رائے عامہ کی تشکیل کا سیاسی چیلنج
- تحریر سلمان عابد
- سوموار 12 / دسمبر / 2022
پاکستان ایک مشکل صورتحال سے دو چار ہے ۔ یہ بحران آج کا نہیں بلکہ کئی دہائیوں پرمشتمل ہے اوراس کی ذمے داری بھی سب فریقین پر آتی ہے۔
اس وقت ہمیں جس بحران کا سامنا ہے، اس کی ایک بڑی وجہ ہماری سیاسی، سماجی ، معاشی سمیت داخلی و خارجی پالیسیاں ہیں ۔ اسی طرح اس ناکامی کو محض حکومتوں یا سیاست دانوں کی ناکامی سے جوڑ کر ہی نہیں دیکھنا چاہیے بلکہ ان حالات کو پیدا کرنے میں اسٹیبلیشمنٹ اور عدلیہ بھی شامل ہیں۔ اس وقت جو بحران ہے یہ محض حکومت نہیں بلکہ ریاستی بحران کی بھی نشاندہی کرتا ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ ہمیں مختلف اوقات میں سیاست نہیں ریاست کو بچانے کی باتیں بھی سننی پڑتی ہیں۔
اس طبقہ کے بقول ہمیں اس وقت ضرورت ریاستی ڈھانچے میں بڑی تبدیلیاں درکار ہیں اوران کو کیے بغیر ہم بطور ریاست یا معاشرہ اپنی اصلاح نہیں کرسکیں گے ۔یہ جو ہم روائتی او رفرسودہ طور طریقوں کی بنیاد پر ریاستی یا حکومتی نظام کو چلانے کی کوشش کررہے ہیں یہ نتیجہ خیز نہیں ہوسکتیں۔ اصولی طور پر تو اس بحران کے حل کی کنجی سیاسی قیادت کے پاس ہونی چاہیے ۔ یہ سیاسی قیادت ہی کی ذمے داری بنتی ہے کہ وہ مشترکہ لائحہ عمل ترتیب دے کر عملی اقدامات کی طرف پیش رفت کرے ۔ لیکن اس وقت جو سیاسی ماحول ہے اس میں ایک دوسرے کے وجود کو قبول نہ کرنے کی حکمت عملی نے بحران کو اور زیادہ سنگین کردیا ہے۔
حکومت ہو یا حزب اختلاف دونوں سیاسی کشیدگی ، ناپختگی اور انفرادی مفادات کو فوقیت نظر آتی ہے ۔ یہ ہی وجہ ہے کہ ہماری سیاسی قیادت مسئلہ کا حل کم اور مسئلہ کے بگاڑ کا زیادہ حصہ دار نظر آتی ہے ۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مسائل کے حل کی طرف کیسے پیش رفت کی جائے ۔ اس تناظر میں ایک بڑی ذمے داری اس ملک میں موجود رائے عامہ تشکیل دینے والے انفرادی افراد یا اجتماعی اداروں پر ہی عائد ہوتی ہے ۔ کیونکہ سیاسی جماعتوں کے اندر سے اپنی ہی سیاسی قیادت کے خلاف بات کرنا یا ان کے موجودہ طرزعمل پر تنقید یا مزاحمت فی الحال ممکن نظر نہیں آتا۔
ایسی صورت میں یہ کردار رائے عامہ تشکیل دینے والوں کا ہے ۔ ان میں صحافی ، قلم کار ، تجزیہ کار، علمی و فکری ماہرین ، دانشور، شاعر، ادیب، مصنفین ، استاد اور وکلا شامل ہیں۔ ان پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ معاشرے کی درست سمت کی تعین کےلئے ترقی سے جڑے بیانیہ پر کھل کر سامنے آئیں اور ریاست سمیت حکومتوں یا حزب اختلاف پر دباؤ ڈالیں کہ وہ اپنا قلبہ درست کریں ۔ موجودہ نظام کے مقابلے میں اپنا متبادل بیانیہ پیش کریں۔
