پاکستان کے ناکام لانگ مارچ

پیپلزپارٹی نے فروری 2022 بلاول بھٹو کی قیادت میں تحریک انصاف کی وفاقی حکومت کے خلاف کراچی سے اسلام آباد تک لانگ مارچ کیا- لانگ مارچ شروع کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے دعوٰی کیا تھا کہ پیپلزپارٹی کا یہ لانگ مارچ اسلام آباد پہنچتے ہی تحریک انصاف حکومت کا خاتمہ کر دے گا-

کراچی سے اسلام آباد تک راستے میں ہر شہر میں رکنے ، حکومت مخالف تقاریر کرنے کے بعد جب پیپلزپارٹی کا لانگ مارچ اسلام آباد پہنچا، تو اسلام آباد میں تحریک انصاف کی وفاقی حکومت کو کچھ نہیں ہوا - پیپلزپارٹی کا لانگ مارچ اسلام آباد پہنچنے کے بعد بلاول بھٹو کی ایک سطری تقریر کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔ بلاول بھٹو نے اسلام آباد لانگ مارچ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آپ سب شرکاء کا شکریہ کہ آپ نے ہمارے ساتھ تعاون کیا، اب ہمارا لانگ مارچ ختم ہورہا ہے۔ اس لیے کارکن ہمارے اگلے اعلان کا انتظار کریں- یعنی پیپلزپارٹی کا لانگ مارچ بغیر کوئی مثبت نتائج لیے بڑی طرح ناکام ہوگیا- یعنی تحریک انصاف وفاقی حکومت نے کوئی مطالبہ نہیں مانا اور نہ ہی تحریک انصاف کی حکومت ختم ہوئی-

مارچ 2022 میں مسلم لیگ ن نے مریم نواز کی قیادت میں تحریک انصاف کی وفاقی حکومت کے خلاف مہنگائی لانگ مارچ لاہور سے اسلام آباد تک کیا۔ مریم نواز مہنگائی مارچ شروع کرتے ہوئے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت جاچکی ہے، بس خدا حافظ کہتے ہیں اسلام آباد پہنچیں گے تو حکومت کا خاتمہ ہوگا۔ موجودہ حکومت میں کوئی تبدیلی، ٹرانسفر یا کوئی بھی پوسٹنگ رشوت کے بغیر نہیں ہوتی- مریم نواز مہنگائی مارچ لاہور سے اسلام آباد کے ہر شہر میں تحریک انصاف حکومت مخالف تقاریر اور نعرے لگانے کے بعد اسلام آباد پہنچنے سے پہلے ہی ختم ہوگیا- مہنگائی مارچ کے اختتام پر مریم نواز نے اپنے کارکنوں سے مختصر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے ہمارا ساتھ دے کر ثابت کیا ہے کہ پاکستان کے مسائل صرف نواز شریف کو وزیراعظم بناکر ہی حل کیے جا سکتے ہیں۔ اس لیے اب یہ مہنگائی مارچ ختم ہوتا ہے اور کارکن ہمارے اگلے اعلان کا انتظار کریں- اس مہنگائی مارچ سے نہ پاکستان میں مہنگائی ختم ہوئی اور نہ ہی وفاق میں موجود تحریک انصاف کی حکومت ختم ہو سکی۔

ان دو مارچ سے تحریک انصاف کی حکومت ختم نہ ہوئی، جس پر آصف علی زرداری اور مولانا فضل الرحمن نے جمہوریت کا سہارا لے کر پاکستان کی قومی اسمبلی میں نئی سیاسی حکمت عملی اپنائی۔ اس نئی سیاسی حکمت عملی کے تحت حکومتی اتحاد میں موجود ناراض سیاسی جماعتوں اور ناراض ممبران اسمبلی کو اپنا ساتھ ملا لیا- جس سے قومی اسمبلی میں پی ڈی ایم کی اکثریت ہوگئی اور وہ تحریک انصاف حکومت کے خلاف عدم اعتماد لے آئے- عدم اعتماد والے دن پی ڈی ایم نے پارلیمان میں اپنی عددی اکثریت ثابت کردی ، جس سے وفاق میں تحریک انصاف حکومت کا خاتمہ ہوگیا اور عمران خان وزرات عظمئ سے ہاتھ دھو بیٹھے-

