بلوچستان ہائیکورٹ نے اعظم سواتی کے خلاف صوبے میں درج تمام مقدمات ختم کرنے کا حکم دے دیا
بلوچستان ہائی کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کے سینیٹر اعظم سواتی کے خلاف صوبے میں درج تمام مقدمات ختم کرنے اور انہیں فوری رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔
بلوچستان ہائی کورٹ میں سینیٹر اعظم سواتی کے خلاف قائم مقدمات ختم کرنے سے متعلق درخواست پر جسٹس ہاشم کاکڑ پر مشتمل سنگل رکنی بینج نے سماعت کی۔ اس موقع پر ایڈووکیٹ جنرل آصف ریکی، ایس ایس پی انویسٹی گیشن اسد ناصر اور اعظم سواتی کے بیٹے عثمان سواتی عدالت میں پیش ہوئے۔ درخواست گزار کی جانب سے سید اقبال شاہ اور نصیب اللہ ترین نے کیس کی پیروی کی۔
عدالت نے 5 مقدمات درج کرنے پر پولیس کی سرزنش کرتے ہوئے استفسار کیا آئی جی کو ان کیسز کے اندراج کا علم ہے؟ جواب میں عدالت کو بتایا گیا کہ پانچوں ایف آئی آر آئی جی پولیس کے علم میں نہیں ہیں۔ جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اعظم سواتی کے مزید ریمانڈ کی ضرورت نہیں۔ جو پہلا ریمانڈ دیا وہ کس بنیاد پر تھا؟ پولیس کی جانب سے عدالت کو آگاہ کیا گیا کہ اعظم سواتی کا مزید ریمانڈ درکار نہیں ہے۔
اس پر جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ پولیس ایسا اقدام کیوں کرتی ہے جس سے انہیں اور عدلیہ کو منہ چھپانا پڑے۔ جسٹس ہاشم کاکڑ نے پولیس کو ہدایت دی کہ صوبے میں اعظم سواتی کے خلاف درج کی گئی تمام ایف آئی آرز ختم کی جائیں اور اگر ان پر کسی اور کیس میں مقدمہ درج نہیں ہے تو انہیں رہا کردیا جائے۔
خیال رہے کہ 4 دسمبر کو کوئٹہ کی مقامی عدالت نے متنازع ٹوئٹ کے کیس میں گرفتار سینیٹر اعظم سواتی کو 5 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کیا تھا۔