عارف علوی، اسحاق ڈار ملاقاتیں: نتیجہ نکلے گا؟
- تحریر مصطفی کمال پاشا
- ہفتہ 10 / دسمبر / 2022
صدر مملکت عارف علوی اور وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے درمیان پے در پے ملاقاتیں اور ان کے نتیجے میں باہر نکلنے والی خبریں اور معلومات انتہائی حوصلہ افزاء ہیں۔پھر ڈار صاحب کی طرف سے پی ٹی آئی سے مذاکراتی وفد کے ممبران کے نام مانگنا اِس سے بھی زیادہ حوصلہ افزاء اقدام ہے۔جاری مسموم سیاسی فضاء میں ایسے حالات کا ظہور یقینا ایک خوشگوار اور اُمید افزاء بات ہے جس کی تعریف کی جانی چاہیے۔
عمران خان اپریل 2022 میں اقتدار چھن جانے کے بعد مسلسل احتجاج کی حالت میں ہیں، اُنہوں نے گزرے 7/8ماہ کے دوران بڑے بڑے دعوے کئے بڑے بلند آہنگ بیانیے تشکیل دیے۔ لانگ مارچ اور دھرنے کی کاوشیں کیں، حکومت سے فوری الیکشن کی تاریخ لینے کے ہزار جتن کئے لیکن انہیں کسی بھی محاذ پر کامیابی نہیں مل سکی۔ گزرے وقت کے دوران اُنہوں نے یوٹرن لینے اور ناکامیوں کی قابلِ رشک مثالیں قائم کیں، وہ مئی میں پاور شو کرنے میں ناکامی پر دلبرداشتہ نہیں ہوئے بلکہ اعتراف شکست کے بعد نئے سرے سے اگلے لانگ مارچ اور دھرنے کی تیاریوں میں لگ گئے۔ بھرپور تیاریوں کے بعد انہوں نے ایک نئے انداز میں مارچ کا آغاز کیا لیکن روزِ اول سے ہی مارچ کے شرکاء کی مایوس کن تعداد کی خبریں آنا شروع ہو گئیں تو عمران خان ایک بار مایوس نظر آنے لگے۔ وزیرآباد میں اِن پر قاتلانہ حملے نے اُنہیں فیس سیونگ کا موقع فراہم کیا، مارچ تعطل کا شکار ہُوا اور پھر اِس قتل کی ایف آئی آر کٹوانے کے سلسلے میں اُنہوں نے ایک نئی محاذ آرائی شروع کی،یہ محاذ آرائی اُن کے اپنے اتحادی کے ساتھ محاذ آرائی میں بدل گئی۔
ویسے قاتلانہ حملے کے روزِ اول سے ہی معاملہ مشکوک نظر آ رہا تھا۔ مبینہ قاتل موقع پر ہی گرفتار بھی ہوا اور پنجاب پولیس نے اِس کے اعترافی بیان کی وڈیو بھی لیک کر دی لیکن عمران خان تو تین بڑوں کے خلاف ایف آئی آر کٹوانے پر اصرار کرتے رہے۔ اِس مطالبے کو اُنہوں نے نے ایشو بھی بنایا۔ لانگ مارچ کی ناکامی چھپانے کی کوشش بھی کی لیکن اُنہیں حقیقی ریلیف نہ مل سکا۔ دو اہم تعیناتیوں کے حوالے سے اُنہوں نے ایڑی چوٹی کا زور لگایا کہ ”ایسے نہ ہو ویسے نہ ہو“ لیکن ویسا ہی ہو گیا جیسا وہ نہیں چاہتے تھے۔ یہ بہت بڑی ناکامی تھی پھر اُنہوں نے نے نیم دِلی سے لانگ مارچ کیا جو فلاپ ہو گیا اور عمران خان کی سیاسی و عوامی پذیرائی کا پول کھل گیا۔ اب عمران خان حکومت کو دباؤ میں لانے اور سیاسی افراتفری بڑھانے اور بڑھاتے ہی چلے جانے کے لئے اسمبلیوں کی تحلیل کی دھمکی دے رہے ہیں۔ خیبرپختونخوا اور پنجاب اسمبلی کی تحلیل کے ذریعے وقتی طور پر جاری سیاسی بحران میں شدت آ سکتی ہے۔ عمران خان حکومت کو مسلسل پریشان کرنے اور سیاسی افراتفری پھیلانے اور پھیلاتے ہی چلے جانے کی حکمتِ عملی پر چل رہے ہیں لیکن حکومت بھی اِن کی چالبازیوں کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے اور عزم بالجزم کے ساتھ ڈٹی ہوئی ہے۔