عدم اعتماد کے بعد تحریک انصاف کی وفاقی حکومت ختم ہونے کے ساتھ ہی ، عمران خان نے عوام کو اپنی پارٹی کے ساتھ جڑ ے رکھنے کی کوششیں شروع کردی۔ اس سلسلے میں پاکستان کے مختلف شہروں میں بڑے عوامی جلسے کیے۔ جلسوں میں لوگوں کی زیادہ تعداد دیکھتے ہوئے عمران خان صاحب نے وفاقی حکومت کے خلاف لانگ مارچ کا اعلان کردیا-

لانگ مارچ کے 3 بڑے مقاصد تھے- 10، 20 لاکھ بندے جمع کر کے ریاستی نظام کو مفلوج کرنا، ریاستی نظام مفلوج ہوتا دیکھ کر شہباز شریف کو حکومت کے خاتمے کا اعلان کرنا پڑے گا- شہباز شریف حکومت ختم ہونے کے بعد ازخود شہباز شریف کو نئے انتخابات کی تاریخ دینا پڑے گی- نئے انتخابات کی تاریخ 26 نومبر 2022 سے پہلے لینا تحریک انصاف کی ترجیح تھی  تاکہ شہباز شریف حکومت نئے آرمی چیف کی تعیناتی نہ کر سکے بلکہ انتخابات کے بعد جو حکومت آئے وہ نئے آرمی چیف کی تعیناتی کرے -

تحریک انصاف نے 29 اکتوبر 2022 کو لاہور سے اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ شروع کیا- دوران لانگ مارچ تحریک انصاف نے پاکستان کے مختلف شہروں میں جلسے منعقد کیے، ان جلسوں میں تحریک انصاف کی قیادت نےپی ڈی ایم کی مرکزی حکومت ، پاکستانی اسٹیبلشمنٹ اور بیرونی طاقتوں کو خوب تنقید کا نشانہ بنایا- جلسوں اور ذرائع ابلاغ پر دیکھنے والے سامعین کو آزادی کیا ہوتی ہے ، انصاف کیوں ضروری ہے پر بڑے بڑے درس دیے - سوشل میڈیا، ٹیلی ویژن اور اخبارات پر اس لانگ مارچ کی خوب تشہیر ہوئی ، جس سے پورے ایک ماہ تحریک انصاف پاکستان کے سیاسی منظرنامے پر چھائی رہی- ان سب تفصیلات کومدنظر رکھتے ہوئے عمران خان صاحب نے 26 نومبر 2022 کو لانگ مارچ کو راولپنڈی پہنچنے کی ہدایات جاری کردی- اب سب ذرائع ابلاغ اور سیاست سے دلچسپی رکھنے والے تجسس میں تھے کہ 26 نومبر کو شاید عوام کا سمندر ہوگا اور شہباز شریف کی حکومت ختم ہوجائے گی –

تحریک انصاف کے عام کارکنان کو بھی یہی یقین تھا کہ اب انقلاب آئے گا اور شہباز شریف کی حکومت ختم ہوکر نئے انتخابات کا اعلان ہوجائے گا- لانگ مارچ جب 26 نومبر 2022 کو راولپنڈی پہنچا تو مارچ میں شریک شرکاء یہ امید لگائے بیٹھے تھے کہ اب پارٹی قیادت ہمیں اسلام آباد جانے کی کال دے گی تاکہ لانگ مارچ اسلام آباد پہنچ کر شہباز شریف حکومت کا خاتمہ کر دیں- مگر عمران خان صاحب نے شرکاء کو اسلام آباد جانے کا کہنے کے بجائے یہ کہنا شروع کر دیا کہ وفاقی حکومت نئے انتخابات کی تاریخ کا جلد اعلان کرے ، اگر ایسا نہ کیا گیا تو تحریک انصاف مشاورت کے بعد اپنی صوبائی حکومتیں تحلیل کر دے گی، اس کے بعد لانگ مارچ ختم کر دیا گیا-

