اعظم سواتی کے جوڈیشل ریمانڈ میں توسیع، قانونی ٹیم کو ملاقات کی اجازت مل گئی
اسلام آباد کی مقامی عدالت کے جج نے پاکستان تحریک انصاف کے رہنما سینیٹر اعظم سواتی کے جوڈیشل ریمانڈ میں 14 دن کی توسیع کرتے ہوئے کیس کا چالان پیش نہ کرنے پر تفتیشی افسر کو نوٹس جاری کردیا ہے۔
جمعرات کو سماعت کے دوران اعظم سواتی کے وکیل بابر اعوان عدالت پیش ہوئے۔ عدالت نے کہاکہ آپ کے کیس میں ابھی چالان نہیں جمع ہوا ہے، جس پر ملزم کے وکیل نے کہا کہ تین دن یہ کہتے رہے ضمانت میں دلائل دیں گے پھر جج کی ٹرانسفر کرادی۔ دو ہائی کورٹس نے قانون کی حکمرانی کی اعلیٰ مثال قائم کی تمام مقدمات ختم کر دیے، ٹویٹ کے اوپر کسی کو کیا خطرہ ہو سکتا ہے۔
عدالت نے استفسار کیا کہ اس میں آپ کو ابھی ضمانت نہیں ملی؟ جس پر اعظم سواتی کے وکیل نے کہا کہ ابھی نہیں ملی دو دن یہ جج کے ساتھ کھیل کھیلتے رہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کی تاریخ میں اس طرح نہیں ہوا کہ جج کے ساتھ یہ کھیل کر رہے ہیں۔
عدالت نے اعظم سواتی کو پیش کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت میں وقفہ کردیا اور دوبارہ سماعت شروع ہونے پر عدالت نے ویڈیو لنک کے ذریعے اعظم سواتی کی حاضری لگائی اور ملزم سےاستفسار کیا کہ آپ کچھ کہنا چاہتے ہیں جس پر اعظم سواتی نے بتایا کہ قانون کی حکمرانی کے لیے جدو جہد جاری رکھیں گے اور آزاد عدلیہ کے لیے جدو جہد جاری رکھیں گے۔
دوران سماعت تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ٹوئٹر سے ریکارڈ اور ٹیکنیکل رپورٹ ابھی آنا باقی ہے۔ عدالت نے تفتیشی افسرکو چالان پیش کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ آپ ضمنی چالان تو پیش کریں۔ عدالت نے کہا کہ آج نوٹس دے رہا ہوں آئندہ سماعت پر چالان نہ آیا تو آپ کی سیلری بند ہوگی۔
عدالت نے وکلا کو اعظم سواتی سے ملاقات کی اجازت دیتے ہوئے کہا کہ آپ بتا دیں کس وقت ملاقات کریں گے۔ عدالت نے اعظم سواتی کے جوڈیشل میں 14 روزہ توسیع کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