زبیر انصاری: محبت نام ہے اس کا
- تحریر افروز عالم
- جمعہ 16 / دسمبر / 2022
نزاکت ہے، نفاست ہے، عنایت ہے، محبت ہے؟
بھلااردو سے بڑھ کر کوئی بھی شیریں زباں کیوں ہو؟ (زبیر)
اردوشاعری کے بارے میں تو آپ جانتے ہیں نا، یہ اس د نیا کی عظیم تر شے ہے۔ یہ تنگ نظروں کو اکثر پریشان کرتی ہے، بلیغ ذہن قاری اسے پڑھتا ہے اور سر دھنتا ہے،اس سے لطف اندوز ہوتا ہے لیکن تفریح بازوں کے لئے یہ موج مستی کی چیز ہے۔
خاص طور سے غزل اور اس کے معصوم ریز وں کے کیا ہی کہنے۔ یہ ایک جادو ہے جسے بے ترتیب بھیڑ کے سامنے سلیقے سے قرات کر دیں تو بھیڑ مجلس میں تبدیل ہو جائے۔ یہی شاعری بھائی زبیر انصاری کی پہلی اور آخری محبوبہ ہے جس کی سرگوشیوں کے طفیل آپ کے لبوں پر مسکراہٹ کی کرنیں رقص کرتی رہتی ہیں۔ اسی شاعری نے بھائی زبیر انصاری کو 1987سے اپنے سحر میں اسیر کر رکھا ہے۔ آپ نے شاعری کے تقریباً تمام ہی مروج اصناف میں اپنے فکر سے فن کے چراغ روشن کئے ہیں، تاہم اس مضمون میں غزل کے حوالے سے ہی گفتگو مقصود ہے۔ کیوں کی آپ کی منتظر اشاعت شعری مجموعہ کا زیادہ تر حصہ غزلوں پر مشتمل ہے۔
اس وقت میرے سامنے آپ کی قریب قریب پچاس سے زیادہ غزلیں ہیں، جسے کئی روز سے ورق گردانی کر رہا ہوں۔ موصوف کی شاعری کے حوالے سے میں نے ابھی تک کوئی مضمون نہیں پڑھا ہے، نہ ہی ان کے کسی ادبی دوست کے نظریہ سے کوئی خاص واقفیت ہے۔ لکھنو کی کئی شعری نشستوں اور کئی آن لائن مشاعروں میں آپ کو سننے کا اتفاق رہاہے۔ اس لئے پیش نظر شاعری کی روح تک اگر رسائی حاصل کر سکوں تو اللہ کا شکر ادا کروں گا۔ خارجی طور پر پہلی نظر میں یہ واضح ہے کہ زبیر بھائی نے اپنی شاعری کے بیج کو کلاسیکی ادب کی مٹی میں ڈالا لیکن خارجی رکھ رکھاؤ سے نئے گلنار کھلانے میں کامیاب ہیں۔ دبستان لکھنؤ تویوں بھی ابتداسے ہی نازکی کا طرف دار رہا ہے، سو بھائی زبیر نے بھی اپنی شاعری میں اپنے لہجے کو کہیں شوخ(تیز) نہیں ہونے دیا ہے بلکہ اپنے فکر و نظر سے ادب کے دیپک کو اپنے دل کے خانقاہ میں آہستہ آہستہ جلایا ہے، جس کے سبب قدرتی طور سے شعری نظریہ کی ترویج ہوتی جاتی ہے۔ مثال کے طور پہ چند اشعار ملاحظہ فرمائیں:
لرز اٹھتا ہے دل،ذہن و جگر بھی کانپ جاتے ہیں
شب تنہائی میں جب سسکیاں آواز دیتی ہیں
ہوا، آتش، فلک، طوفاں کو اپناکیا پرایا کیا
گری ہے جس پہ کل بجلی وہ میرا آشیاں کیوں ہو؟
پہن کر جس کو ہاتھوں میں، جوانی رشک کرتی ہے
وفاؤں کا وہ کنگن ہے، محبت نام ہے اس کا
