افغان حکومت یقینی بنائے چمن جیسے واقعات دوبارہ رونما نہ ہوں: وزیر اعظم

  • سوموار 12 / دسمبر / 2022

وزیر اعظم شہباز شریف نے چمن میں افغان بارڈر فورسز کی بلااشتعال گولہ باری کی مذمت کرتے ہوئے افغان حکومت سے اس بات کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے کہ دوبارہ ایسے واقعات رونما نہ ہوں۔

وزیر اعظم کے آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ چمن پر افغان بارڈر فورسز کی بلااشتعال گولہ باری اور فائرنگ کے نتیجے میں متعدد پاکستانی شہری شہید اور ایک درجن سے زائد افراد کا زخمی ہونا افسوسناک اور شدید قابلِ مذمت ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ’افغان عبوری حکومت اس بات کو یقینی بنائے کہ ایسے واقعات دوبارہ رونما نہ ہوں‘۔

قبل ازیں دفتر خارجہ نے چمن میں افغان فورسز کی بلااشتعال گولہ باری کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے افسوسناک واقعات دونوں ممالک کے درمیان برادرانہ تعلقات کے مطابق نہیں ہیں۔ دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ افغان حکام کو مطلع کر دیا گیا ہے کہ مستقبل میں ایسے واقعات رونما ہونے سے روکا جائے اور ذمہ داروں کے خلاف سخت ترین کارروائی کی جائے۔

سرحد پر شہریوں کی حفاظت کرنا دونوں فریقین کی ذمہ داری ہے۔ دونوں ممالک کے متعلقہ حکام اس بات کو یقینی بنانے کے لیے رابطے میں ہیں کہ صورتحال مزید خراب نہ ہو۔ خیال رہے کہ گزشتہ روز افغان بارڈر فورسز نے بلوچستان کے ضلع چمن میں شہری آبادی پر توپ خانے/مارٹر سمیت بھاری ہتھیاروں سے بلااشتعال اور اندھا دھند فائرنگ و گولہ باری کی تھی جس کے نتیجے میں 6 شہری جاں بحق اور 17 افراد زخمی ہوگئے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ  کے مطابق پاکستان کی بارڈر فورسز نے جارحیت کے خلاف مناسب جواب دیا لیکن علاقے میں معصوم شہریوں کو نشانہ بنانے سے گریز کیا۔