سپریم کورٹ نے ریکوڈک معاہدہ قانونی قرار دے دیا
سپریم کو رٹ نے ریکوڈک منصوبے سے متعلق کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے ریکوڈک معاہدے کو قانونی اور ماحولیاتی اعتبار سے درست قرار دے دیا ہے۔
چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 5 رکنی لارجر بینچ نے ریکوڈک منصوبے سے متعلق صدارتی ریفرنس کی سماعت کی تھی۔ اور سماعت مکمل کرتے ہوئے رائے محفوظ کرلی تھی۔
آج سپریم کورٹ کی رائے سامنے آئی ہے جس میں لکھا گیا ہے کہ ریکوڈک ریفرنس میں صدر مملکت نے 2 سوالات پوچھے تھے۔ اس حوالے سے عالمی ماہرین نے عدالت کی معاونت کی۔ معدنی وسائل کی ترقی کے لیے سندھ اور خیبرپختونخوا حکومت قانون بنا چکی ہے۔ قانون میں تبدیلی سندھ اور خیبر پختونخوا کا حق ہے۔ آئین خلاف قانون قومی اثاثوں کے معاہدے کی اجازت نہیں دیتا۔ صوبے معدنیات سے متعلق قوانین میں تبدیلی کر سکتے ہیں۔
سپریم کورٹ نے نئے ریکوڈک معاہدے کو قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ معاہدہ ماحولیاتی حوالے سے بھی درست ہے۔ اس معاہدے کے مطابق بیشتر افرادی قوت پاکستان کی ہوگی، ریکوڈک معاہدہ فرد واحد کے لیے نہیں پاکستان کے لیے ہے۔ فارن انویسٹمنٹ بل صرف بیرک گولڈ کے لیے نہیں ہے بلکہ ہر اس کمپنی کے لیے ہے جو 50 کروڑ ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری کرے گی۔
عدالت عظمیٰ کی جانب سے مزید کہا گیا کہ بیرک کمپنی نے یقین دلایا ہے کہ تنخواہوں کے قانون پر مکمل عمل ہوگا، مزدوروں کے حقوق کا مکمل خیال رکھا جائے گا، ریکوڈک منصوبے سے سوشل منصوبوں پر سرمایہ کاری کی جائے گی۔ وکیل نے یقین دہانی کرائی کہ اسکل ڈیولپمنٹ کے لیے منصوبے شروع کیے جائیں گے۔
عدالت کی جانب سے رائے دی گئی کہ پاکستان میں براہ راست سرمایہ کاری کےلیے قانون بنائے جائیں۔ ریکوڈک معاہدہ سپریم کورٹ کے 2013 کے فیصلے کےخلاف نہیں۔ یہ تمام ججز کا متفقہ فیصلہ ہے۔ معاہدے میں کوئی غیر قانونی شق نہیں ہے، معاہدے سے پہلے بلوچستان اسمبلی کو اعتماد میں لیا گیا۔
واضح رہے کہ جسٹس یحییٰ آفریدی نے ریکوڈک معاہدہ عوامی مفاد میں ہونے یا نہ ہونے سے متعلق سوال کا جواب نہیں دیا۔
خیال رہے کہ ریکوڈک منصوبے کے حوالے سے سپریم کورٹ نے 17 سماعتوں کے بعد 29 نومبر کو فیصلہ محفوظ کیا تھا۔ بیرسٹر فروغ نسیم سلمان اکرم راجا اور زاہد ابراہیم نے بطور عدالتی معاون کام کیا ۔