کیا مودی کو ’گجرات کا قصاب‘ کہنا غلط ہے؟

پاکستان اور بھارت کے وزرائے خارجہ کے درمیان سخت الفاظ کا تبادلہ اور ایک دوسرے پر الزام تراشی سے دونوں ہمسایہ ملکوں کے درمیان کوئی مسئلہ حل ہونے کا امکان نہیں ہے لیکن  بالواسطہ طور سے ہونے والے اس مکالمہ نے یہ ضرور  واضح کیا ہے کہ    بھارت  علاقائی حقائق کو تسلیم کرنے کی بجائے  پاکستان کو نشانہ بنا کر اپنی تخریبی اور انتہا پسندانہ کارروائیوں پر پردہ  ڈالنے کی کوشش کرتا رہا ہے۔

 اس دوہرے معیار پر ضرب لگنے سے ایک طرف  بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر تجربہ کار سفارت کار ہونے کے باوجود نازیبا غیر سفارتی لب و لہجہ پر اتر آئے تو دوسری طرف  بھارتیہ جنتا پارٹی کے مشتعل کارکنوں نے نئی دہلی میں پاکستانی  سفارت خانے پر دھاوا بولنے کی کوشش کی اور بلاول بھٹو زرداری سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا۔ حالانکہ بلاول بھٹو زرداری نے بھارتی وزیر خارجہ کو اسی لب و لہجہ میں جواب دیا تھا  جو انہوں نے  پاکستان کی طرف سے  مقبوضہ کشمیر میں اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے مطالبہ کے جواب میں  اختیار کیا تھا اور دو پرانے  متنازعہ سانحات کا حوالہ دے کر پاکستان کو شرمندہ کرنے کی کوشش کی تھی۔  اب یہ تو نہیں ہوسکتا کہ بھارتی سفارت کاروں اور  حکومتی نمائیندوں کو کھل کھیلنے اور پاکستان کے خلاف زہر اگلنے کی کھلی چھٹی دے دی  جائے اور ان کی  گرفت نہ کی جائے۔

بلاول بھٹو زرداری نے سلامتی کونسل کے ایک اجلاس میں مقبوضہ کشمیر  کے حوالے   سے عالمی ادارے کی قرار دادوں پر عمل درآمد  کا دیرینہ  مطالبہ دہرایا تھا۔ پاکستان  کبھی اس مطالبہ سے دست بردار نہیں ہؤا۔ البتہ یہ الگ بات ہے کہ بوجوہ وہ اقوام متحدہ کی قرار دادوں پر عمل درآمد کروانے میں بھی کامیاب نہیں ہوسکا۔ البتہ پاکستانی نمائیندے رسمی طور سے ہی سہی وقتاً فوقتاً  کشمیر کی صورت حال کا ذکر کرکے عالمی برادری کو یاددلاتے رہتے ہیں کہ بھارت  پر دباؤ ڈالا جائے تاکہ وہ مقبوضہ کشمیر کے عوام کو استصواب کا وہ حق فراہم کرے جس کا وعدہ ان سے سلامتی کونسل کی قرار دادوں میں کیا گیا تھا۔  کشمیر میں رائے شماری  کروانے اور عوام کی رائے کے مطابق اس خطے کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا وعدہ اقوام متحدہ کی قراردادوں میں دو ٹوک انداز میں  کیا گیا ہے ۔  ایک مدت تک بھارت اس وعدے پر قائم بھی رہا ہے۔ تاہم دونوں ملکوں کے درمیان دو جنگوں  کی وجہ سے پیدا ہونے والی صورت حال اور  معاشی ترقی  اور  کثیر آبادی  کی وجہ سے بھارت کو  عالمی منظر نامہ پر ملنے والی   ’ پہچان‘  کے سبب   بھارتی حکومتوں نے  کشمیر کو  بھارت کا اٹوٹ انگ قرار دینے کی رٹ لگانا شروع کردی تھی۔

