انتخابات نہیں ، اعتماد سازی ضروری ہے
- تحریر سید مجاہد علی
- منگل 13 / دسمبر / 2022
حیرت ہے عمران خان ملک میں انتخابات کا فوری انعقاد چاہتے ہیں لیکن یہ مقصد حاصل کرنے کے لئے سیاسی مکالمہ کی بجائے فوج اور عدلیہ کو مدد کے لئے پکار رہے ہیں۔ یہ طریقہ ملک کی نام نہاد سب سے بڑی سیاسی پارٹی کے غیر جمہوری طرز عمل کی محض ایک مثال ہے۔ تحریک انصاف کے چئیرمین کی اس بات سے تو اختلاف کی گنجائش نہیں ہے کہ ملکی معیشت سنگین صورت حال کا شکار ہے لیکن وہ اس مسئلہ کا غلط حل تجویز کررہے ہیں۔
عمران خان کا خیال ہے کہ ملک میں فوری انتخابات کروائے جائیں تاکہ ایک مستحکم اور قابل اعتبار حکومت قائم ہوسکے۔ تب ہی دنیا کے ممالک اور ادارے پاکستان پر اعتبار کرکے اس کی مدد کو آگے بڑھیں گے۔ یہ توقع بے بنیاد اور زمینی حقائق سے برعکس ہے۔ پہلے تو گزشتہ ایک دہائی کے حالات پر نگاہ ڈال لی جائے اور دیکھ لیا جائے کہ کیا انتخاب کے نتیجہ میں قائم ہونے والی حکومت واقعی سب مسائل کو حل کرنے کی پوزیشن میں ہوتی ہے؟ 2013 میں مسلم لیگ (ن) نے واضح اکثریت حاصل کرکے حکومت قائم کی تھی۔ پیپلز پارٹی کے علاوہ دیگر اپوزیشن پارٹیاں بھی چاہتی تھیں کہ نواز شریف کی حکومت کام کرتی رہے اور ملکی جمہوری نظام میں غیر متعلقہ عناصر کی مداخلت کا راستہ روکا جائے لیکن عمران خان اپنے کینیڈا میں آباد سیاسی کزن کے ہمراہ کسی عوامی حمایت کے بغیر اسلام آباد میں دھرنا دینے پہنچ گئے۔ پارلیمانی سیاسی پارٹیوں نے بصیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے نواز شریف کی حکومت کو بچا لیا لیکن اسے کام نہیں کرنے دیا گیا۔ اور پہلا موقع ملتے ہی پاناما کے بہانے سپریم کورٹ کے ذریعے، نواز شریف کو اقتدار اور سیاست سے محروم کرنے کا اقدام کیا گیا۔
اب عمران خان یہ شکایت کرتے سنائی دیتے ہیں کہ حکومت انہیں نااہل قرار دے کر سیاست سے باہر کرنا چاہتی ہے۔ اس دعوے کے بارے میں سچ کیا ہے، کوئی نہیں جانتا۔ شاید عمران خان کو بھی اس کا علم نہیں ہے کیوں کہ وہ سیاسی بصیرت سے محروم ہیں اور جن ’مراسم‘ کی بنیاد پر وہ اندر کی خبریں نکالنے کے دعوے کیا کرتے تھے ، بادی النظر میں وہ بھی منقطع ہوچکے ہیں۔ اسی طرح شہباز شریف حکومت کے ارادوں کے بارے میں بھی کچھ کہنا مشکل ہے ۔ البتہ ایک بات یقین سے کہی جاسکتی ہے کہ ماضی میں جن حلقوں کے اشارے پر اس قسم کے کام تیزی سے انجام پاتے رہے ہیں، وہ اب ’غیر سیاسی‘ ہونے کا اعلان کرچکے ہیں۔ پاک فو ج کی نئی قیادت کھوئی ہوئی ساکھ بحال کرنے اور جنرل باجوہ کے دور میں پہنچنے والے نقصان کے ازالہ کے لئے میڈیا سے دور رہ کر داخلی تعمیر نو کے کام میں مصروف دکھائی دیتی ہے۔ ان حالات میں میدان کسی حد تک سیاسی عناصر کے ہاتھ میں ہے۔ شہباز شریف کی حکومت مرکز تک محدود ہے اور کمزور ہے ، اس لئے وہ چاہنے کے باوجود بھی شاید عمران خان کو نااہل کروانے کا اقدام کرنے کے قابل نہ ہو۔