بھائی زبیر نے اپنی غزلوں میں اسلامیات سے متعلق بہت سے اشعار کہے ہیں۔ دبستان لکھنؤ کے شعرا کے یہاں ایسا اکثر دیکھنے کو ملتا ہے۔ حالانکہ دوسرے دبستانوں میں ان مضامین کے لئے مخصوص منظومات کئے جاتے ہیں۔ نعت، منقبت اور دعائیہ مضامین کے اشعار بھی جا بہ جا غزلوں میں مل رہے ہیں۔ مذہبی ذہن کے قارئین کے لئے یہ ایک نیک فال ہے اور اس سے شاعر کے صوفیانہ مزاج کا بھی پتہ ملتا ہے۔ پوری ایک غزل کی ردیف ہی ہے" چلو نماز پڑھیں " ۔ ترقی پسند دور کے تنقید نگار اور شعرا ایسے اشعار کی تخلیق پر ادبی فتوی صادر کر دیتے تھے، لیکن آج ایسا نہیں ہے۔ ادب کا یہی لبرل رویہ ہر روز ایک
نئے جہان معنی کا در وا کرتا ہے، جس کے سبب غزل ہر روز ایک نئی تاریخ رقم کر رہی ہے۔ ایسے بھی آج کی غزل ایک مدار پر رکتی نہیں ہے۔ عوامی ذرائع ابلاغ کی ترقی کے بعد دبستانوں کی درجہ بندی اور شناخت بھی پہلے جیسی نہیں رہی۔ حالانکہ 1980کے بعد لاہور، کولکاتا، خلیجی ممالک اور اردو کی نئی بستیوں نے بھی اپنے پر پرزے خوب نکالے ہیں۔ زبیر بھائی نے بھی غزلوں میں اپنی علم اور ذہانت کا مظاہرہ کیا ہے۔ نمونہ کے طور پر جند اشعار ملاحظہ فرمائیں:
نبی کے معجزوں کی بات ہوتی ہے جو محفل میں
وہاں پھر قصہ شق القمر آنا ضروری ہے
مرے خدا مرے ہاتھوں میں وہ ہنر دے دے
میں جس سے ہاتھ ملاؤں سب اس کے غم لے لوں
یاد آتا ہے جب غم شبیر
اشک آنکھوں سے خود نکلتے ہیں
صدقہ، فطرہ، زکوۃ تھا تو بہت
اس کے حق دار تک نہیں پہنچا
نماز، روزہ، عبادت ثوابی باتیں ہیں
برائی چغلی و غبت عذابی باتیں ہیں
اس قبیل کے اور بھی اشعار آپ کو مل جائیں گے لیکن مندرجہ ذیل اشعار کا لطف لیجئے اور محسوس کیجئے کہ شاعر اپنے ادبی سفر میں کہیں بھی گمراہی کا شکار نہیں ہوا اور اپنی سماجی ذمہ داریوں سے خوب خوب آکاہ ہے:
عورت کو عورت چاہے اور مرد کو مرد
ہم مشرق سے مغرب ہونے والے ہیں
بابری مسجد کو کیسے بھول پائیں ہم زبیرؔ
امن کے اس باغ کو زہر نفرت دے گیا
بھائی زبیر انصاری اپنی شاعری کی بدولت کبھی شہرت کمانے کے فراق میں نہیں رہے تاہم آپ کے کوائف میں ایوارڈ کی اچھی خاصی طویل فہرست ہے۔
یہ فہرست نئی نسل کے نوجوانوں کے لئے مشعل راہ ہے۔ کسی قسم کی بھاگ دوڑ سے زیادہ اہم چیز دلجمعی سے شاعری کو سیکھنا اور کرنا ضروری ہے۔ مشاعرے اور
ایوارڈ تو جینوئن فنکار کے لئے کوئی اہمیت ہی نہیں رکھتے۔ بھائی زبیر ؔنے اپنی فن و شخصیت سے نہ صرف اہل لکھنؤ کے دل میں اپنی جگہ بنائیہے بلکہ خاموشی سے دبئی کی چمک دمک میں اور وسطی ایشیا کے برفیلے چٹانوں میں بھی اپنی شاعری کی لو سے سامعین کے دلوں کو گرمایا ہے۔ آپ ایک غزل میں بہت ہی سچائی سے فرماتے ہیں کہ:
لبوں پہ اپنے تبسم کے پھول مہکا کر
قسم خدا کی سر دار سانس لیتا ہوں
مری حیات وفاؤں کا آئینہ ہے زبیرؔ
میں آنسوؤں میں گرفتار سانس لیتا ہوں
