ہیومن رائٹس چارٹراور مسلم معاشرے
- تحریر افضال ریحان
- ہفتہ 10 / دسمبر / 2022
آج بشمول پاکستان پوری دنیا میں انسانی حقوق کا عالمی دن منایا جا رہا ہے۔ 10دسمبر 1948 کو فرانس کے شہر پیرس میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے تیس شقوں پر مشتمل ہیومن رائٹس کے جس عالمی چارٹر کی منظوری دی۔ وہ پوری انسانیت کیلئے سنگ میل ہے۔
اس پر دستخط کرتے ہوئے اقوام عالم یو این کی ممبر بنتی ہیں، جس کا لازمی تقاضا ہے کہ وہ اپنے ممالک میں ان اعلیٰ انسانی آدرشوں کی پاسداری کریں گی۔ اس قدر اہمت کی حامل دستاویز کو پوری دنیا کے سامنے تسلیم کرنے کے بعد بدیہی تقاضا بنتا ہے کہ یہ ممالک اپنے تمام افراد قوم کو یہ برتر انسانی اصول و ضوابط اور ان کی اہمیت ذہن نشین کرواتے ہوئے اپنے اپنے ممالک کے تعلیمی نصاب اور میڈیا میں نمایاں مقام دیں۔ مگر افسوس کئی جبری سوسائٹیوں بالخصوص ہماری مسلم سوسائٹیوں میں نہ تو اس حوالے سے کوئی خاص ادراک ہے اور نہ ان ممالک کے ذمہ داران یا طاقتور طبقات میں اس حوالے سے زیادہ تشویش یا فکر مندی پائی جاتی ہے۔
ہیومن رائٹس کے حوالے سے اس سال کو انسانی عظمت و وقار، انصاف اور شخصی آزادیوں سے منسوب کیا گیا ہے۔ افراد کی آزادیوں میں مذہبی آزادی سب سے بڑھ کر تقدس و حرمت کی حامل ہے یعنی کوئی بھی شخص مرد ہو یا عورت چھوٹا ہو یا بڑا امیر ہو یا غریب ، سفید ہو یا کالا یا بھورا اپنے ضمیر کی مطابقت میں نظریہ و فکر کی کامل آزادی کے ساتھ جونسا مذہب یا عقیدہ چاہے رکھے اسے تبدیل یا ترک کرے یا کوئی بھی عقیدہ نہ رکھے۔ انسانی عظمت و وقار اور فطری انصاف کا تقاضا ہے کہ اسےکسی نوع کا کوئی جبر نہیں ہو گا، کسی دوسرے شخص کو کسی بھی مقدس جواز یا حیلے و تاویل کے زیر اثر اس کا یہ بنیادی انسانی حق چھیننے یا اس میں دخل دینے کی اجازت نہیں ہو گی اگر کوئی احمق یا نادان اس نوع کی جسارت کرتا پایا جائے گا تو ریاست کی ذمہ داری ہو گی کہ وہ ایسی مداخلت بیجا ، ہراسمنٹ یا دبائو کا قلع قمع کرے۔ اور جس انسان یا کمیونٹی پر اس نوع کا دباؤ ڈالا گیا ہے اسے پورا تحفظ فراہم کرے۔
اب ہم حقائق کی کسوٹی پر اس کا جائزہ لیتے ہیں۔ ہماری بیشتر مسلم ریاستوں میں انسانی حقوق کی ان شقوں پر عملدرآمد ی یا تحفظ تو بعد کی بات ہے ، وہ عام انسانوں یا سوسائٹی کے کمزور طبقات کی طاقت کیا بنیں گی۔ الٹی خود انسانی آزادیاں کچلتے ہوئے اپنے لوگوں پر مختلف حیلوں بہانوں سے جبر کے بدترین ہتھیار چلاتی پائی جاتی ہیں۔ یا سوسائٹی کے حاوی طاقتور طبقات کی پشت پناہ بن جاتی ہیں۔ انسانی حقوق کے امریکی اداروں نے حال ہی میں مذہبی آزادیوں کی شدید خلاف ورزی کے مرتکب جن ممالک کی فہرست جاری کی ہے چین اور شمالی کوریا کی طرح ہمارا وطن عزیز پاکستان ان میں سرفہرست ہے۔
سوال یہ ہے کہ انسانی حقوق اور مذہبی آزادیوں کے حوالے سے دنیا میں کہیں بھی کوئی بحث یا رپورٹ آتی ہے ، آخر عالمی سطح پر ہمارے متعلق کیوں یہ امر یقینی تسلیم کیا جاتا ہے اور ہمیں اس حوالے سے کیوں بدتر خیال کیا جاتا ہے؟ کیا ہمیں اپنے وجود پر واضح دکھائی دینے والے ان پھوڑوں اور چہر ےکے داغوں کو ٹھیک کرنے کا اہتمام نہیں کرنا چاہیے؟ کیا یہاں ہمارے میڈیا میں اس حوالے سے کھلے مباحثوں کی حوصلہ افزائی نہیں ہونی چاہیے؟ آخر وہ کون سے عناصر ہیں جن سے اندر خانے ہمارا میڈیا بھی خوف کھاتا ہے؟ اور وہ کون سے طاقتور ہیں جو ایسی مفلوج ذہنیت کے حامل عناصر کے پشت پناہ ہیں؟
