چمن بارڈر پر افغان فورسز کی فائرنگ، بچوں اور خواتین سمیت 8 افراد زخمی

  • جمعرات 15 / دسمبر / 2022

بلوچستان کے ضلع چمن میں سرحد پر افغان فورسز کی طرف سے ایک بار پھر شہری آبادی پر اندھا دھند فائرنگ کے نتیجے میں بچوں اور خواتین سمیت 8 افراد زخمی ہوگئے۔

بلوچستان کے سرحدی شہر چمن میں حالات ایک بار پھر کشیدہ ہو گئے ہیں جہاں افغان فورسز کی طرف سے شہری آبادی کو نشانہ بنایا گیا۔ محکمہ صحت بلوچستان کے کوآرڈینیٹر ڈاکٹر وسیم بیگ کے مطابق فائرنگ کے مختلف واقعات میں 8 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ ڈاکٹر وسیم بیگ نے کہا کہ زخمیوں کو ڈی ایچ کیو چمن ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔

حکام کے مطابق چمن میں کشیدہ حالات کے بعد کوئٹہ کے ہسپتالوں میں بھی ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان کی ہدایت پر کوئٹہ کے سول ہسپتال، بی ایم سی ہسپتال اور ٹراما سینٹر میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔ سیکریٹری صحت کے مطابق تمام طبی عملہ، ڈاکٹرز، نرسز اور پیرا میڈیکل اسٹاف کو ہسپتالوں میں طلب کر لیا گیا ہے۔ ڈاکٹرز، طبی عملہ اور ادویات چمن کے لیے بھی روانہ کر دی گئیں ہیں۔

خیال رہے کہ 11 دسمبر کو افغان بارڈر فورسز نے بلوچستان کے ضلع چمن میں شہری آبادی پر توپ خانے و مارٹر سمیت بھاری ہتھیاروں سے بلااشتعال اور اندھا دھند فائرنگ و گولہ باری کی تھی جس کے نتیجے میں 6 شہری جاں بحق اور 17 افراد زخمی ہوئے تھے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق یہ واقعہ 11 دسمبر کو بلوچستان کے ضلع چمن بارڈر پر پیش آیا تھا۔ بعد ازاں ایک افسر نے ڈان کو بتایا تھا کہ سرحد کے قریب لالا محمد نامی گاؤں میں جب افغان فورسز نے باڑیں اکھاڑنے کی کوشش کی تو دونوں فریقین میں کشیدگی ہوگئی جس کے بعد چمن بارڈر پر ’بابِ دوستی‘ کو بند کردیا گیا تھا۔ تاہم آدھے گھنٹے بعد مسافرین اور ٹریفک کے لیے سرحد کو ایک بار پھر کھول دیا گیا تھا۔

تھوڑی دیر بعد ہی افغان فورسز نے پاکستانی سرحد میں شوکت اور الیاس نامی چوکیوں پر فائرنگ شروع کردی اور پھر افواج پاکستان نے بھی اشتعال میں جوابی فائرنگ کی، مگر افغان فورسز نے شیل اور بھاری ہتھیاروں کا استعمال کرتے ہوئے شہری آبادی کو نشانہ بنایا تھا۔

12 دسمبر کو وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا تھا کہ بلوچستان کے ضلع چمن میں افغان فورسز کی طرف سے شہری آبادی پر بلااشتعال گولہ باری و فائرنگ کرنے کے واقعے پر افغان حکومت نے معذرت کی ہے اور اب معاملہ حل ہو چکا ہے۔