پاکستان نے کالعدم تنظیموں سے متعلق امریکی الزامات مسترد کردیے

  • جمعرات 08 / دسمبر / 2022

دفتر خارجہ نے پاکستان میں کالعدم تنظیموں کی موجودگی کے حوالے سے امریکی الزامات مسترد کردیے ہیں۔

دفتر خارجہ کی ترجمان ممتاز زہرہ بلوچ نے صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ کالعدم تنظیموں کے حوالے سے امریکی الزامات مسترد کرتے ہیں۔ پاکستان نے طویل عرصے تک دہشت گردی کا سامنا کیا ہے جس میں بڑے جانی نقصانات کا بھی سامنا کرنا پڑا ہے۔ افغانستان اور پاکستان میں دہشت گردوں کی پناہ گاہوں پر امریکی بیان پر ردعمل دیتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ پاکستان میں دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہیں نہیں ہیں بلکہ پاکستان میں بھارت ریاستی دہشت گردی میں ملوث ہے۔

انہوں نے کہا کہ عالمی برادری بھارتی ریاستی دہشت گردی کا نوٹس لے کیونکہ پاکستان خود دہشت گری کا شکار رہا ہے۔ پاکستان میں دہشت گردی میں ملوث قوتوں کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔

ممتاز زہرہ بلوچ نے مزید کہا کہ وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری بالی جمہوریت کانفرنس میں شرکت کے لیے انڈونیشیا کے دورے پر ہیں، جہاں دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ نے ملاقات کی اور مختلف شعبوں میں تعاون جاری ہے۔ وزیر خارجہ نے بالی میں بوسنیائی ہم منصب ڈاکٹر بسیرا سے ملاقات کی جبکہ وزیر خارجہ آج سنگاپور کے دورے پر روانہ ہوں گے۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کابل میں پاکستانی سفارت خانے پر ہونے والے حملے پر اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا کہ ناظم الامور عبیداللہ نظامانی کو پاکستان بلایا گیا ہے اور امید ہے افغان حکومت سفارت خانے کو سیکیورٹی فراہم کرے گی۔

انہوں نے پاکستان کو مذہبی آزادیوں کی فہرست میں شامل کرنے کے امریکی فیصلے پر مایوسی کا اظہار کیا اور کہا کہ بھارت کو فہرست میں شامل نہ کرنا امتیازی سلوک ہے۔ امریکی کمیشن کی سفارش کے باوجود بھارت کو فہرست میں شامل نہیں کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی بربریت جاری ہے مگر بھارت، ڈریکونین اقدامات کے ذریعے کشمیریوں کو دبا نہیں سکتا۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم قابل مذمت ہیں اور بھارت عالمی انسانی حقوق کے قوانین کی دھجیاں اڑا رہا ہے، لہٰذا عالمی برادری بھارتی مظالم کا نوٹس لے۔