انڈیا کے ریاستی انتخابات: گجرات میں بی جے پی پھر کامیاب
انڈیا کے ریاستی انتخابات میں گجرات اور ہماچل پردیش میں ووٹوں کی گنتی جاری ہے۔ ابتدائی نتائج سے یہ پتا چلتا ہے کہ حکمراں جماعت بی جے پی اس وقت گجرات میں فتح کی راہ پر گامزن ہے جبکہ کانگرس نے ہماچل میں اکثریت حاصل کررہی ہے۔
ہماچل میں کانگرس اور بی جے پی کے درمیان متعدد نشستوں پر سخت مقابلہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ ان ریاستی انتخابات کو انڈیا میں 2024 کے عام انتخابات سے قبل حکمراں جماعت بی جے پی کی ملک میں مقبولیت کے پیمانے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ جمعرات کو گجرات میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی فتح کے بعد انتخابی نتائج پر انڈیا کے وزیر داخلہ امت شاہ نے جیت کا سہرا وزیر اعظم نریندر مودی کے ترقیاتی ماڈل کو دیا۔
تاہم ہماچل بی جے پی کے ہاتھ سے نکل گیا ہے لیکن سیاسی تجزیہ کاروں کی رائے میں گجرات میں بڑی جیت نے پارٹی قیادت اور بی جے پی کو بڑی راحت دی ہے۔ گجرات میں کل 182 سیٹوں کے لیے دو مرحلوں میں یکم اور پانچ دسمبر کو ووٹنگ ہوئی تھی۔ الیکشن کمیشن آف انڈیا کے مطابق بھارتیہ جنتا پارٹی 52 فیصد سے زائد ووٹوں کے ساتھ 158 سیٹوں پر آگے ہے۔ ان میں سے 73 سیٹوں پر اس کی جیت یقینی ہوگئی ہے۔
بھارتیہ جنتا پارٹی کی مدمقابل کانگریس 20 سے بھی کم سیٹوں تک محدود ہوتی نظر آ رہی ہے۔
ریاست ہماچل میں انڈین کانگریس 40 نشتوں پر جیت رہی ہے جبکہ بی جے پی 25 نشتوں پر آگے ہے۔ تین سیٹوں پر دوسری جماعتوں کے امیدوار آگے ہیں۔ ہماچل میں آپ پارٹی کو ایک سیٹ بھی نہیں ملی۔ کانگریس کو تقریباً 27 فیصد ووٹ ملے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی پہلی بار ریاستی انتخابات میں حصہ لینے والی عام آدمی پارٹی کو 12 فیصد سے کچھ زیادہ ووٹ ملے ہیں۔