ارشد شریف قتل تحقیقات کے لئے نئی جے آئی ٹی تشکیل دینے کا حکم

  • بدھ 07 / دسمبر / 2022

سپریم کورٹ نے صحافی اور اینکر پرسن ارشد شریف قتل کیس میں حکومت کی قائم مشترکہ تحقیقاتی ٹیم مسترد کرتے ہوئے نئی خصوصی جے آئی ٹی تشکیل دینے کا حکم دیا ہے۔

سپریم کورٹ میں چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی زیر صدات 5 رکنی لارجر بینچ نے ارشد شریف ازخودنوٹس کی سماعت کی۔ دوران سماعت سپریم کورٹ نے ارشد شریف قتل پر حکومت کی قائم اسپیشل جے آئی ٹی مسترد کرتے ہوئے تحقیقات کے لیے نئی اسپیشل جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم  تشکیل دینے کا حکم دیا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ چاہتے ہیں تفتیش سینئر اور آزاد افسران سے کرائی جائے۔ جے آئی ٹی ارکان معاملہ فہم اور دوسرے ملک سے شواہد لانے کے ماہر ہوں، اقوام متحدہ سمیت عالمی اداروں سے بھی معاونت ضروری ہو تو وزارت خارجہ معاونت کرے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ارشد شریف کے اہلخانہ سے تمام معلومات شیئر کی جائیں۔ یقینی بنانا ہے کہ قابل اور اہل افسران قانون کے مطابق اپنا کام کریں۔

دریں اثنا اسلام آباد پولیس نے ارشد شریف قتل کیس میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دے دی ہے۔ جے آئی ٹی کی تشکیل کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا ہے جس کے مطابق سی پی او ہیڈ کواٹر، ڈی پی او صدر اور ایس ایچ او رمنا جے آئی ٹی کا حصہ ہوں گے۔ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم ایس ایس پی انویسٹی گیشن کی درخواست پر تشکیل دی گئی۔ تشکیل کردہ جے آئی ٹی اپنی رپورٹ جلد از جلد مکمل کرکے آئی جی اسلام آباد کو جمع کرائے گی۔

قبل ازیں ارشد شریف کے بہیمانہ قتل کی تحقیقات سے متعلق فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی جس میں انکشاف کیا گیا کہ یہ قتل غلطی نہیں بلکہ مکمل منصوبہ بندی سے کیا گیا۔ فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کی 592 صفحات پر مشتمل یہ رپورٹ ڈی جی ایف آئی اے اور ڈی جی آئی بی کے دستخط کے ساتھ جمع کرائی گئی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ارشد شریف کو منصوبہ بندی کے تحت قتل کیا گیا۔ کینیا پولیس نے قتل کی تحقیقات میں کوئی معاونت نہیں کی۔ کیس میں کئی غیر ملکی شخصیات کا کردار اہمیت کا حامل ہے۔ ارشد شریف کے کینیا میں میزبان خرم اور وقار کا کردار اس معاملے میں اہم اور مزید تحقیق طلب ہے۔ وقار احمد کمیٹی کے سوالات کا تسلی بخش جواب نہ دے سکے۔ گاڑی چلانے والے خرم کے بیانات تضاد سے بھرپور ہیں، دونوں افراد مطلوبہ معلومات دینے سے ہچکچا رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ارشد شریف کی پاکستان چھوڑنے کی وجوہات مختلف اضلاع میں مقدمات تھے۔ انہوں نے یو اے ای حکام کے دباؤ پر دبئی چھوڑا۔ ارشد شریف کو 20جون 2022 کو یواے ای ویزے کا اجرا ہوا جوکہ 18 اگست 2022 تک کے لیے تھا۔ جب ارشدشریف کینیا گئے تو ان کے ویزے میں 20 روز باقی تھے۔ انہوں نے نئے ویزے کے لیے 12 اکتوبر 2022 کو دوبارہ رجوع کیا تاہم ان کی درخواست کو رد کر دیا گیا۔

رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ ارشد شریف کے قتل میں کینیا کے جی ایس یو کے اہلکار استعمال ہوئے جن پر مالی یا کوئی دوسرا دباؤ تھا۔ رپورٹ کے مطابق وقارکے کینیا پولیس اور انٹیلی جنس اداروں کے ساتھ رابطے تھے۔ اس نے ارشد شریف کا آئی فون اور آئی پیڈ پولیس کے حوالے کیا، ارشد شریف کی گاڑی خرم چلا رہا تھا جس کے بیانات میں تضاد پایا گیا ہے۔

فیکٹ فائنڈنگ کی رپورٹ میں کہا گیا کہ وقار کے چھوٹے بھائی خرم کا کہنا تھا کہ وہ کھانے کے بعد ارشد شریف کو ساتھ لےکر نکلا۔ راستے میں انہیں سڑک پر پتھر نظر آئے جس پر خرم نے ارشد شریف کو بتایا کہ یہ ڈاکو ہوں گے۔ سڑک پر پڑے پتھروں کو پار کرتے ہی انہیں گولیوں کی آواز سنائی دی، گولیاں کی آواز سنتے ہی وہ وہاں سے بھاگ گئے۔

رپورٹ کے مطابق خرم نے محسوس کیا ارشد شریف کو گولی لگی ہے۔ خرم نے اپنے بھائی وقار کو فون کیا اور 18کلو میٹر دور واقع فارم ہاؤس پر پہنچنے کا کہا۔ فارم ہاؤس پہنچ کر خرم نے گاڑی کو گیٹ پر ہی چھوڑ دیا اور اندر بھاگ گیا۔ خرم کا کہنا ہے ارشد کی ہلاکت فارم ہاؤس کے گیٹ پر ہوئی، وقوعہ کی جگہ سے فارم ہاؤس تک خرم کے علم میں نہیں تھا کہ ارشد زندہ ہے یا نہیں۔ یہ ایک عجیب بات ہے کیونکہ ارشد کے سر میں گولی لگی تھی، جس زاویے پر خرم بیٹھا تھا اسے نظر آنا چاہیے تھا کہ ارشد شریف بری طرح زخمی تھے۔

فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ میں ارشد شریف پر چلنے والی گولیوں کی ٹریجکٹری کو بھی بیان کیا گیا۔ ارشد شریف کے سینے میں لگنےوالی گولی ٹریجکٹری فائرنگ پیٹرن سے نہیں ملتی۔ ارشد شریف کو ایک گولی کمر کے اوپری حصے میں لگی، گولی گردن سے تقریباً 6 سے 8 انچ نیچے لگی جو سینے کی جانب سے باہر نکلی۔ اس زخم سے یہ اخذ کرنا مشکل نہیں کہ گولی قریب سے چلائی گئی۔ جس زاویے سے گولی چلی اس کے نتیجے میں گاڑی کی سیٹ میں بھی سوراخ ہونا چاہیے تھا لیکن ارشد شریف کی سیٹ پرگولی کا کوئی نشان نہیں۔ کمر پر لگنے والی گولی واقعہ کو مشتبہ بناتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق کینیا پولیس اور جی ایس یو کے بیانات میں بہت زیادہ تضادات ہے۔ کینیا حکام کے بیانات قابل بھروسہ نہیں ہیں، ارشد شریف کا قتل غلطی کی بنیاد پر نہیں بلکہ مکمل منصوبہ بندی کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔ ایک درجن کے قریب اہم کردار ارشد شریف سے مستقل رابطے میں تھے۔ یہ کردار پاکستان، دبئی، کینیا میں مقتول کے ساتھ رابطے میں تھے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خاندان اور دوستوں کے مطابق ارشد شریف کو قتل کی دھکمیاں دی گئیں، یہ دھکمیاں کس نے دیں اس کا کوئی ثبوت نہ مل سکا۔ ارشد شریف پر پاکستان میں 16 مقدمات درج کیے گئے۔ کمیٹی کو صرف 9 مقدمات کی کاپیاں فراہم کی گئیں۔ کمیٹی نے اسلام آباد، بلوچستان اور سندھ کے آئی جی کو بھی خطوط لکھے۔ ایف آئی آر کے مدعیان کو پیش کرنے کے لیے خطوط لکھے گئے، صرف 3 مدعیان کمیٹی کے سامنے پیش ہوئے۔ ارشد شریف پر رواں سال 19 مئی کو ایک ہی روز میں 3 مقدمات درج ہوئے۔ 20 مئی کو مذید 6 مقدمات درج کیے گئے۔

