بھارت اور چین کے درمیان سرحدی جھڑپ میں متعدد زخمی

  • منگل 13 / دسمبر / 2022

بھارت کی شمال مشرقی ریاست اروناچل پردیش کے توانگ سیکٹر میں بھارت اور چین کی افواج کے درمیان لائن آف ایکچوؤل کنٹرول پر تصادم ہوا  جس کے نتیجے میں دونوں طرف کے فوجی زخمی ہوئے۔

بھارتی فوج کے ایک بیان کے مطابق پیپلز لبریشن آرمی  کے جوان توانگ سیکٹر میں ایل اے سی پر پہنچے جن کا مقابلہ بھارتی جوانوں نے مضبوط اور پر عزم انداز میں کیا۔ اس تصادم میں دونوں جانب کے فوجی جوان زخمی ہوئے۔ تاہم بھارتی فوج نے اپنے بیان میں زخمی ہونے والے فوجیوں کی تعداد واضح نہیں کی۔

ذرائع کے مطابق تصادم کے وقت بھارتی افواج کے کم از کم تین یونٹ موجود تھے۔ بھارتی اخبار 'انڈین ایکسپریس' کی رپورٹ کے مطابق زخمی بھارتی جوان گوہاٹی کے ایک اسپتال میں زیر علاج ہیں۔ بعض میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ ان میں سے کچھ کی ہڈیاں ٹوٹی ہیں۔

لداخ سیکٹر میں بھارت اور چین کی افواج کے درمیان ایل اے سی پر سرحدی کشیدگی اور تنازع جاری ہے۔ دونوں جانب سے سرحدی تنازع کو ختم کرنے کے لیے کمانڈرز سطح پر متعدد ادوار کے مذاکرات ہو چکے ہیں۔ فوج کے بیان کے مطابق توانگ سیکٹر میں ایل اے سی پر بعض مقامات ایسے ہیں جن کے بارے میں دونوں ملکوں میں اختلاف ہے۔

ان علاقوں میں  2006 کے بعد سے یہی صورتِ حال ہے جہاں دونوں افواج اپنی اپنی جانب گشت کرتی رہتی ہیں۔ بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس واقعے میں چین کے کم از کم 200 جوان شامل تھے۔ چینی فوجی ایسے ڈنڈوں اور لاٹھیوں سے لیس تھے جن کے سِروں پر کیلیں لگی ہوئی تھیں۔

فوج کے بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ دونوں جانب کی افواج فوری طور پر پیچھے ہٹ گئیں۔ بعد ازاں دونوں افواج کے کمانڈرز نے سرحد پر قیامِ امن کے لیے فلیگ میٹنگ کی۔

یاد رہے کہ تصادم کا یہ حالیہ واقعہ لداخ میں وادی گلوان میں 15 جون 2020 کو دونوں ممالک کی افواج کے درمیان ہونے والے تصادم کے بعد پہلا واقعہ ہے۔ اس تصادم میں بھارت کے 20 جوان ہلاک ہوئے تھے جب کہ چین نے چار جوانوں کی ہلاکت کی تصدیق کی تھی۔

میڈیا میں فوجی ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ اس بار چین کی فوج کی جانب سے منصوبہ بندی سے کارروائی کی گئی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ جہاں تصادم ہوا وہ ایک گھنا جنگلی علاقہ ہے جہاں چین کی فوج سپلائی لائن اور انفرا اسٹرکچر کے ساتھ بلند مقامات پر قابض ہے۔

رپورٹس کے مطابق برف باری کے موسم کی وجہ سے بعض فوجی جوانو ں کو وہاں سے واپس آنا پڑا جس کی وجہ سے چین کو وہاں برتری حاصل ہو گئی ہے۔ گہرے بادلوں کی وجہ سے بھارتی سیٹلائٹس فوجوں کی موجودگی کی تصویریں نہیں لے پائے۔

دریں اثنا چین نے اپنے ردِ عمل میں کہا ہے کہ توانگ سیکٹر میں دونوں ممالک کی افواج کے درمیان تصادم کے بعد سرحد پر حالات مستحکم ہیں۔ چین کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان وانگ وینبن نے کہا کہ فریقین نے سفارتی اور فوجی چینلز کے ذریعے سرحدی مسئلے پر بات چیت کی ہے۔

ادھر بھارت کے وزیرِ دفاع راج ناتھ سنگھ نے پارلیمنٹ میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ بھارت نے اس معاملے کو سفارتی سطح پر چین کے سامنے اٹھایا ہے۔ چین نے توانگ سیکٹر میں موجودہ صورت حال کو تبدیل کرنے کی کوشش کی، جس کا بھارتی جوانوں نے جواب دیا اور چینی جوانوں کو واپس جانے پر مجبور کیا۔