جرمن حکومت کا تختہ الٹنے کی سازش، 25 افراد گرفتار

جرمنی میں  پولیس نے حکومت کا تختہ الٹنے کا منصوبہ بنانے کے شبہ میں 25 افراد کو گرفتار کیا ہے۔ جرمن ذرائع ابلاغ کے مطابق انتہائی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے سابق فوجیوں کے اس گروہ کا منصوبہ یہ تھا کہ پارلیمان کی عمارت پر ہلہ بول کے حکومت پر قبضہ کر لیا جائے۔

اس گروہ کے منصوبوں میں مرکزی کردار ادا کرنے والے متمول شحص کو ’پرنس ہنریک دواز دھم‘  کا نام لیا جا رہا ہے اور اس کا تعلق جرمنی کی قدیم اشرافیہ سے ہے۔ سرکاری تحقیقاتی ادارے کے مطابق یہ شخص ان دو افراد میں سے ایک ہے جو اِس گروہ کا سرغنہ ہے جو جرمنی کے تمام گیارہ صوبوں میں پھیلا ہوا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ اس گروہ میں ’ رائسبورگا‘ نامی انتہاپسند تحریک کے لوگ بھی شامل ہیں۔ یہ وہی تحریک ہے جو ایک عرصے سے جرمن حکام کی نظر میں ہے اور اس پر شبہ ہے کہ متشدد حملوں میں ملوث ہونے کے علاوہ یہ تحریک  نسل پرستانہ سازشی نظریات کی علمبردار ہے۔ یہ تحریک جدید جرمن ریاست کو تسلیم نہیں کرتی۔ اس گروہ کے دیگر مشتبہ افراد کا تعلق ’قانون‘ نامی تحریک سے بتایا جاتا ہے جس کے خیال میں ان کا ملک ’ڈِیپ سٹیٹ‘ کے ہاتھوں میں جا چکا ہے۔

حکام کے اندازے کے مطابق اس گروہ میں 50  کے لگ بھگ مرد اور خواتین شامل ہیں اور انہوں نے جرمنی کی موجودہ جمہوریہ کا تخت الٹ کر اس کی جگہ 1871 کی ریاست (سیکنڈ رائیش)  کی طرز پر ایک نئی ریاست قائم کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔ وفاقی تحقیقاتی ادارے کے ترجمان کا کہنا تھا ’ابھی تک ہمارے پاس اس گروہ کا کوئی نام نہیں ہے۔‘

حالیہ کارروائی میں ملک کے طول و عرض میں 130 چھاپے مارے گئے جن میں تین ہزار پولیس  اہلکاروں نے حصہ لیا۔ اس دوران آسٹریا اور اٹلی سے بھی دو افراد کو حراست میں لیا گیا۔ جن افراد کو اب تک حراست میں لیا گیا ہے ان سے تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔   

وزیر قانون مارکو بشمین نے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ دہشتگردی کے خلاف ایک بہت بڑی کارروائی جاری ہے اور شبہ ہے کہ یہ گروہ ’آئینی اداروں پر مسلح حملوں کا منصوبہ بنا رہا تھا۔‘ وفاقی تحقیقاتی ادارے کے مطابق یہ گروہ نومبر 2021 سے تختہ الٹنے کی خونریز منصوبہ بندی کر رہا تھا اور گروہ کی مرکزی قیادت اس وقت سے مسلسل آپس میں ملاقاتیں کرتی رہی ہے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ گروہ نے اپنی منصوبہ بندی مکمل کرلی تھی جس کے تحت ان افراد کا انتخاب بھی کر لیا گیا تھا جو تختہ الٹنے کے بعد صحت، انصاف اور خارجہ امور کے سربراہ ہوتے۔ اس گروہ کے ارکان کا خیال تھا کہ اپنے مقاصد کے حصول کے لیے وہ ’ریاست کے نمائندوں کے خلاف فوجی اور پرتشدد ذرائع‘ استعمال کریں گے اور اس عمل میں مختلف اہم شخصیات کو قتل بھی کیا جائے گا۔