محترم بھائی زبیر انصاری کی شخصیت کو قریب سے جا ننے والے بہت آسانی سے یہ سمجھ سکتے ہیں کہ مذکورہ بالا اشعار صرف ان کا بیان نہیں بلکہ ایک ایک شعر میں پوری زندگی اور شخصیت کا خلاصہ ہے۔ آئیے آپ کو ذرا سا ان کی شخصیت کی طرف لے چلتا ہوں جہاں سے آپ کو یہ محسوس ہوگا کہ چند اشعار کی قرات سے بات نہیں بنے گی بلکہ اس فن پارے کا ورق بہ ورق مطالعہ بہت ہی اہم ہے۔آپ کے لئے یہ کوئی حیرت انگیز بات نہ ہوگی کہ معاملات بندی میں اگر انسان ہوا میں اڑنے کے بجائے ذرا سا جھک جائے تو عقل کے زیادہ قریب رہتا ہے۔ موصوف اس نظریہ کو سمجھنے میں بہت حد تک کامیاب نظر آتے ہیں، اس لئے آپ ایک ذہین و فہیم، ہم درد و رحم دل کے مالک، درمیانی قد کا ٹھی، قدر دبلے پتلے اورتعلیم یافتہ شخصیت کے مالک ہیں۔
آپ کا آبائی وطن شہر جالون(یو پی) ہے۔ آپ کے دادا جان محترم حکیم عبدلطیف انصاری کا شمار پائے کے مزاح نگار شعرا میں ہوتا تھا لیکن آپ کی پیدائش11 نومبر 1970 کو نا نا جان محترم عبدالشکور انصاری کے یہاں کالپی (جالون، یوپی) میں ہوئی تھی۔ آپ کے والد کا نام عبدالمجید انصاری اور والدہ کا نام محترمہ سکونت خاتون ہے۔ والد محکمہ ڈاک میں سینئر پوسٹ ماسٹر کے عہدے پر فائز رہے، جب کہ والدہ گھریلو خاتون ہیں۔ ابتدائی تعلیم نانا کے ہی سرپرستی میں کالپی کے اسکول اور مدرسے میں ہوئی تاہم آپ نے بی اس سی، ایل ایل بی، ایل ایل ایم، کے بعد ایم بی اے کے اعلی تعلیم کے لئے مختلف شہروں اور یونیورسیٹوں کا طواف کیا جس کی بدولت آپ کے افکارا ور شخصیت کو نکھار دیا۔ بے باک انداز،سچے دل اور شفاف ذہن کے مالک محترم زبیر انصاری کی تعلیم کے مد نظر وکالت کا پیشہ ہی مناسب تھا، اس لئے ایل ایل ایم کرنے کے بعد لکھنو میں مستقل سکونت اختیار کی اور لکھنو کی عدالت عالیہ میں وکالت شروع کر دی، جو کہ ہنوز جاری ہے:
فضا چہکتی ہے ہر شے مہکنے لگتی ہے
زمانہ کہتا ہے اس کی گلابی باتیں ہیں (زبیرؔ)
محترم زبیر انصاری کی شاعری کا کینوس بہت حد تک پھیلا ہوا ہے، آپ اپنی ڈائری کے لئے اپنے پسند کے اشعار چن سکتے ہیں۔ میں اپنے پسند کے اشعار یہاں نوٹ کر رہاہوں:
نسیم صبح وہ ہر شے پہ شبنمی قطرے
وضو کراتی ہے قدرت کہ وقت ذکر کا ہے
محبت میں بنانا تاج بس ایک خواب ہوتا ہے
مکمل خواب کی تعبیر تو مزدور کرتے ہیں
کوئی تو آکے مری پیاس بجھائے گا کبھی
بس اسی آس پہ ہر دن ہے نکلتا سورج
یہاں پہ بس ایک جملے کے ساتھ اپنی گفتگو کو آپ کے منصفانہ ذہن کے لئے " محبت نام ہے اس کا " کا تحفہ پیش کرتا ہوں۔ "مسخرہ نما ذہنیت جب تک لالچ کی بنیازد پر ہوا میں محل تعمیر کرتی زرہے گی تو ہر روز کوئی نہ کوئی سر پھرا سماج کی دستار پر سیاہی پھینکتا رہے گا"