پاکستان سے بھی بڑھ کر اس وقت بری حالت ہمارے مسلم برادر ہمسایہ ممالک ایران اور افغانستان کی ہے۔ افغانستان میں جب سے طالبان کی موجودہ نئی حکومت جیسے تیسے برسر اقتدار آئی ہے وہاں خواتین کے انسانی حقوق کی پامالی پر مبنی خبریں ہر روز عالمی میڈیا میں اجاگر ہو رہی ہیں۔ حالانکہ ان لوگوں نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ وہ اپنے سابقہ تلخ تجربات سے بہت کچھ سیکھ چکے ہیں لہٰذا ایسی حرکات سے باز رہیں گے جن سے افغان معاشرے میں مذہبی، نسلی یا جنسی امتیاز و منافرت بھڑکے۔ مگر بالفعل پرنالہ وہیں ہے۔ کرتوت یا حیلے وہی طالبانی ہیں، بچیوں کے سکولوں پر بندشیں عائد ہیں، ملازمت پیشہ خواتین ان کی جانوں کو رو رہی ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ خواتین کی آزادی و حقوق کو مسخ دیا گیا ہے۔
یہی صورتحال مذہبی اقلیتوں کے حوالے سے ہےاور یہ دوہا معاہدے کی بھی خلاف ورزی ہے۔ افغان خواتین سے بدتر صورتحال اس وقت ہماری مسلم ایرانی خواتین کی ہے جنہیں حجاب کی پابندی کے نام پر مارا پیٹا ہی نہیں جا رہا، اس جبری ماحول میں ہلاکتوں کی خبریں بھی پوری دنیا کے سامنے ہیں۔ تین مہینے قبل ایک 22 سالہ کرد بچی مہاسا امینی کو جب وہ اپنے بھائی کے ساتھ تہران آ رہی تھی، مورالٹی پولیس نے جسے ’’گشت ارشاد‘‘ کا نام دیا جاتا ہے، 1983 سے لاگو حجاب کے جبری قانون کی خلاف ورزی پر گرفتار کر لیا گیا۔ زبردستی گاڑی سے کھینچتے ہوئے اسے مخصوص پولیس آفس یا تھانے لے جایا گیا وہاں مزاحمت پر اسے بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا جس کی چیخیں باہر تک سنائی دے رہی تھیں۔ اسی مار اور پٹخ میں اس نوعمر بچی کے سر پر ایسی گہری چوٹ لگی جس سے بے ہوش ہو کروہ گر پڑی۔ ساتھی قیدی خواتین کی شہادت کے مطابق اس حالت میں اس بچی کو ہسپتال لے جایا گیا جہاں 16 ستمبر 2022 کو اس کی موت واقع ہو گئی۔
یہ ساری صورتحال عوام تک پہنچی تو ملک گیر احتجاج شروع ہو گیا۔ خواتین نے اپنے بال کاٹے اور دوپٹے یا نقاب جلائے اس احتجاج میں غربت اور بے روز گاری کے ستائے ایرانی نوجوان بھی شامل ہو گئے۔ بالخصوص تعلیمی اداروں میں احتجاج اتنا پھیلا کہ تمام بڑے شہروں میں تعلیمی ادارے بند ہو چکے ہیں۔ اب یہ احتجاج 161 شہروں تک پھیل چکا ہے جس میں اب تک کے پیش کردہ اعداد و شمار کے مطابق 475 ہلاکتیں ہو چکی ہیں جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ گرفتار کیے گئے نوجوان اور خواتین کی تعداد اٹھارہ ہزار دو سو چالیس تک پہنچ چکی ہے جن میں 565 طلبا ہیں۔ گواحتجاج بنیادی طور پر حجاب کی غیر ضروری و سخت گیر پابندی کے خلاف اٹھا ہے لیکن اس میں ایرانی ملاؤں کی دیگر شدت پسندانہ پالیسیاں اور معاشی بدحالی بھی شامل ہو گئی ہے۔ اس لیے احتجاجی نعروں میں جہاں حجاب کے قانون کی مخالفت میں آوازیں بلند ہوتی ہیں، وہیں ولایت فقیہہ کے جبر بلکہ اس سے آگے نام لے کر ’مرگ برخامنائی‘ کی گونج بھی سنائی دیتی ہے۔
ایرانی انقلاب سے نفرت کا یہ حال ہے کہ احتجاج کرنے والوں نے امام خمینی کے خالی گھر کو بھی نذر آتش کر دیا ہے۔ اب ایک طرف ایرانی حکومت اس نوع کے اعلانات کرنے پر مجبور ہے کہ وہ موریلٹی پولیس یعنی گشت ارشاد کو ختم کر رہے ہیں یا یہ کہ حجاب کے سخت قانون کو بھی واپس لینے کے چکمے دیے جا رہے ہیں لیکن ساتھ ہی احتجاج کرنے والوں کی پکڑ دھکڑ سے آگے بڑھتے ہوئے انہیں پھانسیاں دینے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ (جاری ہے)