صحافیوں کی حفاظت کے علاوہ ان سے امتیازی سلوک بند کیاجائے
- تحریر سید مجاہد علی
- منگل 06 / دسمبر / 2022
پاکستانی صحافیوں کے لئے خوشی کا سبب ہونا چاہئے کہ وزیر اعظم کے علاوہ سپریم کورٹ نے صحافیوں کی حفاظت کو اہم مقصد قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ اس بارے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا جائے گا۔ متعدد عالمی رپورٹوں کے مطابق پاکستان صحافیوں کے لئے خطرناک ترین ممالک میں شامل ہوتا ہے۔ ابھی تک تو یہی دیکھا گیا ہے کہ بلند بانگ دعوؤں کے باوجود صحافیوں کو پیشہ وارانہ آزادی حاصل نہیں ہے۔ اگر حکومتی پابندیاں نہ ہوں تو گروہی مفادات کہ وجہ سے خود مختارانہ رائے رکھنے والے صحافیوں کو ہراساں کیا جاتا ہے۔
وزیر اعظم شہباز شریف کی اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ آزادی رائے کی حفاظت کے بغیر کوئی جمہوری نظام ترقی نہیں کرسکتا۔ تاہم اس کے ساتھ ہی یہ سوال کرنے کی جسارت بھی ضروری ہے کہ حکومت کے نزدیک آزادی رائے کیا ہے۔ اس وقت تحریک انصاف سے ہمدردی رکھنے والے متعدد صحافی ا ور ادارے حکومتی دباؤ کی شکایت کرتے ہیں۔ اپریل میں حکومت تبدیل ہونے سے پہلے تحریک انصاف کے خلاف بات کرنے والے صحافیوں اور میڈیا گروپس کو پریشانی اور مشکلات کا سامنا تھا۔ گویا صحافیوں کو ہراساں کرنے کے ہتھکنڈوں میں تو کوئی تبدیلی نہیں آئی لیکن اب سرکاری اداروں کا ٹارگٹ تبدیل کردیا گیا ہے۔ یہ صورت حال آزادی رائے یا صحافیوں کی آزادی کے نقطہ نظر سے قابل تحسین نہیں ہے۔ اسے وزیر اعظم کی ایک تقریر سے تبدیل نہیں کیا جاسکتا۔
حکومت اگر آزادی رائے کو یقینی بنانے کے لئے صحافیوں کو ترجیحی بنیادوں پرحفاظت فراہم کرنا چاہتی ہے تو اسے مناسب قانون سازی کے ذریعے یہ طے کرنا ہوگا کہ صحافیوں کو کسی سرکاری ادارے یا ان کے آجر کی طرف سے پیشہ وارانہ خدمات انجام پر پریشان نہ کیا جائے۔ ہر صحافی کو واقعاتی رپورٹنگ کے علاوہ تحقیقاتی جرنلزم کے لئے مناسب سہولتیں اور مواقع فراہم کئے جائیں۔ صحافیوں کے حالات کار بہتر بنائے جائیں اور فیلڈ رپورٹنگ کے دوران میڈیا ہاؤسز کو انہیں مناسب سہولتیں فراہم کا پابند کیا جائے ۔ حکومتی مشینری صحافیوں کے راستے میں رکاوٹیں ڈالنے کی بجائے، انہیں تعاون و سہولت فراہم کرنے کی پابند ہو۔ اس حوالے سے یہ تخصیص ختم ہونی چاہئے کہ کون سا صحافی ’سینئیر و ممتاز ‘ کہلاتا ہے۔ یا کس مقبول پروگرام اور ٹی وی چینل کے ساتھ وابستہ ہے۔ آزادی رائے کو یقینی بنانے کے لئے سب عامل صحافیوں کو یکساں طور سے قابل قدر سمجھنا پڑے گا اور یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ یہی لوگ ملک میں جمہوری روایت کے علم بردار ہیں جو نوجوان نسل کو حریت فکر کا سبق سکھا تے ہیں۔
