیں۔
جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ کیا کینیا والے اپنی رپورٹ شیئر کریں گے؟ اس دوران صدر پی ایف یو جے افضل بٹ نے کہا کہ 2 ہفتے قبل ایک درخواست دی گئی،۔ ارشد شریف قتل سے متعلق قوم سپریم کورٹ کی جانب دیکھ رہی ہے۔ جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ معاملے میں وزارت خارجہ کا کردار سب سے اہم ہے۔ عدالت عظمیٰ نے متعلقہ حکام کو آج رات تک ارشد شریف کے قتل کا مقدمہ درج کرنے کا حکم دیتے ہوئے انکوائری رپورٹ آج ہی جمع کرانے کا حکم دیا اور کیس کی مزید سماعت کل تک ملتوی کردی۔
قبل ازیں آج صبح ہی سپریم کورٹ نے ارشد شریف قتل کا از خود نوٹس لیا تھا۔ یہ پیشرفت پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کی جانب سے چیف جسٹس پاکستان کو خط لکھنے کے 3 روز بعد سامنے آئی ہے۔ اپنے خط میں عمران خان نے استدعا کی تھی کہ چیف جسٹس صحافی ارشد شریف کے قتل کی آزادانہ جوڈیشل انکوائری کرائیں۔
واضح رہے کہ معروف صحافی و سینیئر اینکر پرسن ارشد شریف کو 24 اکتوبر کو کینیا میں گولی مار کر قتل کردیا گیا تھا۔ سپریم کورٹ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ملک کی صحافی برادری اور عوام کی بڑی تعداد سینئر صحافی ارشد شریف کی اندوہناک موت پر شدید غمزدہ اور تشویش میں مبتلا ہے اور عدالت سے معاملے کی تحقیقات کا مطالبہ کر رہی ہے۔
چیف جسٹس نے سیکریٹری داخلہ، سیکریٹری خارجہ، سیکریٹری اطلاعات و نشریات، ڈی جی ایف آئی اے، ڈی جی آئی بی اور صدر پی ایف یو جے کو نوٹس جاری کرتے ہوئے مقدمے کی سماعت مقرر کی تھی۔
یاد رہے کہ عمران اور پی ٹی آئی کے دیگر رہنما معروف صحافی کی ٹارگٹ کلنگ کی تحقیقات کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔ وہ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ارشد شریف کو پہلے پاکستان اور پھر متحدہ عرب امارات بھی چھوڑنے پر مجبور کیا گیا جہاں وہ کینیا جانے سے قبل کچھ وقت کے لیے ٹھہرے تھے۔ تاہم دفتر خارجہ نے ان دعوؤں کو مسترد کر دیا تھا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے گزشتہ ماہ اعلان کیا تھا کہ معاملے کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن بنایا جائے گا اور بعد ازاں انہوں نے چیف جسٹس کو بھی اس حوالے سے خط لکھا تھا۔ ارشد شریف کی والدہ نے بھی 2 نومبر کو چیف جسٹس کو ایک خط لکھا تھا جس میں قتل کی تحقیقات کے لیے اعلیٰ اختیارات کے حامل عدالتی کمیشن کی تشکیل کی درخواست کی گئی تھی۔