نااہلی کے اندیشے سے قطع نظر عمران خان کی سیاسی پوزیشن بظاہر مضبوط ہے۔ وہ دو صوبوں میں اقتدار پر قابض ہیں اور عوامی احتجاج میں ’ناکامی‘ کے بعد اب میڈیا کے ذریعے مسلسل شہباز حکومت کو دھمکانے اور کمزور کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں۔ بظاہر وہ جمہوری طریقہ کے مطابق انتخابات کا انعقاد چاہتے ہیں لیکن جس طریقہ سے وہ یہ مقصد حاصل کرنا چاہتے ہیں، اسے نہ تو جمہوری کہا جا سکتا ہے اور نہ ہی وہ نیک نیتی پر مشتمل ہے۔ آخر فوج کے دباؤ یا عدلیہ کی مداخلت سے منعقد ہونے والے انتخابات کیسے ’غیر جانبدارانہ، شفاف اور قابل اعتبار‘ ہوسکتے ہیں؟ ویسے بھی عمران خان کے نزدیک صرف وہی انتخابات شفاف اور قابل قبول ہوں گے جن میں تحریک انصاف ہی کامیاب ہو اور وہ دوباہ وزیر اعظم کے عہدے پر براجمان ہوسکیں۔ دریں حالات اوّل تو ایسا امکان دکھائی نہیں دیتا لیکن بالفرض اگر عمران خان کی خواہش کے مطابق فوری انتخابات کا انعقاد ہو جائے تو کیا وہ یہ اعلان کرنے پر آمادہ ہوں گے کہ انہیں انتخابی نتائج قبول ہوں گے اور جو پارٹی بھی کامیاب ہوکر حکومت بنائے، وہ اسے تہ دل سے تسلیم کریں گے اور ان کی پارٹی مسلمہ پارلیمانی روایت کے مطابق اسمبلیوں میں بیٹھ کر فیصلہ سازی میں شریک ہوگی۔
عمران خان ایسا کوئی وعدہ نہیں کریں گے۔ وہ موجودہ حکومت بلکہ نظام کو مسترد کرتے ہیں لیکن اس کے باوجود نئے نظام کا کوئی خاکہ پیش کرنے میں ناکام ہیں۔ 26 نومبر کو وہ اس فرسودہ نظام کو خیر باد کہنے کا اعلان کرچکے ہیں لیکن ابھی معاملہ اس نکتہ پر الجھا ہؤا ہے کہ کیا پرویز الہیٰ واقعی پنجاب اسمبلی توڑ دیں گے۔ اسی لئے روزانہ کی بنیاد پر نت نئے انکشافات اور دعوے سننے میں آتے ہیں۔ عمران خان اس وقت جوسیاسی حکمت عملی اختیار کئے ہوئے ہیں ، وہ اسی نظام کی دین ہے جس کے خلاف علم بغاوت بلند کرتے ہوئے انہوں نے روالپنڈی کے جلسہ میں اسمبلیوں سے نکل جانے کا اعلان کیا تھا۔ سیاسی جوڑ توڑ، اندرونی سازشیں، وعدے اور انتخابات میں ہیر پھیر کے منصوبے: زمان پارک کے ڈرائینگ روم میں اس کے علاوہ دن رات اور کس معاملہ پر بحث ہوتی ہے؟
ملکی معیشت کی گھناؤنی تصویر دکھاتے ہوئے، عمران خان نے فوج کو مدد کے لئے پکارتے ہوئے کہا ہے کہ ’یہ ملک جس تیزی سے نیچے جارہا ہے، اس کے سارے اداروں پر اثرات ہوں گے۔ قومی سلامتی داؤ پر لگ جائے گی اور پاکستان کا حال بھی سویت یونین جیسا ہوجائے گا جہاں معاشی تباہی کی وجہ سے مضبوط فوج بھی ملک کو نہیں بچا سکی تھی‘۔ ان الفاظ پر غور کیا جائے تو عمران خان کا پیغام دو ٹوک اور واضح ہے کہ فوج موجودہ حکومت کو فارغ کرے اور اس کے لئے انتخابات کو ہتھکنڈے کے طور پر استعمال کیا جائے۔ حالانکہ انتخابات منعقد کروانے یا نہ کروانے، معیشت سنبھالنے یا نہ سنبھالنے میں ملکی آئین فوج کا کوئی کردار تجویز نہیں کرتا۔ لیکن خود کو ملک کا سب سے مقبول لیڈر کہلوا کر خوش ہونے والا شخص اپنی سیاسی حرص کے لئے کوئی بھی غیر قانونی اور غیر آئینی طریقہ اختیار کرنے پر آمادہ ہے۔ افسوس صرف یہ ہے کہ ناک سے آگے نہ دیکھ سکنے کی مجبوری کی وجہ سے عمران خان یہ سمجھنے سے قاصر دکھائی دیتے ہیں کہ اب 2018 کے حالات نہیں ہیں اور فوج اب اس منصوبہ کو ترک کرچکی ہے جس کے تحت تحریک انصاف کو اقتدار سونپا گیا تھا۔ عمران خان نے گزشتہ آٹھ ماہ کے دوران اینٹی اسٹبلشمنٹ مہم چلائی ہے ، اس کی روشنی میں فی الوقت یہ امکان بھی نہیں ہے کہ اگر عسکری اسٹبلشمنٹ کسی نئے سیاسی منصوبہ پر عمل کرنا چاہے گی تو اس کا چہرہ عمران خان کو بنایا جائے گا۔
