سیاسی لیڈروں کی حوصلہ مندی کے بنا فوج غیر سیاسی نہیں ہوگی

صدر مملکت عارف علوی نے مشورہ دیا ہے کہ فوج نے بالآخر ’غیر سیاسی‘ رہنے کا اعلان کیا ہے تو  سیاست دانوں کو اس موقع کا فائدہ اٹھانا چاہئے۔  عارف علوی دل و جان سے تحریک انصاف کے نمائیندے اور عمران خان کے وفادار ہیں لیکن اس کے باوجود فوج اور سیاست کے بارے میں پارٹی لائن سے ہٹ کر بیان دینے پر داد کے مستحق ضرور ہیں۔ البتہ دوسرے سیاسی لیڈروں  یا قوم کو اس مشورہ سے نوازنے سے قبل انہیں اپنے لیڈر کو بتانا چاہئے کہ فوج  کی طرف سے غیر سیاسی ہونے کا اعلان ملکی سیاست و جمہوریت کے لئے خوشی کی خبر ہے۔

عمران خان  کو اقتدار سے علیحدہ ہونے کے بعد  فوج سے ایک ہی شکوہ رہا ہے کہ اس نے انہیں بچانے میں کردار کیوں ادا نہیں کیا۔ اگر فوج تمام مشکلات عبور کرکے  تحریک انصاف کو ون سیٹ پارٹی سے   ملک کی بڑی پارٹی بنوانے  کا ’معجزانہ‘ کارنامہ سرانجام دے سکتی تھی تو آخر کیاوجہ ہے کہ  اس نے اپریل 2022 میں اپنے ہی پروردہ چھوٹے چھوٹے سیاسی گروہوں کو تحریک انصاف کی بجائے   پاکستان جمہوری تحریک کا  ساتھ دینے پر آمادگی ظاہر کی۔  اسی لئے عمران خان کی نگاہ میں  جنرل قمر جاوید باجوہ ’میر جعفر و صادق‘ کہلائے اور نیوٹرلز ہونا ایک غیر انسانی خوبی  قرار دیاگیا۔  اگرچہ   عمران خان کے برتے پر پنجاب میں حکومت کرنے والے پرویز الہیٰ اب جنرل  باجوہ کے وکیل بنے ہوئے ہیں اور دعویٰ کررہے ہیں کہ وہ تو  ’گمراہ‘ ہوجاتے لیکن باجوہ اللہ کی رحمت بن کر  آگئے اور ان کی تحریک انصاف کی طرف رہنمائی کردی۔

عمران خان کو اپنے چہیتے مونس الہیٰ اور ’وفادار وزیر اعلیٰ‘ پرویز الہیٰ سے تو بظاہر کوئی اختلاف نہیں ہے البتہ  وہ ان انکشافات کو  اپنی غلطی مان کر اصلاح احوال پر آمادہ ہونے کی بجائے یہ دعویٰ کررہے ہیں کہ  ’یہی تو میں بھی کہتا ہوں کہ باجوہ  ڈبل گیم کررہا تھا۔ پرویز الہیٰ کو میری طرف بھیج دیا اور چوہدری شجاعت کو پی ڈی ایم کے ساتھ جانے کا اشارہ دے دیا‘۔   ملکی سیاست میں جنرل باجوہ کے کردار کی جو پرتیں سامنے آرہی ہیں اور   نجی ملاقاتوں میں وہ جیسے کھل کر ملکی سیاسی شکست و ریخت میں  حصہ دار بنے ہوئے تھے، اس کی روشنی میں پاک فوج کے سابق سربراہ کو کوئی رعایت نہیں دی جاسکتی۔