اکتوبر کے آخر میں عمران خان کے لانگ مارچ کی کوریج کرنے والی صحافی خاتون صدف ندیم کی دردناک موت ابھی زیادہ پرانا قصہ نہیں ہے۔ وہ عمران خان کے کنٹینر کی طرف بڑھتے ہوئے اسی کنٹینر کے نیچے کچل کر جاں بحق ہو گئیں۔ یہ سانحہ اب اس ملک میں صحافیوں کی بدقسمت تاریخ کا حصہ بن چکا ہے ۔ اس موت پر سیاسی بیانات کی بھرمار تو دیکھی گئی اور مرکزی اور صوبائی حکومت نے ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی کوشش میں ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر مالی تعاون فراہم کرنے اور پسماندگان کو سہولت دینے کے اعلانات بھی کئے ۔ البتہ اس بارے میں صوبائی یا مرکزی حکومت کی طرف سے حقائق جاننے اور وقوعہ کی اصل وجہ کا تعین کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی۔ نہ ضروری تحقیقات کروائی گئیں اور نہ ہی اس حوالے سے رونما ہونے والی کسی بشری یا انتظامی کمزوری کا ازالہ کرنے کی کوئی کوشش دیکھنے میں آئی۔ البتہ یہ ضرور دیکھا گیا کہ وفاقی حکومت مرحومہ صحافی کے خاندان کو صوبائی حکومت اور عمران خان کے خلاف استعمال کرنا چاہتی تھی جبکہ پنجاب حکومت نے کسی بھی طرح مرحومہ کے شوہر کو خاموش رہنے پر آمادہ کرلیا۔
اس افسوسناک سانحہ میں صحافیوں کی حفاظت اور انسانی جان کی قدر و قیمت کے حوالے سے غم و اندوہ سے بھرپور کے بیانات سے زیادہ کوئی کاوش بھی دیکھنے میں نہیں آئی۔ یہ بات نوٹ کرنے کی ضرورت ہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے اسلام آباد میں ’ سیفٹی جرنلسٹ فورم‘ سے خطاب کرتے ہوئے اور چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال نے مقتول صحافی ارشد شریف کے قتل کے معاملہ پر سو موٹو نوٹس لیتے ہوئے پانچ رکنی بنچ کی سربراہی کرتے ہوئے اپنے ریمارکس میں انہی دو پہلوؤں پر زور دیا۔ تاہم وزیر اعظم کی مرصع تقریر اور چیف جسٹس کے ’منتخب ریمارکس‘ سے یہ واضح نہیں ہوسکا کہ ملک کے صحافیوں کی حفاظت کیسے کی جائے گی؟ کیا جب وہ بیرون ملک سفر پر ہوں گے تو انہیں ’محافظ‘ فراہم کئے جائیں گے یا ایسے عناصر کو لگام دی جائے گی جو بیرون ملک بھی کسی ناپسندیدہ شخص کو ہلاک کروانے کی طاقت رکھتے ہیں؟ بالفرض حکومت یا عدالت یہ مقصد حاصل کرنے میں کامیاب ہو بھی جائے تو ملک میں کام کرنے والے ایسے سینکڑوں صحافیوں کو کون احساس تحفظ دلائے گا جو فیلڈ میں کام کرتے ہوئے متعدد مشکلات کا سامنا کرتے ہیں لیکن میڈیا میں نمایاں نہ ہونے کی وجہ سے نہ وہ خبروں کی زینت بنتے ہیں اور نہ ہی کوئی عدالت ان کی حالت زار پر ’سو موٹو نوٹس‘ لیتی ہے۔ ٹی وی رپورٹر صدف نعیم کی موت اس حوالے سے مثال کی حیثیت رکھتی ہے۔
کسی حکومتی یا صحافتی ادارے نے صدف نعیم کی ہلاکت پر اس کے آجر ادارے کو ذمہ دار قرار دینے کی کوشش نہیں کی۔ اور نہ ہی فیلڈ رپورٹنگ کے دوران ایک غیر ضروری اور ناقابل قبول حادثہ کی وجہ سے ہلاک ہونے پر یہ بحث دیکھنے میں آئی کہ اہم لیڈروں کے جلسوں جلوسوں کی کوریج کرنے والے صحافیوں کی حفاظت کیسے ممکن ہو۔ یا اس سے بھی بڑھ کر حساس اور خطرناک علاقوں میں شر پسند عناصر کی سرگرمیوں کو منظر عام پر لانے والے صحافیوں کو کی حفاظت کیسے ممکن بنائی جائے تاکہ وہ کسی ایک خاص ادارے کے ماؤتھ آرگن نہ بن جائیں۔ حالانکہ دریں حالات یہ بحث بنیادی ضرورت ہے کہ رپورٹر کو فیلڈ میں بھیجتے ہوئے اور ’ایکسکلوسیو‘ خبر نکالنے پر زور دینے والے ٹی وی مالکان یہ خدمت انجام دینے والے صحافی کو کیا سہولت فراہم کرتے ہیں۔ اور ملک کا قانون ان میڈیا ہاؤسز کے مالکان کے خلاف کیا کارروائی کرتا ہے جو ایسی بنایدی سہولتیں فراہم کرنے میں ناکام رہتے ہیں ۔
دیکھا جاسکتا ہے کہ وزیر اعظم اور چیف جسٹس کی زبان پر ارشد شریف کا نام تو بار بار آتا ہے لیکن صدف نعیم کی موت کو اس کی ’بدقسمتی‘ سمجھ کر فراموش کردیا گیا ہے۔ ان دونوں عالی مقام شخصیات کے علاوہ کیا کوئی بھی دوسرا شخص یہ بتا سکتا ہے کہ ارشد شریف اور صدف نعیم کی موت میں کیا فرق ہے؟ یہی کہ ایک کی موت ملک سے باہر ہوئی لیکن مرحوم کے خیالات کی وجہ سے ان کے قتل کو سیاسی اہمیت دی گئی اور اسی حوالے سے اسے موضوع بحث بنایا جاتا رہا ہے۔ جبکہ صدف نعیم پاکستان میں رپورٹنگ کرتے ہوئے ماری گئی لیکن سیاسی طور سے اس کی کوئی ’سیل ویلیو‘ متعین نہیں ہوسکی۔ کیا صحافیوں کو احترام دینے کا یہی امتیازی رویہ ملک میں آزادی رائے کو فروغ دے گا؟
ملک کے وزیر اعظم اور چیف جسٹس کو یکساں طور سے یاد کروانے کی ضرورت ہے کہ صحافیوں کی حفاظت اور آزادی رائے کے احترام کا ایک بنیادی نکتہ صحافیوں اور میڈیا صنعت سے وابستہ کارکنوں کی بہبود، ملازمت کی ضمانت اور معاشی تحفظ سے متعلق ہے۔ ملک کے میڈیا ہاؤسز عملی طور سے ’خرکار کیمپ‘ بن چکے ہیں جہاں نوجوان صحافیوں کو کم ترین مشاہرے پر غیر محفوظ ماحول میں کام کرنے پر مجبورکیا جاتا ہے۔ اس پر مستزاد متعدد ادارے بروقت تنخواہیں ادا کرنا بھی ضروری نہیں سمجھتے۔ اپنے ٹاک شوز یا کالموں میں جمہوریت اور سماجی انصاف کے بلند بانگ نعرے لگانے والے یہ ٹی وی چینلز یا اخبارات، اپنے ہی کارکنوں کو ان کی محنت کا معاوضہ دینے پر تیار نہیں ہوتے۔ کسی شہرت یافتہ اینکر یا صحافی کے حوالے سے آزادی رائے، حفاظت اور انسانی زندگی کے تحفظ کی باتیں کرنے والے سیاسی لیڈروں، حکومتی عہدیداروں یا ججوں کو ملکی صحافیوں کی ان مشکلات کا ادراک بھی ہونا چاہئے۔ خواہشات کی بنیاد پر دعوے کرنے یا کسی ایک معاملہ میں ایف آئی آر درج کروانے کا حکم دینے سے پاکستانی صحافیوں کی زندگیوں کا یہ دکھ کیسے کم ہوگا؟
ارشد شریف کے قتل کی معلومات ضرور سامنے آنی چاہئیں۔ سپریم کورٹ اگر اس معاملہ کو مثال بنا کر ملکی صحافیوں کو پیشہ وارانہ خدمات انجام دینے میں سہولت و حفاظت فراہم کرنے کا اہتمام کرسکے تو یہ ملک میں آزاد صحافت اور کسی خوف کے بغیر بات کہنے کی روایت کو مستحکم کرنے کے لئے اہم قدم ہوگا۔ لیکن اگر اس کے برعکس ماضی کی طرح یہ معاملہ بھی محض ریمارکس دینے اور ایک دوسرے پر ذمہ داری ٹھونسنے تک ہی محدود رہا ، پھر نہ تو صحافی محفوظ ہوں گے اور نہ ہی اظہار رائے کی آزادی پر عائد قدغنیں کم ہوپائیں گی۔