اگرچہ عامہ تشکیل دینے والے افراد یا ادارے بھی سیاسی تقسیم کا شکار نظر آتے ہیں۔ اسی طبقہ میں سے ایک بڑے طبقہ نے طاقت کے مراکز کے ساتھ مل کراپنے ہی مفادات کو تقویت دی ہے ۔ اس لیے یہ کام آسان نہیں مگر ناممکن بھی نہیں ۔ اس کے لیے خاص طو رپر سکہ بند رائے عامہ تشکیل دینے والے افراد کے مقابلے میں نئے لوگوں کو ساتھ ملانا ہوگا جن میں دوسرے یا تیسرے درجے کی قیادت بھی ہوسکتی ہے ۔ کیونکہ یہ ہی لوگ جب ریاست یا حکومت پر رائے عامہ کی مدد سے دباؤ ڈالیں گے تو ان طاقت کے مراکز کا قبلہ بھی درست ہونے کا امکان بڑھ سکتا ہے ۔
پاکستان کا نوجوان طبقہ ایک بڑی سیاسی طاقت ہے ۔ یہ دنیا اب ڈیجیٹل کی دنیا ہے اور سوشل میڈیا رسمی میڈیا کے مقابلے میں بڑی طاقت بن کر سامنے آیا ہے ۔ پوری دنیا میں لوگ رائے عامہ کو اپنے حق میں کرنے کے لیے سوشل میڈیا کو بطور ہتھیار استعمال کرتے ہیں ۔ اگرچہ یہ پروپیگینڈا یا مخالفانہ مہم کے طور پر استعمال ہورہا ہے لیکن ہمیں اس سے گھبرانے یا مایوس ہونے کے بجائے نوجوانوں کو اس فورم کو ایک متبادل بیانیہ کی جنگ میں استعمال کرنا ہوگا۔ جو لوگ بھی عقل و فہم یا علمی و فکری بنیاد پر ایک ٹھوس متبادل بیانیہ سب کے سامنے پیش کریں گے تو ان کی رائے کو نظرانداز کرنا ممکن نہیں ہوگا ۔ رائے عامہ سے جڑے لوگ سوشل میڈیا کو استعمال کریں اور بنیادی نوعیت کے سوالات اٹھا کر ریاستی وحکومتی نظام کو مجبور کریں کہ وہ متبادل بیانیہ اختیار کریں۔
جو لوگ یہ دلیل دیتے ہیں کہ سوشل میڈیا محض ایک منفی فورم ہے، ان کی باتوں میں الجھنے کے بجائے ہمیں مثبت طور پر اپنا بیانیہ ٹھوس بنیادوں پر پیش کرنا ہوگا ۔ اسی طرح نوجوان طبقہ رائے عامہ بنانے والے اہم افراد یا اداروں پر بھی دباؤ ڈال سکتا ہے کہ وہ ہماری آوازوں کو سنیں اور قومی معاملات کی پردہ پوشی کے بجائے کھل کر اپنی آواز اٹھائیں ۔ یہ ہی طبقہ سیاسی جماعتوں اور قیادتوں کو بھی جھنجھوڑ سکتا ہے کہ وہ اپنے داخلی نظام کا احتساب کرکے سیاست کے انداز بدلیں۔
یہ بات سمجھنی ہوگی کہ رائے عامہ محض میڈیا تک محدود نہیں، اسے ہمیں ایک بڑی تصویر کے تناظر میں دیکھنا چاہیے ۔ معاشرے کا ہر طبقہ زمہ دار ہے۔ اس کی اصلاح کے لیے اور یہ کام وہ اسی صورت میں کرسکتا ہے جب وہ اس فکر کو پختہ کرے کہ اس نے سماج کو بدلنا ہے اور نظام کی تبدیلی کے عمل میں حصہ لیں۔ ہمارے رائے عامہ سے جڑے افراد یا ادارے بانجھ پن سے باہر نکلیں۔ حالات کا مقابلہ کریں اور لوگوں کو تیارکریں کیونکہ جب رائے عامہ سے جڑے افراد یا ادارے خود مایوسی کا شکار ہوجائیں اور ان کے بقول کچھ تبدیل نہیں ہونا تو اس کا براہ راست فائدہ ان ہی طاقت ور طبقات کو ہوتا ہے جو ریاستی و حکومتی نظام پر قابض ہیں ۔