ہمارے نئے فارن سیکرٹری ڈاکٹر اسد مجید خاں
- تحریر افضال ریحان
- جمعرات 15 / دسمبر / 2022
پچھلے دنوں آرمی چیف کی تقرری کے حوالے سے پورے ملک اور اس کے میڈیا میں ایک نوع کا طوفان آیا ہوا تھا۔ خدا کا شکر ہے کہ وہ تعیناتی خون خرابے کے بغیر امن و امان سے ہو گئی ہے اور اب پوری قوم یہ سوچ سکتی ہے کہ پارلیمنٹ کے ذریعے کیوں نہ آئینی طور پر اس نوع کی کسی ایکسٹیشن کی جڑ ہی کاٹ ڈالی جائے۔
اس تقرری کے فوری بعد اسی بائیسویں گریڈ کی ایک تعیناتی فارن سیکرٹری کی بھی ہوئی ہے۔ مجال ہے جو اس حوالے سے کوئی بحث تودور کی بات اس کی کوئی ستائش ہی ہوئی ہو حالانکہ وفاقی سیکرٹری کا یہ عہدہ کسی ڈی جی یا چیف سے اوپر ہوتا ہے جیسے کہ ڈیفنس سیکرٹری اپنے آرمی چیف کا باس ہوتا ہے مگر بالفعل یہاں منتخب قائد اس کے سامنے اتنا دبا ہوتا ہے کہ شہباز شریف جیسے کمزور لیڈر کا جی چاہتا ہے کہ اسے سلیوٹ کرے۔ ہماے سابقہ سیکرٹری برائے خارجہ امور جناب سہیل محمود کی اس عہدے پر تقرری مارچ 2019 میں ہوئی تھی اور وہ اس سال اکتوبر29 کو ریٹائر ہو گئے تھے۔ ان کی جگہ اٹلی میں پاکستان کے سفیر جوہر سلیم کو عبوری طور پر فارن سیکرٹری لگایا گیا تھا اور یہ فیصلہ ہونا باقی تھا کہ سنیارٹی کے اصول پر ڈاکٹر اسد مجید خان کو لایا جانا چاہیے یا نہیں۔
بالآخر مثبت فیصلہ کرتے ہوئے 3 دسمبرکو اسد مجید صاحب کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا کیونکہ ڈاکٹر اسد مجید خان اس وقت اس ذمہ داری کیلئے سینئر موسٹ تھے اور یہ میرٹ پر ان کا استحقاق تھا۔ وہ اس وقت پاکستان اکتیسویں فارن سیکرٹری ہیں۔ ڈاکٹر اسد مجید خان کی ہمارے میڈیا میں حالیہ شہرت تو شاید اس سائفر کے حوالے سے ہے جو اتنی ابھری ہے کہ اس کے نیچے ان کی اصل شخصیت دب کر رہ گئی ہے۔ یہ سائفر دراصل اس سفارتی گفتگو کے حوالے سے ہے جو امریکا میں پاکستانی سفیر کی حیثیت سے اپنا تین سالہ دورانیہ مکمل کرنے کے بعد جب وہ بلیجئئم جا رہے تھے تو ایک ایسی ہی الوداعی تقریب میں امریکی انڈر سیکرٹری ڈونالڈلو سے پاک امریکا دو طرفہ تعلقات اور ان میں حائل رکاوٹوں کے حوالے سے ہوئی تھی۔ ظاہر ہے اس میں امریکی سفارتکار ڈونالڈلو نے ان تعلقات میں کچھ تحفظات یا رکاٹوں کا ذکر کیا تھا اور اس نوع کا اظہار خیال بھی تھا کہ آنے والے ادوارمیں اس حوالے سے بہتری آ سکتی ہے۔ یہ قطعی کوئی دھماکہ خیز یا حکومت گرانے کے لئے سازشی بیانیہ ٹائپ نہ تھا۔ اور پھر جنہوں نے حکومتوں کو سازشوں سے گرانا ہوتا ہے وہ اس نوع کی گفتگو اس طرح کھلے بندوں سفارتی طور پر ہرگز نہیں کرتے۔
درویش نے انہی دنوں اس حوالے سے جب ڈاکٹر اسد مجید خان سے یہ سوال کیا کہ ہمارے عمران خان صاحب آپ کے سائفر کے ساتھ کیوں کھیل رہے ہیں؟ تو وہ مسکرا کر بولے کہ آپ مجھے یہ بتائیں کہ آپ کے خاں صاحب کس کے ساتھ نہیں کھیل رہے ہیں؟ عرض کی کہ وہ کرکٹ کے ہی نہیں خطروں کے بھی کھلاڑی ہیں؟ ظاہر ہے جس کو جو چیز آتی ہے وہی کرے گا۔ یوں بات ہنسی مذاق میں رہ گئی۔ اس سائفر کی شہرت سے عام لوگوں نے یہ سمجھ لیا کہ اسد صاحب نہ جانے ہمارے اس کھلاڑی لیڈر کے کس قدر قریب ہیں۔ حالانکہ ایسی کوئی بات نہیں۔ بطور پاکستانی اور ڈپلومیٹ اسد صاحب محترمہ بے نظیر بھٹو کے علاوہ میاں نواز شریف کے بھی ہمیشہ مداح رہے ہیں۔ انہوں نے نواز شریف کے ساتھ کئی وزٹ کنڈکٹ کئے ہیں اور زرداری صاحب کے ساتھ بھی کام کیا ہے۔ وہ ایک انتہائی نفیس، ملنسار اور ہنس مکھ انسان ہیں۔ کتابیں پڑھنے کا انہیں جنون ہے اس لئے وسیع المطالعہ یا پڑھے لکھے ڈپلومیٹ مانے جاتے ہیں۔ اپنی فارن سروس کے علاوہ قانون ہسٹری ، سیاست اور فلاسفی ان کا خصوصی میلان ہے۔