حکام کو اس منصوبے کی بھنک اس وقت پڑی جب گزشتہ اپریل میں انہیں ’یونائیٹڈ پیٹرایئٹس‘ نامی ایک گروہ کے بارے میں معلوم ہوا تھا کہ اس نے ایک اہم شخصیت کو اغوا کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ اس گروہ کا تعلق بھی رائسبورگا تحریک سے تھا اور اس نے وزیر صحت کارل لیوٹرباچ  کے اغوا کے علاوہ جرمنی میں ’خانہ جنگی والے حالات‘ پیدا کر کے ملک میں جمہوریت کے خاتمے کا منصوبہ بنایا تھا۔ حکام کو شک ہے کہ انتہائی دائیں بازو کی سیاسی جماعت سے تعلق رکھنے والی ایوانِ زیریں کی ایک سابقہ رکن بھی اس گروہ کا حصہ تھیں۔ جن 25 افراد کو حراست میں لیا گیا ہے، اے ایف ڈی کی یہ رہنما برگٹ مالسیک وِنکمین بھی شامل ہے۔ مذکورہ رکن گزشتہ برس ایک مرتبہ پھر جج تعینات ہو گئیں تھیں اور ایک عدالت نے ان درخواستوں کو رد کر تھا جن میں انہیں اپنے عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کیا جا رہا تھا۔ اس گروہ نے منصوبے کی تکمیل کی صورت میں جس شخص کو خارجہ امور کی دیکھ بھال کے لیے منتخب کیا تھا وہ ایک معروف وکیل ہیں اور انہوں نے بھی پرنس ہنریک کی زیر قیادت کام کرنا تھا۔

’ رائسبورگا تحریک ‘ کے رہنما ’ہنریک دواز دھم‘  کا تعلق جرمنی کی قدیم اشرافیہ  کے خاندان ’ہاؤس آف رُوئس‘  سے ہے جو موجودہ جرمنی کی مشرقی ریاست تھرنگیا میں 1918 تک حکمرانی کرتا رہا ہے۔ اس خاندان کے تمام مردوں کو ’ہنریک‘ کے نام کے ساتھ  اوّل، دوئم، سوم وغیرہ کا خطاب بھی دیا جاتا ہے۔ کچھ پرانے محل ابھی تک اس امیر خاندان کی ملکیت میں ہیں اور تحریک کے سربراہ ہنریک دواز دھم  بھی تھرنگیا میں ایک شکارگاہ کے مالک ہیں۔

ایک طویل عرصے سے اس خاندان کے دیگر افراد خود کو ہنریک سے دور کر چکے ہیں اور خاندان کے ایک ترجمان نے اسی سال ایک مقامی ریڈیو سٹیشن کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ ہنریک ایک ایسے شخص ہیں جو ’کبھی کبھی ذہنی الجھاؤ‘ کا شکار ہو جاتے ہیں اور انہوں نے ’سازشی نظریات پر مبنی غلط فہمیوں‘  کو سچ سمجھ لیا ہے۔

اس گروہ نے تختہ الٹ کر نہ صرف ایک متبادل حکومت قائم کرنے کا منصوبہ بنا رکھا تھا بلکہ اس نے اپنی ایک عسکری شاخ بنانے کا ارادہ بھی کیا تھا جس کی سربراہی گروہ کے دوسرے اہم رکن کو سونپی جانی تھی۔ حراست میں لیے جانے والے دیگر افراد میں جرمنی کی خصوصی کمانڈو فورس کے ایک سابق اہلکار بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ مشتبہ افراد میں ایک روسی خاتون بھی شامل ہے جس سے مبینہ طور پر یہ کہا گیا تھا کہ وہ ماسکو سے رابطہ قائم کرنے میں ہنریک کی مدد کرے۔

تاہم برلن میں روس کے سفارتخانے نے ایک بیان میں کہا ہے کہ روس ’کسی بھی دہشتگرد گروہ یا اس کی غیرقانونی (ذیلی) تنظیموں اور افراد سے تعلق قائم نہیں کرتا۔‘

یاد رہے کہ حالیہ برسوں میں جرمنی میں ایسے کئی پرتشدد حملے ہو چکے ہیں جن کا الزام ملک کی انتہائی دائیں بازو کی تنظیموں اور افراد پر لگایا جاتا ہے۔ 2020 میں ایک 43 سالہ شخص نے نو افراد کو گولیاں مار کر ہلاک کر دیا تھا جبکہ  2016 میں  رائسبورگا کے ایک رکن کو ایک پولیس اہلکار کو ہلاک کرنے کے جرم میں قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

کہا جاتا ہے رائسبورگا تحریک کے ارکان اور حامیوں کی تعداد 21 ہزار سے زیادہ  ہے اور حکام سمجھتے ہیں کہ ان میں سے تقریباً پانچ فیصد وہ ہیں جن کا تعلق انتہائی دائیں بازو کی تنظیموں سے ہے۔