رانا ثنااللہ کو منشیات اسمگلنگ کیس سے بری کردیا گیا
انسداد منشیات کی خصوصی عدالت نے وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنااللہ کو منشیات برآمدگی کیس میں باعزت بری کردیا ہے۔
منشیات اسمگلنگ کیس سے بریت کے لیے رانا ثنااللہ کی درخواست پر سماعت ہوئی جس میں اینٹی نارکوٹکس فورس کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر امتیاز اور انسپکٹر احسان عدالت میں پیش ہوئے۔ دوران سماعت اسسٹنٹ ڈائریکٹر امتیاز اور انسپکٹر احسان نے پراسکیوشن کے الزام کو غلط قرار دیا۔ اس موقع پر دونوں گواہوں نے بھی بیان حلفی عدالت میں جمع کرایا جس میں کہا گیا کہ ہمارے سامنے منشیات برآمدگی نہیں ہوئی۔
انسداد منشیات کی خصوصی عدالت نے سماعت میں پندرہ منٹ کا وقفہ کیا جس کے بعد منشیات اسمگلنگ کیس میں رانا ثنااللہ کی بریت کی درخواست منظور کرتے ہوئے خصوصی عدالت نے رانا ثنااللہ کو بری کر دیا۔ عدالت نے دیگر شریک تمام ملزمان کو بھی بری کر دیا۔
اس سے قبل آج رانا ثنا اللہ کی جانب سے دائر بریت کی درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ ان کے خلاف مقدمہ جھوٹ پر مبنی اور من گھڑت ہے۔ ان کے خلاف سیاسی بنیادوں پر مقدمہ درج کیا گیا۔ درخواست میں پی ٹی آئی رہنما فواد چوہدری کے ایک بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سابق وزیر نے واضح طور پر کہا تھا کہ یہ مقدمہ عمران خان کی حکومت کے کہنے پر درج نہیں کیا گیا بلکہ ملک کی بااثر شخصیات نے ان کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا۔
وفاقی وزیر نے عدالت سے استدعا کی کہ مساوات اور انصاف کی بنیاد پر انہیں مقدمے سے بری کیا جائے۔ خیال رہے کہ رانا ثناللہ کو سابقہ حکومت کے دور میں جولائی 2019 کو منشیات اسمگلنگ کیس میں گرفتار کیا گیا تھا۔ انسداد منشیات فورس نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کی گاڑی سے 15 کلو ہیروئن برآمد ہوئی ہے، جس کے بعد انسداد منشیات ٹیم نے پاکستان مسلم لیگ رہنما کے سیکیورٹی گارڈ اور ڈرائیور سمیت 5 افراد کو گرفتار کیا تھا۔
ٹرائل کورٹ نے انہیں دو بار ضمانت دینے سے انکار کردیا تھا تاہم 24 ستمبر 2019 کو لاہور ہائی کورٹ نے منشیات برآمدگی کیس میں گرفتار مسلم لیگ (ن) پنجاب کے صدر رانا ثنا اللہ کی درخواست ضمانت منظور کرتے ہوئے ان کی رہائی کا حکم دیا تھا۔
انسداد منشیات فورس کی جانب سے درج ایف آئی آر میں کہا گیا کہ رانا ثنا اللہ مبینہ طور پر منشیاب کی اسمگلنگ اور ہیروئن لے جانے کے الزام میں نامزد ہیں۔