اپنے قارئین کی آگہی کیلئے بہتر ہوگا کہ ان کی سفارتی و ذاتی زندگی پر ایک طائرانہ نظر ڈال لی جائے۔ کیونکہ درویش کا ان کے ساتھ تعلق تقریباً چار دہائیوں پر محیط ہے لا کالج میں اکٹھے تھے اور پھر شمالی لاہور کا تیزاب احاطہ جہاں ان کی رہائش تھی، قدیم وقتوں سے خاصا آنا جانا رہا۔ ڈاکٹر اسد مجید کا سفارتی کیریئر چونتیس برسوں پر محیط ہے۔ ابھی اپنی موجودہ تعیناتی سے قبل وہ بلجیم لکسمبرگ اور یورپین یونین میں پاکستان کے سفیر کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہے تھے۔ اس سے پہلے جیسے کہ بیان کیا جا چکا ہے کہ 11 جنوری 2019 سے وہ امریکا میں پاکستانی سفیر تعینات تھے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں عمران خاں نے جو امریکی دورہ کیا تھا اس کے انتظامات یا کنڈکٹ انہوں نے خوش اسلوبی سے کیے تھے۔ اس سے قبل وہ دفتر خارجہ میں بطور ڈی جی بھی خدمات انجام دیتے رہے۔ یو ایس اور یو این کے علاوہ ان کا زیادہ وقت جاپان میں گزرا ۔ وہیں پر انہوں نے جاپانی زبانی سیکھنے کے ساتھ ساتھ ٹوکیو یونیورسٹی سے انٹی ڈمپنگ اکانومی میں پی ایچ ڈی بھی کی وہ لمز سمیت بہت سی یونیورسٹیوں اور اداروں کے لئے ریسوس پرسن بھی ہیں۔
تعلیم کا ذکر آیا ہے تو بیان کرتے چلیں کہ ان کی سکولنگ ڈان باسکو سکول ریلوے روڈ سے ہے۔ ایف ایس سی دیال سنگھ کالج سے اور گریجوایشن گورنمنٹ کالج لاہور سے 1983 میں لاء انہوں نے یونیورسٹی لاء کالج پنجاب یونیورسٹی سے کیا تھا اور پریکٹس کا آغاز انہوں نے سینئر ایڈووکیٹ رضا کاظم صاحب کے پاس کیا۔ سی ایس ایس میں ان کا تعلق سولہویں کامن سے ہے اور فارن سروس ہی ان کی ترجیح تھی۔ ڈاکٹر اسد مجید خاں کی پیدائش 17 اگست 1963 کی ہے۔ خاص وجہ سے یہ تاریخ نہیں بھولتی ان کی فیملی مشرقی پنجاب کے ضلع ہوشیار پور سے پارٹیشن کے موقع پر لاہور آئی تھی۔ ڈاکٹر اسد مجید کے والد محترم جناب مجید خان صاحب یوسف زئی پٹھان تھے اور والدہ محترمہ ترین پٹھان ۔ والد صاحب سٹیٹ لائف کے ساتھ منسلک رہے اور وہ اپنے وقت کےاچھے کھلاڑی بھی تھے فٹ بال فیڈریشن کے صدربھی رہے۔ شاید اسی وجہ سے خود اسد صاحب بھی سپورٹس مین ہیں فٹ بال اور کرکٹ میں ان کی خصوصی دلچسپی ہے یہ چار بھائی ہیں۔
ڈاکٹر اسد مجید کی شادی 2000 میں ڈاکٹر زونیرا مجید صاحبہ سے ہوئی اب ماشا اللہ ان کا ایک بیٹا امریکا میں ہے اور بیٹی لمز میں زیر تعلیم ہے۔ دوستوں میں اپنی ذہانت اور بے تکلفی کے ریفرنس سے پسند کئے جاتے ہیں۔ اتنی دنیا گھوم چکے ہیں مگر بات کرو تو ٹھٹھ پنجابی لہجے میں حال احوال پوچھتے ہوئے دقیق علمی مسائل زیر بحث لے آئیں گے۔ یوں محسوس ہو گا کہ کوئی تصنع یا بناوت نہیں حال دل کھول کر بیان کر دیا ہے۔ سفارت کاروں کے متعلق بالعموم یہ کہا جاتا ہے کہ وہ دو گھنٹے مسلسل بولیں گے مگر کام کی کوئی بات مجال ہے جو کسی کے پلے پڑنے دیں۔ ہمارے اسد مجید بھی شاید ایسے ہوں لیکن درویش نے کبھی یوں محسوس نہیں کیا۔ اس لیے دعا ہے کہ وہ جناب سہیل محمود کی طرح بلکہ ان سے بھی بڑھ کر جناب آغا شاہی جیسے منجھے ہوۓ سفارتکار کی طرح فارن آفس میں یاد رکھے جانے والے نقوش چھوڑ کر جائیں گے۔ اوراقوام عالم میں پاکستان کی پہچان بہتر بنوانے کے لئے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کریں گے۔