رپورٹ کے مطابق 27 اکتوبر کو ارشد شریف کے وکیل نے ایک سوال پر تحقیقاتی ٹیم کو بتایا کہ آئی ایس پی آر ارشد شریف کا دوسرا گھر تھا۔ ارشد شریف بریگیڈیئر شفیق کے بہت قریب تھے۔ حکومت تبدیلی کے بعد ارشد شریف بریگیڈیئر شفیق سے اختلافات ہوگئے۔ وکیل نے بتایا کہ ارشد شریف کے خلاف کچھ مقدمات بریگیڈیئر شفیق کے کہنے پر درج ہوئے۔

رپورٹ میں خدشہ ظاہر کیا گیا کہ ایف آئی آر کے اندراج میں قانونی طریقوں کو پورا نہیں کیا گیا۔ فیصل واوڈا نےفیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کو نہ شواہد دیے اور نہ ہی بیان جمع کرایا۔ ارشد کے قتل کے بارے میں فیصل واوڈا کی پریس کانفرنس پر ان سے 15 نومبر کو رابطہ کیا گیا اور ارشد شریف کے قتل سے متعلق شواہد طلب کیے گئے۔ اُن کی درخواست پر ٹیم نے انہیں7 سوال تحریری طورپر دیے، جواب کے لیے دوبارہ رابطے کی کوشش پر انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔

سپریم کورٹ میں جمع کروائی گئی اس فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ کا زیادہ تر حصہ لوگوں سے کیےگئے انٹرویو پر مشتمل ہے۔ پاکستان مشن دبئی کے افسران کے بیانات بھی رپورٹ کا حصہ ہیں۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز اسلام آباد پولیس نے سپریم کورٹ کے حکم پر معروف صحافی ارشد شریف کے قتل کا مقدمہ تھانہ رمنا میں پولیس کی مدعیت میں درج کیا تھا۔  پولیس کی مدعیت میں تعزیرات پاکستان کی دفعات 302، 34 کے تحت درج کیا گیا ہے اور خرم احمد، وقار احمد اور طارق احمد وصی کو نامزد کیا گیا۔ ایف آئی آر میں کہا گیا کہ انسپکٹر میاں محمد شہباز اطلاع ملنے پر اسلام آباد کے پمز ہسپتال پہنچے جہاں ارشد شریف کا جسد خاکی بیرون ملک سے پاکستان پہنچایا گیا تھا۔ ارشد شریف کا میڈیکل بورڈ کے ذریعے پوسٹ مارٹم کیا گیا اور بورڈ نے نمونوں کے 4 پارسلز اور ایک سکہ گولی کا نمونہ حوالے کیا۔ تاہم اس وقت پوسٹ مارٹم کی رپورٹ نہیں دی جبکہ جسد خاکی لواحقین کے حوالے کردیا گیا۔

پولیس نے کہا کہ ارشد شریف کا قتل بیرون ملک ہوا اور اس کی انکوائری اعلیٰ سطح پر ہو رہی ہے جبکہ میڈیکل بورڈ کی جانب سے دیے جانے والے نمونوں کے پارسل تھانے میں رکھے گئے۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق ارشد شریف کی موت آتشیں اسلحے کا فائر لگنے سے ہوئی۔

قبل ازیں سپریم کورٹ نے ارشد شریف قتل کے معاملے پر از خود نوٹس لیتے ہوئے مقدمہ درج کرنے کا حکم دے دیا تھا۔ چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال کی سربراہی میں جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس سید مظاہر علی اکبر نقوی اور جسٹس محمد علی مظہر پر مشتمل لارجر بینچ نے از خود نوٹس کیس کی سماعت کی تھی۔

ارشد شریف اگست میں اپنے خلاف کئی مقدمات درج ہونے کے بعد پاکستان چھوڑ گئے تھے۔ ابتدائی طور پر وہ متحدہ عرب امارات میں رہے، جس کے بعد وہ کینیا چلے گئے جہاں انہیں قتل کیا گیا تھا۔ کینیا کے میڈیا نے مقامی پولیس کے حوالے سے کہا تھا کہ ارشد شریف کو پولیس نے غلط شناخت پر گولی مار کر ہلاک کر دیا۔