فوج کا ’خود احتسابی کا نظام‘ یا ملکی خود مختار عدلیہ ، اس طرف متوجہ نہ بھی  ہو لیکن ملکی  تاریخ  میں جنرل قمر جاوید باجوہ کو ایک ایسے  بداندیش کردار  کے طور پر یاد رکھا جائے گا جس  نے ایک  تو اپنے آئینی مینڈیٹ سے تجاوز کیا، کسی ٹھوس منصوبہ کے بغیر ملک کے نظام کو اپنی نام نہاد  ڈاکٹرائن اور ہائیبرڈ نظام سے تبدیل کرکے ’نئے پاکستان ‘ کا معمار اعظم بننے کا ارادہ کیا۔ اور 6 سال تک    غیر قانونی ہتھکنڈوں سے  ملکی سیاست   ایسی اکھاڑ پچھاڑ کی  جس نے  ملکی معیشت کی جڑیں ہلا کر رکھ دیں۔  اپریل میں  عدم اعتماد کامیاب کروانے کا مقصد  درحقیقت   عمران خان کو  یہ پیغام پہنچانا تھا کہ  وہ خود کو کوئی بڑا سیاسی رہنما نہ سمجھیں، ان کی ساری نبضیں باجوہ اینڈ کمپنی کے ہاتھ میں ہیں۔ جب عوامی رابطہ مہم اور   غم و غصہ کی  بے پایاں کیفیت میں عمران خان نے براہ راست فوج کو نشانے پر لینے کی کوشش کی تو باجوہ کو بار بار فوج کے غیر سیاسی رہنے کے عزم کا اظہار کرنا پڑا۔ البتہ اب یہ واضح ہوچکا ہے کہ  جنرل باجوہ کا حقیقی منصوبہ شاید عمران خان کو بدستور تھپکتے رہنا تھا، اسی لئے پنجاب  میں تحریک انصاف کی حکومت قائم کروائی گئی۔ پرویز الہیٰ کو  اس اتحادی حکومت کا سربراہ بنانایوں اہم تھا کہ پرویز الہیٰ ، عمران خان کے برعکس    قابل اعتماد  اور آزمایا ہؤا مہرہ تھا۔ ان کی موجودگی میں جنرل باجوہ بالواسطہ طور سے  عمران خان کو کنٹرول کرنے کا ارادہ رکھتے تھے۔   جیسا کہ  دروں خانہ رازوں سے آگاہ ملک کے متعدد صحافی و اینکر تواتر سے کہہ رہے ہیں  کہ کچھ حقائق سامنے آئے ہیں اور سارے کردار ابھی منظر عام پر نہیں آئے ۔ البتہ امید کی جارہی ہے کہ آنے والے وقت میں مزید  سچائیاں  سامنے آئیں گی  اور فوجی طاقت کی بنیاد  پر ملک میں عوامی حق حکمرانی کو مجروح کرنے والے مزید کردار بے پردہ ہوں گے۔

صدر عارف علوی کی تجویز کے حوالے سے اس گفتگو کا مقصد البتہ  یہ بتانا نہیں ہے کہ عمران خان کیسے اقتدار میں آئے اور کیسے انہیں پال پوس کر وزارت عظمی کے منصب کے لئے تیار کیا گیا۔ عارف علوی چونکہ  اس خوش گمانی کا اظہار رکررہے ہیں کہ فوج نے ’غیر سیاسی ’ ہونے کا فیصلہ کیا ہے ، اس لئے اب سیاست دانوں کو اس سے فائدہ اٹھانا چاہئے۔ لیکن بنیادی نکتہ یہ ہے کہ ان کے اپنے لیڈر اور ’آئیڈیل‘ تو اب بھی فوج  سے انہی خدمات کی امید لگائے بیٹھے ہیں  جو جنرل باجوہ کے دور میں انہیں حاصل ہوئی تھیں۔ گزشتہ روز ہی ایک  گفتگو میں عمران خان نے واضح کیا ہے کہ نئی فوجی قیادت باجوہ کی پالیسیوں کو تبدیل کرے اور ملکی سیاست کی   سمت  درست کردے۔    اب یہ کوئی  راز نہیں رہا کہ عمران خان  مقبولیت  کے دعوے کرنے یا کسی  حد تک اس کا تجربہ کرنے کے باوجود  ابھی تک یہ باور کرنے  پر تیار نہیں ہیں کہ وہ    سیاسی لیڈر   کے طور پر عوام کی تائید سے منتخب ہوکر ایک بار پھر وزیر اعظم بن سکتے ہیں۔