انتخابات ، متوازن اور سیاسی بنیاد پر فیصلہ کرنے کی روایت پر عمل کرنے والے معاشروں میں کسی حد تک استحکام لانے کا سبب بنتے ہیں لیکن پاکستان جیسے ملک میں جہاں سیاسی لیڈروں کو صرف اپنی کامیابی والا انتخاب ہی شفاف اور درست دکھائی دیتا ہو، کسی مناسب اور قابل عمل افہام و تفہیم کے بغیر انتخابات کا انعقاد بحران کو گہرا کرے گا۔ اب یہ تو کہا جاسکتا ہے کہ انتخابات ہوگئے تو حالات ٹھیک ہوجائیں گے لیکن بغیر سوچے سمجھے اور سیاسی مفاہمت کے کسی معاہدہ کے بغیر منعقد ہونے والے انتخابات کے بعد انتشار اور پریشانی کا ایک نیا دور شروع ہونے کا امکان موجود رہے گا اور یہ بھی نہیں کہا جاسکے گا کہ انتخابات ہوجائیں تو مسئلہ حل ہوجائے گا۔ ملک کو اس وقت کسی ’غیر جمہوری‘ نظام کی وجہ سے معاشی پریشانی کا سامنا نہیں ہے بلکہ سیاسی لیڈروں کے درمیان عدم اعتماد اور شخصیت پرستی کی سیاست سے پیدا ہونے والے عوارض کی وجہ سے بے یقینی اور بحران کی کیفیت پیدا ہوئی ہے۔ عمران خان مسلسل اس میں اضافہ کرنے پر بضد ہیں لیکن ویڈیو پیغامات میں عوام کو یہ پیغام دینے کی کوشش کرتے ہیں جیسے ملکی معاشی حالات کی وجہ سے ان کی راتوں کی نیندیں حرام ہوچکی ہیں۔ خود پسندی کا یہ طرز عمل کسی صورت ملکی سیاسی ہیجان میں کمی کا باعث نہیں بنے گا۔
اب پنجاب اور خیبر پختون خوا کی اسمبلیاں توڑ کر موجودہ سیاسی بحران اور بے یقینی میں اضافہ کرنے کا اعلان کیا جارہا ہے کیوں کہ عمران خان اپنے اقتدار کے لئے کسی بھی منفی ہتھکنڈے کو جائز سمجھتے ہیں۔ اب ان کے خیال میں صوبائی اسمبلیاں توڑ کر یہ مقصد حاصل کیا جاسکتا ہے۔ اگر عمران خان کے پاس یہ آپشن موجود ہے تو انہیں اسے استعمال کرلینا چاہئے تھا۔ یا تو وہ اپنی سیاسی صلاحیت سے زیادہ بڑا دعویٰ کربیٹھے ہیں یا وہ سمجھتے ہیں کہ موجودہ بحران ہی ان کی سیاسی سرخروئی کا راستہ نکالے گا، اس لئے وہ مسلسل سیاسی انتشار میں اضافہ کرنا چاہتے ہیں۔ یہ طریقہ ان کے اس دعوے سے برعکس ہے جس میں وہ ملکی معیشت کی دہائی دیتے ہوئے فوج اور عدلیہ کو اس طرف توجہ دینے پر آمادہ کرنے کی کوششش کررہے ہیں۔
ملکی معیشت اور عمران خان کی سیاست کے لئے اب بھی سب سے بہتر راستہ یہی ہے کہ سیاسی درجہ حرارت کم کیا جائے۔ صوبائی اسمبلیاں توڑنے یا استعفے دینے کا خیال دل سے نکال کر قومی اسمبلی میں واپسی کا قصد کیا جائے اور ملک میں صحت مندانہ سیاسی مکالمہ کی راہ ہموار کی جائے۔ عمران خان کی حمایت کرنے والے بھی انہیں ملکی سیاست میں متحرک دیکھنا چاہتے ہیں لیکن یہ کردار محض بیان اور دھمکیاں دینے سے ادا نہیں کیا جاسکتا۔ اس کے لئے سیاسی عمل میں حصہ دار بننا ضروری ہے۔ یہ سیاسی کردار پرائیویٹ ڈرائینگ رومز یا جلسوں میں تلاش کرنے کی بجائے ، اسے قومی اسمبلی کے ایوان میں نبھانے کی کوشش کی جائے تو معاملات سب کی تشفی کے مطابق حل ہونے کا امکان پیدا ہوسکتا ہے۔