افغانستان میں دہشت گرد منظم ہوئے تو امریکہ کارروائی کرے گا: ترجمان
امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے کہا ہے کہ امریکا کی ترجیح اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ دہشت گرد اور دیگر قوتیں افغانستان کو پاکستان پر حملوں کے لیے لانچ پیڈ کے طور پر استعمال نہ کر سکیں۔
پریس بریفنگ میں ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا اگر افغانستان میں عالمی دہشت گردوں کو دوبارہ منظم ہوتے دیکھا تو امریکا کارروائی کرے گا۔ اگست میں ڈرون حملے میں القاعدہ رہنما ایمن الظواہری کی ہلاکت کی صورت میں امریکا نے دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کے لیے اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا تھا۔
نیڈ پرائس نے کہا کہ افغان طالبان ان وعدوں کو پورا کرنے میں ناکام رہے یا وہ انہیں پورا کرنے کے اہل نہیں جو کہ انہوں نے متعدد شعبوں کے حوالے سے کیے تھے۔ امریکا کا وسیع تر مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ دہشت گرد اور دیگر قوتیں افغانستان کو پاکستان پر حملوں کے لیے لانچنگ پیڈ کے طور پر استعمال نہ کر سکیں۔
ٹی ٹی پی اور اس جیسے دیگر دہشت گرد گروہ بھی دوبارہ متحرک ہوگئے ہیں۔ ہم خطے میں دہشت گردی کے خلاف پاکستان سمیت اپنے دیگر شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔ ترجمان امریکی محکمہ خارجہ نے کہا کہ خطے میں اس دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے جو کچھ ہم کر سکتے ہیں کریں گے جس کے اثرات خطے سے باہر تک پھیلے ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ امریکا، پاکستان کے ساتھ اپنے دوطرفہ تعلقات کو اہمیت دیتا ہے۔ خطے میں پاکستان سمیت اپنے دیگر شراکت داروں کے ساتھ کام کرنے کے لیے امریکا پُرعزم ہے۔ ہم ان شعبوں میں تعاون کے مواقع بڑھانے کا خیر مقدم کرتے ہیں جو ہمارے اور پاکستان کے لیے باہمی مفاد کے لیے اہم ہیں۔ اس میں دہشت گردی کے خلاف تعاون بھی شامل ہے۔
نیڈ پرائس نے کہا کہ پاکستان کو انٹرنیشنل ملٹری ایجوکیشن اینڈ ٹریننگ پروگرام کے تحت امداد فراہم کی جاتی ہے۔ یہ پروگرام پیشہ ورانہ عسکری تعلیم، آپریشنل اور تکنیکی کورسز فراہم کرتا ہے جو خطرات سے نمٹنے کے لیے پاکستان کی صلاحیتوں کو مضبوط بناتا ہے۔
یہ پروگرام دوطرفہ تعلقات کو بڑھانے کے لیے جاری ہے جو کہ دونوں ممالک کے درمیان عسکری تعاون کو مستحکم کرتا ہے۔