نتیجہ یہ نکلا کہ اتنی بڑی سیاسی سرگرمی شروع کرنے کے بعد تحریک انصاف لانگ مارچ سے وفاقی حکومت سے ایک بھی مطالبہ نہ منواسکی اور اپنے سیاسی مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہی- 2022 کے تینوں پاکستانی سیاسی پارٹیوں کے لانگ مارچ کا جائزہ لیں تو معمولی سوج بوجھ رکھنے والا،سیاسی کارکن یہ سمجھ سکتا ہے کہ پاکستان کے حالات میں لانگ مارچ کیوں کامیاب نہیں ہوتے یا کیوں مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کرسکے -

2022 میں مسلم لیگ ن، پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف کے لانگ مارچ ناکام ہونے کی درج ذیل وجوہات ہیں:

1) لانگ مارچ شروع کرنے کا فیصلہ پارٹیوں کی غیر منتخب قیادت نے کیا، عام پارٹی کارکنان کی اس،فیصلے میں رائے شامل نہیں تھی -

2) تینوں پارٹیوں کے لانگ مارچ میں عام عوام اور شہری کی شرکت بہت کم، بلکہ نہ ہونے کے برابر- لانگ مارچ میں وہ لوگ شریک ہوئے جو کسی مقامی ایم این اے، ایم پی اے اور عہدے دار کے سپورٹرز تھے- مطلب لانگ مارچ میں شرکت کرنے والے شرکاء کو لانگ مارچ کے پیغام سے کوئی دلچسپی نہیں- یہ شرکاء صرف اور صرف اپنے ذاتی مفاد کے لیے ایم این اے، ایم پی اے کو سپورٹ کرنے نکلے تھے ، تاکہ بوقت ضرورت ان سے اپنے چھوٹے موٹے ذاتی کام کرا لیے جائیں-

3) لانگ مارچ کا بڑا مقصد سیاسی پارٹیوں کی قیادت کا واپس اقتدار حاصل کرنا تھا، نہ کہ کسی عوامی ایشو کو حل کرنا- اس وجہ سے ملکی ذرائع ابلاغ میں تینوں لانگ مارچ کی گہما گرمی تو رہی ، لیکن تینوں لانگ مارچ عام عوام میں پذیرائی حاصل نہ کرسکے، جس کی وجہ سے سیاسی پارٹیاں اتنی زیادہ تعداد میں عام عوام کو باہر نکالنے میں ناکام رہے ، جس تعداد سے اقتدار کے ایوانوں میں کوئئ خطرہ محسوس ہوتا-

4) تینوں لانگ مارچ میں پارلیمان، ریاستی انتظامی ڈھانچہ مکمل طور پر فعال تھا، اس ریاستی فعالیت انتظامی ڈھانچے میں لانگ مارچ کے کسی پرتشدد ایڈونچر سے نمٹنے کی پوری صلاحیت موجود تھی جس سے حکومت ختم ہونے کا کوئی خطرہ نہیں تھا-

5) اہم وجہ ریاست پاکستان کا جمہوری آئین ہے جو از خود ملک میں کسی انہونی غیر معمولی واقعات اور جمہوریت، جمہوری اقدار کی حفاظت کرتا ہے - یہی کچھ ان تینوں لانگ مارچ کے ناکام ہونے کے وقت دیکھنے کو ملا-

ان لانگ مارچ کی ناکامی کو دیکھتے ہوئے اب سیاسی پارٹیوں کے زعما اور ان پارٹیوں کی قیادت کے سپورٹرز کو سمجھنا چاہیے کہ پاکستان میں  جمہوری آئین، قومی و صوبائی اسمبلیاں موجود ہونے اور ریاستی انتظامی اتھارٹی قائم ہونے کے باعث مستقبل میں بھی کوئی لانگ مارچ کامیاب نہیں ہو سکے گا- اس لیے ضروری ہے کہ سیاسی پارٹیوں کی قیادت ملک میں موجود منتخب متفقہ پلیٹ فارم اسمبلیوں میں بیٹھ کر مل جل کر افہام و تفہیم سے عوامی مسائل حل کرے- ناکہ فضول قسم کے لانگ مارچ شروع کرکے ملک میں سیاسی بے یقینی کا موجب بن کر ملکی معیشت ، عوام کی روز مرہ زندگی کو نقصان پہنچائے-