روس سے رعایتی قیمت پر توانائی حاصل نہیں کر رہے ہیں: بلاول بھٹو زرداری

  • جمعہ 16 / دسمبر / 2022

وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے روس سے رعایتی قیمت پر توانائی حاصل نہیں کر رہے ہیں۔ اس حوالے سے وقت لگے گا۔

امریکی نشریاتی ادارے ’پبلک براڈکاسٹنگ سروس‘ کو ایک انٹرویو میں بلاول بھٹو نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان اور امریکا کے لیے یہ بات سب سے زیادہ اہم ہے کہ ہم ایسے شعبے تلاش کریں، جن میں ہم ایک ساتھ کام کرنے پر متفق ہوں۔ ہم ماحولیات اور صحت پر مل کر کام کر رہے ہیں، ہم خاص طور پر خواتین کے لیے کاروباری اور اقتصادی مواقع تلاش کر رہے ہیں۔

انہوں نے پاک امریکا تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کے ساتھ ہمارا تاریخی رشتہ ہے جو 1950 کی دہائی سے قائم ہے۔ جب بھی امریکا اور پاکستان نے مل کر کام کیا، ہم نے بڑی کامیابیاں حاصل کی ہیں اور جب بھی ہمارے درمیان کوئی فاصلہ پیدا ہوا تو ہم نے اس سے نقصان اٹھایا۔

وزیر خارجہ نے چین کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ چین ہمارا پڑوسی ملک ہے۔ اس کے ساتھ ہماری ایک طویل تاریخ ہے اور دونوں ملکوں کے درمیان اقتصادی شعبے سمیت دیگر شعبوں میں ہمارا بہت تعاون ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ امریکا اور پاکستان کے لیے یہ بالکل ممکن ہے کہ دونوں چین اور امریکا کے ساتھ جڑے رہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ جہاں تک روس کا تعلق ہے، ہم رعایتی قیمت پر توانائی لینے کی کوشش نہیں کر رہے ہیں اور نہ ہی حاصل کر رہے ہیں۔ لیکن ہمیں انتہائی مشکل معاشی صورت حال، افراط زر، ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کا سامنا ہے۔ ہم توانائی کے عدم تحفظ کے پیش نظر اپنے علاقوں کو وسعت دینے کے لیے مختلف راستے تلاش کر رہے ہیں، جہاں سے ہم اپنی توانائی حاصل کر سکتے ہیں، ہمیں روس سے جو بھی توانائی ملے گی، اس میں کافی وقت لگے گا۔

ان سے پوچھا گیا کہ اگر قبل از وقت انتخابات کی صورت میں سابق وزیراعظم عمران خان کامیابی حاصل کریں گے، جس کے جواب میں بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ عمران خان انتخابات میں کامیابی حاصل نہیں کرسکتے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم نے انہیں تحریک عدم اعتماد کے ذریعے ہٹایا۔ یہ پہلا موقع ہے، جب جمہوری آئینی طریقہ کار کے ذریعے کسی وزیراعظم کو پارلیمنٹ سے ہٹایا گیا۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ سوشل میڈیا کے ذریعے عمران خان کی مقبولیت کے بارے میں ایک غلط تاثر پیش کیا گیا۔ ان کی اپنی نشستوں پر ضمنی انتخابات جیتنےکو پاکستان بھر میں ان کی مقبولیت کے جھوٹے ثبوت کے طور پر پیش کیا گیا۔ گزشتہ دہائی میں پاکستان کی جمہوری کامیابی یہ ہے کہ ہمارے پاس ایک کے بعد دوسری پارلیمنٹ اپنی 5 سالہ مدت پوری کرتی رہی ہیں۔

وزیر خارجہ نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ دنیا کو افغانستان کے ساتھ انگیج کرنے کی وکالت بالکل درست ہے، ہمیں ماضی کی غلطیاں نہیں دہرانی چاہئیں۔ افغانستان کو سرد جنگ کے جہاد کے بعد چھوڑ دیا گیا، جس کے باعث ہمیں مزید پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ ہمارا اصرار ہے کہ نہ صرف پاکستان بلکہ عالمی برادری کو افغانستان کے ساتھ بات چیت کرنی چاہیے۔

جہاں تک خواتین کے حقوق اور تعلیم کا تعلق ہے، کم از کم پاکستان میں ہم سمجھتے ہیں کہ خواتین کو تعلیم اور معاشرے میں ہر سطح پر مساوی حقوق حاصل ہیں۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ہمیں اس حقیقت پر فخر ہے کہ پاکستان نے پہلی مسلمان خاتون کو وزیر اعظم منتخب کیا۔ یہ ہمارے لیے مثالیں ہیں۔ افغانستان کے تناظر میں ہم افغان لڑکیوں کو بھی ایسا کرنے کی ترغیب دیتے ہیں اور یہ وہ عہد ہے جو انہوں نے بین الاقوامی برادری اور اپنے عوام کے ساتھ کیا ہے۔