وہ اب بھی  یہی چاہتے ہیں کہ  فوج  ایک نیا ’جنرل فیض‘ ان کی خدمت پر مامور کردے تاکہ  وہ  ایک ہی جست میں دوبارہ اقتدار کی مسند پر جا بیٹھیں۔   عمران خان  اس طریقہ سے صرف اقتدار ہی نہیں چاہتے بلکہ ان کا یہ مطالبہ بھی ہے کہ فوج ان کی فرنٹ فورس کا رول  ادا کرتے ہوئے تحریک انصاف کی سیاست کو چیلنج کرنے والے تمام لیڈروں کو  منظر نامہ سے  غائب کردے۔ وہ بار بار این آر او اور احتساب کا حوالہ اسی لئے دیتے ہیں کہ  وہ ان ناجائز طریقوں سے ہی ملک میں ایسی شخصی حکومت قائم کرنا چاہتے ہیں جس میں عمران خان تاحیات قوم کے ’نجات دہندہ‘ کے طور پر  سیاہ  و سفید کے مالک  بن جائیں ۔  اسی لئے چین، سعودی عرب یاایران و شمالی کوریا کے نظام  عمران خان کو آئیڈیل اور فعال لگتے ہیں۔  اس قسم کے نظام میں سیاسی انتقام  کو  قومی اصلاح کا نام دیا جاتا ہے اور فرد واحد کی جاہ پسندی کے لئے ہر جمہوری و اخلاقی روایت کو  پامال کیا جاتا ہے۔   تاحیات اقتدار کے خواب کی تکمیل کی خواہش میں  عمران خان اس حد تک بدحواس دکھائی دیتے ہیں کہ انہیں یہ سمجھنے میں بھی شدید دشواری کا سامنا ہے کہ فوج   غیر آئینی طریقے اختیار کرکے  کسی کو  اقتدار تک پہنچانے کے بعد خود کو اس کے تابع فرمان کیوں کرے گی؟ اب عمران خان خواہ   جنرل باجوہ کے بارے میں جو بھی کہتے رہیں کہ’ وہ میرے نیچے تھے، میں وزیر اعظم تھا یامیں نے  کبھی انہیں باس نہیں کہا‘ لیکن حقیقت تو یہی رہے گی کہ عمران خان کے ساڑھے تین سالہ دور اقتدار میں جنرل باجوہ ہی ’ حقیقی  باس‘ تھے اور عمران خان ان کے فرنٹ مین۔

نئی فوجی قیادت کی سیاسی ترجیحات اور طرز عمل کے بارے میں موجودہ مبہم تصویر  اگلے سال کے وسط تک واضح ہوسکے گی۔  لیکن صدر عارف علوی کی معصومیت پر ترس کھانا چاہئے کہ اب فوج نے غیر سیاسی رہنے کا وعدہ کرکے  سیاست دانوں کو موقع فراہم کیا ہے کہ وہ ملک میں حقیقی جمہوری  نظام مستحکم کرلیں۔ حیرت ہے کہ فوج کا سابق سربراہ  ریٹائیرمنٹ سے پہلے خود یہ اعتراف کرکے  گیا کہ  فوج نے 70 سال تک  غیر آئینی طریقوں سے سیاست میں مداخلت کی ۔  اب  کیسے یقین کرلیا جائے کہ   جو فوج ملکی آئین کو پامال کرتے ہوئے سیاسی کھیل کھیلتی رہی ، وہ باجوہ کے اعلان کی وجہ سے اب ’غیر سیاسی‘ رہنے کے عہد کا  احترام کرے گی؟ قمر جاوید باجوہ کے  عہدے کی مدت کے آخری  چند ماہ کے بارے میں جو معلومات سامنے آرہی ہیں، ان کے مطابق  فروری میں غیر سیاسی رہنے کا فیصلہ کرنے کے بعد بھی جنرل باجوہ سیاسی پسند ناپسند کا کھیل کھیلنے میں مصروف رہے تھے۔ اسی لئے پرویز الہیٰ اس وقت پنجاب کے وزیراعلیٰ ہیں اور عمران خان تمام تر بے اعتدالیوں کے باوجود  زمان پارک میں محفوظ و مامون بیٹھے ہیں۔  سوچنا چاہئے کہ  جو شخص خود اپنے وعدے کا احترام کرنے میں  کامیاب نہیں ہؤا، یہ کیسے توقع کی جائے کہ  ان کے  جانشین  ان کے  کئے ہوئے وعدوں اور کی گئی تقریروں پر ہوبہو عمل کریں گے۔

