سیاسی تقسیم سے جڑے مسائل
- تحریر سلمان عابد
- جمعہ 09 / دسمبر / 2022
اس میں کوئی شبہ نہیں کہ قومی سیاسی تاریخ میں سیاسی تقسیم کی جڑیں جتنی آج زیادہ گہری ہیں ماضی میں اس کی جھلک کم نظر آتی ہے۔ ممکن ہے یہ جھلک ماضی میں بھی ہو لیکن سوشل میڈیا اور ابلاغ کے نئے جہتوں میں جو سیاسی تقسیم کا کھیل اس حالیہ سیاسی وسماجی زمانے میں ہمیں دیکھنے کو مل رہا ہے وہ ایک بڑی سیاسی حقیقت کے زمرے میں آتا ہے۔
سیاسی تقسیم محض سیاست، سیاسی جماعتوں، قیادت، سیاسی کارکنوں، ان کے سپورٹرز تک محدود نہیں بلکہ سماج میں موجود تمام فریقین یا شعبہ جات میں موجود عام یا خواص افراد یا اداروں کو اس نے اپنی لپیٹ میں لیا ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ اس وقت کی سیاسی تقسیم کی وجہ سے ہمیں محازآرائی، ٹکراو، تعصب، نفرت، تنقید کے مقابلے میں تضحیک، سیاسی اختلاف کے مقابلے میں سیاسی کشیدگی یا سیاسی دشمنی، مکالمہ کی جگہ اپنی بات کو طاقت سے منوانا، عدم برداشت او رسیاسی، سماجی و مذہبی انتہا پسندی سے جڑے معاملات سرفہرست نظر آتے ہیں۔یہ عمل سماج یا قوم کو یکجا کرنے کی بجائے ان میں ایسی تقسیم کے عمل کو پیدا کررہا ہے جو ہمیں آگے کی طرف لے جانے کی بجائے پیچھے کی طرف دکھیل رہی ہے۔
سیاسی اختلاف، تنقید اور ایک خاص سیاسی، سماجی یا مذہبی نقطہ نظر سے تعلق رکھنا بھی ہر فرد کا انفرادی حق ہے او راس حق کو تمام تر اختلافات کے باوجود ہر سطح پر تسلیم کیا جانا چاہیے۔اختلافات یا متبادل سوچ، فکر او رنقطہ نظر پر بحث کے لیے ہمیں مکالمہ درکار ہوتا ہے۔ مکالمہ سے مراد یہ نہیں ہوتا کہ ہمیں دوسروں کو فتح کرنا ہے یا ان پر اپنی سوچ اور فکر کو مسلط کرنا ہے۔ مکالمہ اپنا نقطہ نظر پیش کرنے اور دوسروں کے نقطہ نظر کو سننے کا ہی عمل ہوتا ہے او راسی بنیاد پر ایک صحت مند مکالمہ اور معاشرے کی پرورش ہوتی ہے۔ متبادل سوچ او رنقطہ نظر رکھنا معاشرے میں حسن ہوتا ہے اور اسی کی بنیاد پر معاشرے کی اعلی اقدار یا ان کی ساکھ کو تسلیم کیا جاتا ہے۔لیکن ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ اول ہم مکالمہ کی اہمیت سے آگاہ نہیں اور اگر اس کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہیں تو ہمیں مکالمہ کے سیاسی، سماجی اداب نہیں آتے۔ ہم مکالمہ کو تنازعات میں بدلنے کا ہنر رکھتے ہیں او راسی بنیاد پر تنازعات کو تواتر کے ساتھ جنم دیتے ہیں۔
