یوکرین کو پیٹریاٹ میزائل بھیجنے پر روس کا انتباہ

  • جمعہ 16 / دسمبر / 2022

روس نے امریکہ کو متنبہ کیا ہے کہ اگر وہ یوکرین کو جدید ترین پیٹریاٹ ایئر ڈیفنس میزائل بھیجتا ہے تو ماسکو اسے ایک اشتعال انگیز اقدام سمجھے گا اور اپنا ردِعمل دے سکتا ہے۔

روسی وزارت کی ترجمان ماریا زاخارووا نے کہا ہے کہ امریکہ کی طرف سے یوکرین کو پیٹریاٹ میزائلوں کی فراہمی کیف حکومت کو 10 ماہ کی جنگ کو روکنے میں مددگار ثابت ہوگی اور اس کے ممکنہ نتائج ہو سکتے ہیں۔ ترجمان نے یہ نہیں بتایا کہ ماسکو کا ردِعمل کیا ہو سکتا ہے لیکن ان کا کہنا ہے کہ امریکہ کو روس کے انتباہات سے 'صحیح نتیجہ اخذ کرنا چاہیے' کہ امریکہ کی طرف سے فراہم کردہ آلات روسی حملوں کے لیے ایک جائز ہدف ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یوکرین کو اسلحے کی ترسیل کے ساتھ امریکہ پہلے ہی جنگ میں مؤثر طریقے سے فریق بن چکا ہے۔ خیال رہے کہ امریکہ نے رواں ہفتے صحافیوں کو پیٹریاٹ میزائل سسٹم یوکرین بھیجنے کے معاہدے کی تصدیق کی تھی۔ یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی کا طویل عرصے سے یہ کہنا ہے کہ یوکرین کو بجلی اور پانی کی سہولتوں سمیت اہم انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے والے روسی فضائی حملوں کے خلاف اپنا دفاع کرنے کے لیے اس میزائل سسٹم کی ضرورت ہے۔

وائٹ ہاؤس اور پینٹاگون کے رہنماؤں نے مسلسل کہا ہے کہ یوکرین کو اضافی فضائی دفاع فراہم کرنا ایک ترجیح ہے لیکن اس ہفتے تک وہ پیٹریاٹ میزائل بھیجنے سے  گریز کر رہے تھے۔ تاہم یوکرین کے بنیادی ڈھانچے پر مسلسل بمباری کے باعث امریکی حکام نے فیصلہ کیا کہ فضائی دفاعی میزائلوں کی تعیناتی ضروری ہے۔

امریکی حکام نے جمعرات کو یہ بھی کہا کہ وہ موسم سرما کے مہینوں کے دوران یوکرینی افواج کے لیے جنگی تربیت کو وسعت دیں گے۔ اس سلسلے میں نئی ہدایات جرمنی کے گرافین ووہر ٹریننگ ایریا میں دی جائیں گی۔