اس بارے میں دوآراء نہیں ہیں کہ سیاسی افراتفری کے نتیجے میں حکومت کو معاشی بہتری کے اقدامات میں وہ کامیابیاں نہیں مل پا رہیں جو ڈوبتی معیشت کو سہارا دینے کے لئے ضروری ہیں، ناقابلِ برداشت تجارتی خسارہ، قرض کی ادائیگیوں کا بوجھ اور مہنگائی کا ناقابل بیان بوجھ ایسے عوامل ہیں جو حکومتی کارکردگی پر سوال اٹھا رہے ہیں۔ عمومی تاثر یہی ہے کہ حکومت سیاسی فرنٹ پر کارکردگی دکھانے کے باوجود اقتصادی فرنٹ پر عوام کے حسبِ منشاء کارکردگی دکھانے میں قطعاً ناکام ہے، ویسے مسلم لیگ (ن) کی قیادت سے عوام کی توقعات بھی زیادہ ہیں۔ مسلم لیگ (ن) اپنے گزشتہ ادوارِ حکمرانی میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کر چکی ہے۔ معاشی خوشحالی اور عوام کو ریلیف دینے کے حوالے سے مسلم لیگ (ن) کی قیادت خوشنما ریکارڈ کی حامل ہے لیکن موجودہ حالات و واقعات میں عوام کی توقعات پوری نہیں ہو رہیں۔
مستقبل قریب میں معاشی حالات میں بہتری ہوتی نظر نہیں آ رہی۔ عالمی کساد بازاری، یوکرین کی جنگ اور دیگر ایسے ہی حالات کے باعث گلوبل اکانومی بھی شدید مسائل کا شکار ہے۔ پاکستان چونکہ عالمی معیشت کا ایک اہم حصہ ہے اور اِس کے اندرونی سیاسی حالات بھی ٹھیک نہیں ہیں اِس لئے معاشی معاملات کی ابتری سمجھ میں آنے والی بات ہے۔ عمران خان نے اپنے ساڑھے تین سالہ دورِ حکمرانی میں قومی معیشت کو اس ڈگر پر چلا دیا ہے کہ اِسے بیک ٹو ٹریک لانا سہل نہیں ہوگا۔ معاشی حالات درست نہیں ہیں۔ معروف معاشی ماہر شبرزیدی تو برملا کہہ رہے ہیں کہ پاکستان تکنیکی اعتبار سے ڈیفالٹ کر چکا ہے اور یہ بات اُنہوں نے دسمبر 2021 میں بھی کہی تھی۔ عملاً دیکھا جائے تو اُن کی بات درست نظر آتی ہے۔ پاکستان نہ صرف اپنی درآمدات کی ادائیگیاں کرنے کے قابل نہیں ہے بلکہ اپنے ذمے عالمی ادائیگیاں بھی اِس کے بس میں نہیں ہیں۔
یہ سب کچھ اظہر من الشمس ہو چکا۔اِس بارے میں دو آراء نہیں پائی جاتیں۔ حکومت اپنے تئیں ہاتھ پاؤں مار رہی ہے، ایک طرف آئی ایم ایف کے ساتھ معاملات جاری رکھنے کی کاوشیں کر رہی ہے تو دوسری طرف دوست ممالک بشمول چین، سعودی عرب، ترکی اور یو اے ای وغیرہ کے ساتھ معاملات طے کرکے ڈالروں کے حصول میں مصروف ہے تاکہ ہماری زرمبادلہ کی ضروریات کسی نہ کسی حد تک پوری ہو جائیں۔اس محاذ پر حکومت کو قابلِ رشک کامیابیاں بھی مل رہی ہیں لیکن زرمبادلہ کی آمد اور خرچ میں فرق بہت بڑا ہے جو اِس طرح کی کاوشوں سے بھرنا ممکن نظر نہیں آ رہا۔ مہنگائی کا جِن بوتل سے نکل کر بے قابو ہو چکا ہے۔مستقبل قریب میں اِسے بوتل میں بند کرنا ممکن نہیں ہوگا۔
حالات خاصے پریشان کن ہیں،ایسے میں اگر عمران خان نے جیسا کہ وہ کہہ رہے ہیں کہ 20دسمبر تک اسمبلیاں تحلیل کر دی جائیں گی،ایسا کر دیا گیا تو ہماری سیاست ایک بڑے بحران کا شکار ہو جائے گی۔ ویسے تو حکومت نے ایسے بحران سے نمٹنے کی تیاریاں بھی کر رکھی ہیں اور پیش بندیاں بھی جاری ہیں۔ صدرمملکت اور وزیر خزانہ کی ملاقاتیں اِسی سلسلے کی کڑی نظر آ رہی ہیں۔ دیکھتے ہیں آنے والے دنوں میں عمران خان کیا گُل کھلاتے ہیں۔
(بشکریہ: روزنامہ پاکستان)