کشمیر کے بارے میں عالمی قراردادوں پر عمل کرویا جائے: پاکستان

  • جمعرات 15 / دسمبر / 2022

پاکستان کے وزیرِ خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ بعض ممالک میں اقلیتوں کے خلاف نسل کشی کے بڑھتے خطرات کی روک تھام کے لیے اقدامات کرے۔

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل سے خطاب میں پاکستان کے وزیرِ خارجہ نےبین الاقوامی تعلقات میں مساوات اور انصاف کے تقاضے پورے کرنے کی اہمیت کی طرف توجہ مبذول کرائی۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان متنازع علاقے کشمیر کے حوالے سے بلاول بھٹو زرداری نے زور دیا کہ کونسل اپنی قرار دادوں پر عمل درآمد کو یقینی بنائے اور خطے میں امن کے لیے اپنا وعدہ پورا کرے۔

واضح رہے کہ کشمیر کا کچھ حصہ پاکستان کے کنٹرول میں جسے آزاد کشمیر کہا جاتا ہے جب کہ بھارت نئی دہلی کے زیرِ کنٹرول کشمیر کو مرکز کے ماتحت علاقہ قرار دیتا ہے۔ دونوں ممالک کشمیر کو اپنا علاقہ قرار دیتے ہیں۔ 1947 کے بعد سے یہ تنازع موجود ہے جس کی وجہ سے پاکستان اور بھارت میں جنگیں بھی ہوئی ہیں۔

نئی دہلی کا مؤقف رہا ہے کہ کشمیر اس کا اٹو ٹ انگ ہے جب کہ وہ اس تنازع کے حل کے لیے کسی تیسرے فریق یا ثالث کے کردار کی مخالفت کرتا رہا ہے۔ بھارت کے وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر نے پاکستان کا نام لیے بغیر سرحد پار سے دہشت گردی کے حوالے سے تنقید کی ہے۔

بھارتی نشریاتی ادارے ’این ڈی ٹی وی‘ کے مطابق ایس جے شنکر کا کہنا تھا کہ القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کی میزبانی کرنا او ر پڑوسی ملک کی پارلیمنٹ پر حملہ کرنا ایسی سند نہیں ہے جس کی بنیاد پر اقوام متحدہ کی کونسل کے سامنے آکر لیکچر دیا جائے۔

ایس جے شنکر کا مزید کہنا تھا کہ دنیا چیلنجز کے حل تلاش کر رہی ہے ایسے میں ان کو معمول قرار دینا قابل قبول نہیں ہونا چاہیے۔ ایسی بات جسے دنیا نے ناقابل قبول قرار دے دیا ہو، اس کے جواز پیش کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہونا چاہیے۔ یہ یقینی طور پر سرحد پار دہشت گردی کی ریاستی سرپرستی پر لاگو ہوتا ہے۔

پاکستان کے وزیرِ خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے اپنی تقریر میں کہا کہ بھارت اس وقت سکیورٹی کونسل کے اجلاس کی صدارت کر رہا ہے۔ وہ دنیا کےمسائل کے حل کے لیے کثیر الجہتی طریقۂ کار پر اپنے یقین کا ثبوت دیتے ہوئے کشمیر پر اقوامِ متحدہ کی قرار دادوں پر عمل درآمد کرائے۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ایسا نہیں ہو سکتا کہ ایک دن اس مسئلے کے فریقین کثیر الجہتی حل پر زور دیں اور پھر دوطرفہ طریقۂ کار کی بات کریں اور پھر یک طرفہ حل لاگو کرنے کی کوشش کریں۔ دنیا کو در پیش چیلنجز کا ذکر کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ دنیا کو ماحولیاتی تبدیلی، جوہری خطرات، دہشت گردی، مہاجرین، قحط اور بھوک سے نمٹنے کی کوشش کرنی ہوگی۔

پاکستان کے 34 برس کے وزیرِ خارجہ لگ بھگ آٹھ ماہ میں امریکہ کا یہ تیسرا دورہ کر رہے ہیں۔ سیکیورٹی کونسل کے اجلاس سے خطاب میں بلاول بھٹو زرداری نے مزید کہا کہ ہمیں اسلامو فوبیا، نفرت، انتہا پسندی، نسلی اور مذہبی عدم برداشت کے نظریات کا بھی مقابلہ کرنا ہے، جس نے بعض ممالک میں اقلیتوں کے خلاف امتیازی سلوک، تشدد اور نسل کشی کے خطرات پیدا کر دیے ہیں۔

پاکستان کے وزیرِ خارجہ کا کہنا تھا کہ دنیا کو امن، سلامتی، اقتصادی و سماجی ترقی اور متعدد دیگر عالمی چیلنجوں کا سامنا ہے اور یہ ضروری ہے کہ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی، سلامتی کونسل، اقتصادی و سماجی کونسل، انسانی حقوق کونسل، بین الاقوامی عدالتِ انصاف اور سیکریٹری جنرل کے سیکرٹریٹ کے تمام اہم ادارے بااختیار اور مؤثر طریقے سے استعمال کیے جائیں۔ عالمی مالیاتی اور اقتصادی طرزِ حکمرانی کے ڈھانچے میں مساوات اور جمہوریت کو بھی شامل کرنا ہوگا۔

اس دوران پاکستان کے دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان نے دہشت گردی کے واقعات میں ملوث ہونے پر انڈیا کے خلاف بین الاقوامی قانونی کارروائی شروع کر دی ہے۔ جمعرات کو پریس بریفنگ میں دفتر خارجہ کی ترجمان ممتاز زہرا بلوچ نے بتایا کہ پاکستان نے جوہر ٹاؤن لاہور میں دہشتگردی کے واقعے پر جامع ڈوزیئر تیار کر لیا ہے۔

بدھ کو وزیرمملکت برائے خارجہ حنا ربانی کھر نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان میں انڈیا کی دہشت گردی میں ملوث ہونے کا ڈوزیئر اقوام متحدہ اور سکیورٹی کونسل کو پیش کر دیا گیا ہے۔ پاکستان میں دہشت گرد کارروائیوں میں انڈیا ملوث ہے۔ ان کے مطابق ’اگر آپ پڑوسیوں کے گھر میں آگ لگانے کی کوشش کریں گے تو آگ آپ کے گھر بھی آئے گی۔