ایک بنیاد یہ بنائی جاتی ہے کہ سوشل میڈیا کے آنے کے بعد یہ مسائل پیدا ہوئے ہیں۔ پہلی تصحیح ہمیں یہ کرنی چاہیے کہ یہ مسئلہ سوشل میڈیا کے آنے سے پہلے کا ہے البتہ سوشل میڈیا نے اس کا عکاسی بھی کی او راس کی شدت میں اضافہ بھی کیا۔ میڈیا میں ایک رائے یہ دی جاتی ہے کہ سوشل میڈیا پر جو لوگ ہیں ان کی تربیت نہ ہونے کے برابر ہے او رنہ تو مکالمہ کے اداب کا ان کو معلوم ہے او رنہ ہی ان کی سیاسی،سماجی سوچ اور فکر پختہ ہے۔ لیکن اگر دیانت داری سے تجزیہ کیا جائے تو سوشل میڈیا میں انتہا پسند رجحانات اور منفی باتوں کی تشہیر یا تنقید یا تضحیک کو سمجھے بغیر لکھنے، بولنے والے افراد میں ایسے ایسے بڑے نام بھی ہیں جو رسمی میڈیا سے تعلق رکھتے ہیں۔اس لیے مسئلہ رسمی یا غیررسمی کا نہیں بلکہ مجموعی طور پر ہمارے مزاج میں انتہا پسندانہ رجحانات یا ایک دوسرے کے بارے میں سیاسی انتہا پسندی یا عدم برادشت کا معاملہ بالادست نظر آتا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں پڑھے لکھے افراد او روہ سیاسی کارکن جو دائیں یا بائیں بازو، یا اسلامی و سیکولر تحریکوں یا وہ جو لبرل ازم کا پرچار کرتے ہیں ان کا انداز گفتگو بھی دیکھیں تو حیرت ہوتی ہے کہ پڑھے لکھے سیاسی سوچ والے افراد بھی کہاں جا کر کھڑے ہوئے ہیں۔سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہم نے پہلے سے ایک سیاسی پوزیشن لے لی ہے ا و رجو بھی اس پوزیشن کے حامی ہیں یا ان کے جو بھی مخالف ہیں ہم نے اپنی حمایت یا مخالفت کی رائے کو بنیاد بنا کر اپنی رائے دینی ہے۔ ہم کچھ بھی لکھیں یا بولیں یہ اس موضوع پر نہ تو سوال اٹھاتے ہیں یا جواب دیتے ہیں۔ البتہ سیاسی، سماجی او رمذہبی فتووں میں یا الزام تراشیوں میں یہ لوگ آپ کو ہر جگہ یا ہر مقام پر نمایاں نظر آتے ہیں۔دلیل سے گفتگو کرنا یا شواہد کی بنیاد پر اپنی رائے دینے کا عمل کمزور جبکہ جذباتیت، سیاسی جگالی یا سیاسی تنقید کے نام پر تضحیک یا سیاسی سطح پر ڈرامہ بازی یا جگت بازی کا کھیل نمایاں ہوگیا ہے۔سنجیدہ گفتگو یا مکالمہ نہ تو بحران پیدا کرتا ہے او رنہ ہی ہماری ریٹنگ کی سیاست کو مضبوط بناتا ہے او رنہ ہی ہماری باتیں وائرل ہوتی ہیں۔ یہ ہیو جہ ہے کہ بڑی بات جتنی بھونڈے انداز میں پیش کی جائے اسی بنیاد پر ہماری پزیرائی ہوتی ہے جو سیاسی وسماجی کلچر کو تباہ کررہا ہے۔
ہمارے ٹاک شوز سیاسی جمود یا بے تکے موضوعات کا شکار ہوگئے ہیں اور سنجیدہ مکالمہ یا سنجیدہ مکالمہ کرنے والے افراد یا ادارے پیچھے چلے گئے ہیں یا ان کو جان بوجھ کر نظرانداز یا پیچھے کیا گیا ہے۔ٹاک شوز میں بھی تجربہ کار اینکرز یا تجزیہ کاروں کا کھیل بھی عملا ریٹنگ یا وڈیو وائرل کے کھیل سے جڑ گیا ہے۔ سیاسی و مذہبی جماعتوں او رعلمی و فکری اداروں سمیت تعلیم سے جڑے اداروں میں بھی مکالمہ کا کلچر کمزور ہوا ور تحقیق یا جستجو کے مقابلے میں جذباتیت یا منفی خبروں سمیت پروپیگینڈا نے اپنی جگہ بنالی ہے۔اس سیاسی تقسیم میں ہم نے لوگوں کو مختلف فریقین یا سیاسی جماعتوں کی حمایت اور مخالفت میں تقسیم بھی کردیا ہے۔ ایک خاص منصوبہ بندی کے تحت لوگوں کو سٹیج پر بلایا یا بٹھایا جاتا ہے او ران کو کہا جاتا ہے کہ آپ کی حمایت او رمخالفت کا دائرہ کار یہ ہے او راس حدود سے باہر نہ نکلا جائے کیونکہ یہ ہی ہمارے اسکرپٹ کا حصہ ہے۔یہ تقسیم ہمیں عدلیہ، اسٹیبلیشمنٹ، میڈیا، بیوروکریسی، صنعت کا ریا تاجر طبقہ سمیت نوجوان لڑکوں یا لڑکیوں میں بھی غالب نظر آتی ہے۔اس سے کیسے باہر نکلا جائے او رکیسے شائشتگی، روداری، بردباری، تحمل، تہذیب، اخلاقی و علمی و فکر ی قدروں کو بحال کیا جائے او رکیسے ہم خود کو بطور قوم ایک مہذہب اور ذمہ دار فرد کے طور پر پیش کرسکیں گے۔
سیاسی تقسیم برا عمل نہیں لیکن اس کو بنیاد بنا کر ایک دوسرے کے خلاف تضحیک آمیز رویے، طرزعمل، بہتان تراشی، الزام تراشی، فتوی بازی، ذاتیات کو نشانہ بنانا، کسی کی کردار کشی کرنا، جھوٹ پر مبنی مہم چلانا کسی بھی لحاظ سے ہماری سیاست، جمہوریت اور قانون کی حکمرانی سمیت ملک میں تہذیب اور شائشتگی کو پروان نہیں چڑھاسکے گا۔ یہ تحریک ہمیں اپنے تعلیمی اداروں، دینی مدارس اور اہل علم یا رائے عامہ کی تشکیل کرنے والے افراد یا اداروں کی کی بنیاد پر چلانی ہوگی۔ اس تحریک میں شاعر، ادیب، دانشور، مصنف، استاد، سیاست دان، علمائے کرام، وکیلوں سمیت سب ہی کو حصہ دار بننا ہوگا۔ کیونکہ یہ تحریک کسی سیاسی تنہائی میں نہیں چلے گی ہمیں معاشرے میں مکالمہ او رخاص طور پر تہذیب کے دائرہ کار میں مکالمہ کے فروغ کے لیے ایک بڑے دباو کی پالیسی یا پریشر گروپ کے طور پر کام کرنا ہوگا۔
سیاسی نقطہ نظر یا علمی و فکری اختلاف کے باوجود سب کے ساتھ اسی نقطہ پر متفق ہونا ہوگا کہ ایک دوسرے کے بارے میں منفی سوچ اور فکر یا ایک دوسرے کی رائے کو تسلیم نہ کرنا یا ان کو کسی پر زبردستی لاگو کرنا یا ایک دوسرے کی رائے کا احترام نہ کرنا جیسے امور کو ترک کرنا ہوگا۔ہمیں مسائل یا ایشوز کی بنیاد پر بات چیت کے عمل کو آگے بڑھانا ہے تاکہ غیر ضروری اور فروحی مسائل پر ہم اپنی توانائیاں لگانے یا ضائع کرنے کی بجائے ایسے معاملات پر توجہ دیں جو ہم کو بطور ریاست آگے بڑھانے میں معاون ثابت ہو۔ ہمیں اپنے نقطہ نظر یا سوچ اور فکر کی بنیاد پر مسائل کے حل میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے نہ کہ ہم خود مسائل کو پیدا کرنے یا پہلے سے موجود مسائل کو بگاڑنے میں حصہ دار بن جائیں۔قوم کو اپنے عمل سے تقسیم کرنے کی بجائے اس کو جوڑنے کے عمل میں شامل ہوتاکہ ہم بطور ریاست اپنے داخلی اور خارجی چیلنجز سے بہتر طور پر نمٹ سکیں۔
ہمارے پڑھے لکھے افراد جو رائے عامہ تشکیل دینے میں پیش پیش ہوتے ہیں اب وقت آگیا ہے کہ وہ اپنا داخلی احتساب بھی کریں کہ ان کا طرز عمل کس طرح سے معاشرے کو فائدہ دے رہا ہے۔ اسی سچائی کی بنیاد پر ہی ہم اپنا مستقبل تلاش کرسکتے ہیں اور ان ہی مسائل کے حل سے ہمارے معاملات جڑے ہوئے ہیں۔