سیاست میں فوج کا عمل دخل  نہ صرف غیر آئینی  ہے بلکہ یہ خود فوج کے مورال اور  دفاعی ادارے کے طور پر  اس کے مستقبل کے لئے بھی شدید نقصان دہ ہے۔ البتہ ایک بات واضح ہونی چاہئے کہ ملکی سیاست دان اگر  عوامی تائیدپر انحصار کرکے ملکی  نظام کی جڑیں  حقیقی جمہوری روایت پر استوار نہیں کریں گے اور عوامی طاقت کے بل بوتے پر فوج کے  دائرہ عمل کے بارے میں  قواعد و ضوابط کا نیا ڈھانچہ استوار نہیں کریں گے تو فوج کا کوئی اعلان یا وعدہ ملک میں جمہوری روایت  راسخ نہیں  کرسکتا۔   اب  واضح ہونا چاہئے کہ یہ طے کرنا فوج کا کام نہیں ہے کہ وہ  غیر سیاسی رہے گی یا مرضی کا حکمران ملک پر مسلط کرے گی یا پھر مارشل لگائے گی۔  ملک کی پارلیمنٹ کو طے کرنا ہوگا کہ مستقبل میں  فوج کے کسی  عہدیدار کو سیاسی، سفارتی اور معاشی معاملات میں مداخلت کی اجازت نہیں ہوگی۔ ملکی حکومت ہی پارلیمنٹ میں مباحثہ کے بعد  قومی سلامتی  پالیسی وضع کرے گی اور فوجی کمان کو کسی چوں و چرا کے بغیر اس پر عمل کرنا ہوگا۔  سیاست دان اگر   خود میں یہ حوصلہ پیدا نہیں کرسکتے تو عسکری قیادت   سیاسی معاملات میں  مداخلت  پر ’مجبور‘ ہوتی رہے گی۔

صدر  عارف علوی نے   گزشتہ روز  نئے چئیرمین جوائینٹ چیفس آف اسٹاف جنرل ساحر شمشاد مرز ا  اور نئے آرمی چیف  جنرل عاصم منیر کو ملک و قوم کی  قابل قدر خدمات  انجام دینے پر  نشان امتیاز  (فوجی) عطا کیا ہے۔  واضح رہے کہ اگر ان دونوں   فوجی افسروں  کو   اپنے عہدے سنبھالے ابھی محض  دس روز ہوئے ہیں۔  موجودہ حیثیت میں ان کی خدمات کا اندازہ کچھ مدت گزرے بغیر کیسے کیا جاسکتا ہے؟ اور اگر یہ اعزاز ان کی سابقہ خدمات کے اعتراف میں دیا گیا ہے تو  یہ بھی نوٹ کرنا چاہئے کہ اگر وزیر اعظم  ان دونوں افسروں کی جگہ جونئیر جرنیلوں کو ان عہدوں پر فائز کردیتے تو فوجی روایت کے مطابق یہ دونوں اپنے عہدوں سے ریٹائر ہوچکے ہوتے۔  

ملک میں فوج کے غیر سیاسی  ہونے کا ’فائدہ‘ اٹھانے کا مشورہ دینے والے صدر خود ہی بتائیں کہ  نئے فوجی لیڈروں کو فوری طور سے اعزاز عطا کرنے کا اقدام  ملک میں سول رول کی بالادستی کا مظہر ہے یا اس خوف کا کہ  کہیں فوج ہم سے  اختیار ہی نہ چھین لے؟