انہوں نے توقع ظاہر کی کہ افغانستان کی حکومت لڑکیوں کی تعلیم اور اپنے دیگر وعدے پورے کرے گی، اسی وجہ سے ہم ان کے ساتھ یہ معاملات اٹھاتے رہتے ہیں۔ ہم اس حقیقت کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں کہ افغانستان میں لڑکیوں کے لیے پرائمری تعلیم کی اجازت ہے اور ہم اس دن کے منتظر ہیں جب افغانستان میں لڑکیوں کے لیے ثانوی تعلیم کی بھی اجازت ہوگی۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ میری پارٹی نے ماضی میں بھی جمہوریت کی پیروی کی ہے اور وہ آج بھی پاکستان میں جمہوریت کی وکالت کرتی ہے اور یہ فیصلہ عوام پر چھوڑتی ہے کہ وہ اپنی نمائندگی کے لیے کس کو منتخب کرنا چاہتے ہیں۔

دوسری جانب، نیویارک میں جی 77 وزارتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ بلاول بھٹو نے کہا کہ آج دنیا کے بیشتر ترقی پذیر ممالک کو معاشی ترقی کے حوالے سے غیر معمولی چیلنجز درپیش ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ سماجی اور سیاسی بحران کے خطرات بھی ہیں۔ گزشتہ تین برسوں میں ہماری معیشتیں اور سوسائٹیاں ایک کے بعد ایک بحران کی لپیٹ میں رہی ہیں، جس میں کورونا وائرس کی عالمی وبا، سپلائی چین میں خلل، کرنسیوں کی قدر میں کمی، موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے ہونے والی تباہی اور جیو پولیٹیکل صورت حال اور خاص طور پر یوکرین کی جنگ اور اس کے بعد پابندیاں شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے زیادہ تر رکن ممالک کا مستقبل تاریک نظر آتا ہے۔ اگلے برس عالمی معاشی شرح نمو کا تخمینہ 3 فیصد سے بھی کم لگایا گیا ہے۔ اشیائے خوردونوش سمیت دیگر چیزوں کی قیمتیں بُلند رہیں گی، ڈالر میں شرح سود میں اضافے کی وجہ سے ترقی پذیر ممالک کی کرنسیوں کی قدر کم ہو رہی ہے اور مزید گردشی قرضوں کے بوجھ میں اور مارکیٹ سے قرض لینے کی قابلیت میں بھی کمی ہو گی۔

اسی طرح زیادہ تر ممالک کے لیے برآمدت کے ذریعے ترقی کرنا مزید مشکل ہوگا۔ اس کے علاوہ موسمیاتی تبدیلی نے ترقی کے چیلنجز کی نوعیت تبدیل کر دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں نہ صرف پائیدار ترقی کے اہداف (ایس ڈی جیز) حاصل کرنے کی ضرورت ہوگی بلکہ اس کے ساتھ ساتھ ہمیں موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے ہونے والے نقصانات اور تباہی سے بحالی اور مستقبل میں اس کے اثرات سے بچنے کے لیے اقدامات بھی کرنے کی ضرورت ہوگی۔ ہمیں اس حوالے سے عالمی تخفیف کے اہدف میں تعاون کی توقع ہے۔

انہوں نے کہا کہ آج دنیا میں 25 کروڑ افراد کو بھوک کا سامنا ہے۔ ہمارے 82 رکن قرضوں کی زد میں ہیں۔ مالی کفایت شعاری ان کی ترقی کو روک دے گی اور بھوک اور غربت کو بڑھا دے گی، ہمیں غربت کے جال سے نکلنے کے لیے راستہ بنانا چاہیے۔ اس کانفرنس کا مقصد ایسے اقدامات شروع کرنا ہے جو ترقی پذیر ممالک کو درپیش فوری چیلنجوں کا جواب دیں اور پائیدار ترقیاتی اہداف اور درکار بین الاقوامی مالیاتی اور اقتصادی نظام میں اصلاحات یقینی بنانے کے لیے حکمت عملی کا خاکہ پیش کریں۔ ہمیں ایمرجنسی ٹاسک فورس کے قیام کے لیے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کا شکریہ ادا کرنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں بین الاقوامی مالیاتی ڈھانچے کی اصلاح کے لیے سیکریٹری جنرل کے مطالبے کا ساتھ دینا چاہیے۔ اس میں کئی جرات مندانہ اقدامات شامل ہوں گے جن میں ایک، خودمختار قرضوں کے پائیدار انتظام کے لیے ایک کثیر جہتی طریقہ کار سمیت اجتماعی قرض سے نجات کے لیے ایک بہتر مشترکہ فریم ورک اور ایک نئی خودمختار قرض اتھارٹی شامل ہے۔

ترقی پذیر ممالک کے لیے قرض لینے کی لاگت کم کرنے کے لیے میکینزم بنانا چاہیے۔ ترقی پذیر ممالک کو بھی اپنی سرمایہ کاری منڈیوں کی تعمیر اور ٹیکس کوریج اور محصولات بڑھا کر نمایاں طور پر بڑےاندرونی وسائل کو متحرک کرنے کے لیے زیادہ سے زیادہ کوششیں کرنی چاہئیں۔  ہم ترقی یافتہ ممالک سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ موسمیاتی فنانس میں سالانہ 100 ارب ڈالر فراہم کرنے کے اپنا وعدہ پورا کریں اور “لاس اینڈ ڈیمیج “ فنڈ فوری طور پر فعال کریں اور ترقی یافتہ ممالک سے کاربن اخراج میں کمی کا مطالبہ بھی کرتے ہیں۔