ای وی ایم کی مخالفت نہیں کی، جلدبازی میں پورا الیکشن متنازع نہیں بناسکتے: چیف الیکشن کمشنر

  • بدھ 07 / دسمبر / 2022

چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا نے کہا ہے کہ ایک بار پھر نئی حلقہ بندیوں کا سوچا جارہا ہے۔ اگر ہمیں وقت نہ دیا گیا تو دوبارہ بلدیاتی انتخابات کرانا مشکل ہوجائے گا۔

انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے کبھی الیکٹرونک ووٹنگ مشین کی مخالفت نہیں کی لیکن ایسا نہیں ہوسکتا کہ جلد بازی میں پورا الیکشن متنازع بنادیں۔ اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کا عمل 31 مارچ 2022 جبکہ بلوچستان کے 32 اضلاع میں 29 مئی کو انتخابات کا عمل مکمل کیا۔ بلوچستان میں سیلاب کی وجہ سے ملتوی ہونے والے بلدیاتی انتخابات 11 دسمبر کو کرائے جارہے ہیں۔ اسلام آباد میں پولنگ 31 دسمبر کو ہوگی۔

سکندر سلطان راجا نے کہا کہ سندھ کے پہلے مرحلے کے بلدیاتی انتخابات 26 جون کو ہوئے جبکہ شدید بارش کی وجہ سے ملتوی ہونے والے کراچی اور حیدرآباد ڈویژن میں بلدیاتی انتخابات 15 جنوری 2023 کو ہوں گے۔ پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے لیے 2 بار حلقہ بندیوں کا عمل مکمل کیا مگر صوبائی حکومت کے بار بار قوانین میں ترامیم کی وجہ سے انتخابات کا انعقاد ممکن نہ ہوسکا۔

چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ حلقہ بندیوں کے لیے 3 سے 4 ماہ درکار ہوتے ہیں۔ جب بھی حلقہ بندیاں مکمل کرکے الیکشن کے قریب پہنچتے تھے تو اُس وقت کی صوبائی حکومت اپنے لوکل گورنمنٹ قوانین میں تبدیل کر دیتی تھی جس کی وجہ سے ہمیں دوبارہ حلقہ بندی کرنی پڑتی تھی۔  الیکشن کمیشن تیسری بار حلقہ بندی کر رہا ہے۔ کمیشن صوبہ پنجاب میں بھی بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے لیے تیار ہے اور اس حوالے سے صوبائی حکومت کو پابند بنایا جائے گا کہ وہ الیکشن کے انعقاد کے لیے الیکشن کمیشن کی معاونت کرے اور ضروری فنڈ بھی مہیا کرے۔

پنجاب کے بلدیاتی انتخابات اپریل کے آخری ہفتے میں ہوں گے۔ کم وقت کی وجہ سے پنجاب حکومت کو پابند کردیا گیا ہے کہ اپریل کے آخری ہفتے میں انتخابات کے انعقاد کو ہر صورت یقینی بنائے۔

سکندر سلطان راجا نے کہا کہ اگر اس بار پنجاب حکومت، لوکل گورنمنٹ قانون تبدیل کرے گی تو الیکشن کمیشن اس سے پچھلے قانون آئین کے آرٹیکل 283 کے تحت انتخابات کروائے گا۔

انہوں نے کہا کہ 2021 اور 2022 میں قومی اسمبلی کے 17 اور صوبائی اسمبلی کے 24 انتخابات کروائے گئے۔ عموماً یہ تاثر ہے کہ ضمنی الیکشن حکومت جیتا کرتی ہے لیکن کُل ضمنی انتخابات میں سے 35 اُس وقت کی اپوزیشن نے جیتے اور 16 اُس وقت کی حکومت نے جیتے۔ تمام ضمنی انتخابات کے دوران الیکشن کمیشن نے ضابطہ اخلاق پر عمل کو یقینی بنانے کے لیے ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ افسر اور مانیٹرنگ ٹیموں کی تعیناتی اور انتخابات کی سخت مانیٹری کی اور خلاف ورزی کرنے کی صورت میں کارروائی بھی کی۔

چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ الیکشن کمیشن انتخابی عمل میں ٹیکنالوجی کے استعمال کی حمایت کرتا ہے لیکن ٹیکنالوجی ایسی ہونی چاہیے کہ تمام اسٹیک ہولڈز متفق ہوں۔ ووٹرز اپنے حق رائے دہی آسانی سے استعمال کرسکیں اور خفیہ رائے شماری کو یقینی بنایا جاسکے۔ ٹیکنالوجی کے استعمال کیے لیے چند اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔ ای وی ایم اور اوورسیز ووٹنگ کے حوالے سے الیکشن کمیشن پر بہت تنقید ہوتی ہے، میں چیلنج کرتا ہوں کہ آپ کہیں دکھا دیں کہ الیکشن کمیشن نے ای وی ایم یا اووسرز ووٹنگ کی مخالفت کی ہو۔ ایسا نہیں ہوسکتا ہے کہ جلد بازی میں پورا الیکشن متنازع بنا دیں۔