نریندر مودی کی انتہا پسند ہندو حکومت نے  اگست 2019 میں مقبوضہ کشمیر کی علیحدہ شناخت اور ریاستی حیثیت ختم کرنے  کے عملی اقدامات بھی کئے۔ جس کے بعد بھارتی حکومت کے  جوشیلے نمائیندے یہ دعوے بھی کرتے رہے ہیں کہ اب پاکستان کے زیر انتظام (بھارتی  ترجمان اسے پاکستان کے زیر قبضہ کشمیری علاقہ  کہتے ہیں) کشمیر کو بھی گلگت بلتستان سمیت بھارت کا حصہ بنانے کا وقت آگیا ہے۔ حالانکہ نئی دہلی کے علاوہ تمام اہم دارالحکتوں کو  یہ خبر ہے کہ  اس احمقانہ خواب کو حقیقت بنانے کی کوئی بھی کوشش   خطرناک ہوگی۔ ایٹمی ہتھیاروں سے لیس دونوں ملک  براہ راست جنگ  پر مجبور ہوجائیں گے۔ بھارت اپنے تئیں جو بھی دعوے کرتا رہے اور پاکستان اپنی ہی غلطیوں  اور مجبوریوں کے ہاتھوں جس حد تک بھی کمزور اور بے بس ہوچکا ہو لیکن یہ واضح  ہے کہ کسی بھی قسم کی بھارتی جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لئے پاکستان کا کوئی شہری  کسی ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں کرے گا۔   فی زمانہ  جنگی تکنیک   تبدیل ہونے کی وجہ سے کوئی بھی طاقت جنگ جیتنے کی صلاحیت نہیں رکھتی ورنہ امریکہ کو  بیس سال بعد افغانستان سے خالی ہاتھ واپس جانے کی ضرورت نہیں تھی۔ اسی طرح پاکستان اور بھارت کی جنگ میں بھی  کوئی فاتح نہیں ہوگا لیکن تباہی دونوں کے حصے میں آئے گی۔ بھارت اگر بڑا ملک ہے، زیادہ خوشحال ہے اور اس کا علاقہ وسیع ہے تو اسے یہ اندازہ کرلینا چاہئے کہ  جنگ کی صورت میں اس کے ہاں ہونے والی تباہی کا حجم بھی اسی حساب سے زیادہ ہوگا۔

جنگ کسی مسئلہ کا حل نہیں ہے۔ نئی دہلی کی طرف سے  اشتعال انگیز بیانات کے باوجود پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت نے ہمیشہ ہوشمندی کا مظاہرہ کیا ہے اور  اعتراف کیا ہے کہ جنگ کوئی آپشن نہیں ہے ۔  اس سے  علاقے میں آنے والی  تباہی  سے  خطے میں پائی جانے والی غربت اور احتیاج میں اضافہ ہوگا۔ دونوں ملکوں کا مفاد اسی میں ہے  کہ وہ مہذب اقوام کی طرح ایک دوسرے کے ساتھ مکالمہ کا راستہ اختیار کریں۔ مسائل کا سامنا مذاکرات کی میز پر کیا جائے اور اس وقت تک   بات چیت جاری رکھی جائے جب تک کشمیر سمیت تمام مشترکہ مسائل کا حل تلاش نہیں کرلیا جاتا۔  تاہم  یہ مقصد حاصل کرنے کے لئے دونوں ملکوں کے لیڈروں کو سب سے پہلے یہ ادراک کرنا ہوگا کہ  ایک دوسرے کے ساتھ دشمنی کو سیاسی  ہتھکنڈے کے طور پر استعمال کرنے کا طریقہ ترک کیا جائے۔ دونوں ملکوں میں آباد  لوگ ہزاروں سال پرانے تہذیبی و تمدنی رشتوں میں جڑے ہوئے  ہیں لیکن  ایک دوسرے کے خلاف   بھڑکائی  جانے والی نفرت    نے  فاصلے اور دوریاں پیدا کردی ہیں۔ ان فاصلوں کو کم کرکے   برصغیر کے عوام کو ایک دوسرے سے گھلنے ملنے  کا موقع دیا جائے  تو   دونوں ملکوں کے درمیان کوئی ایسا مسئلہ نہیں ہے جسے حل نہ کیا جاسکے۔ 

تاہم   اس  مقصد کے  لئے بھارت کے علاوہ پاکستانی لیڈروں کو بھی تسلیم کرنا ہوگا کہ وہ کشمیر کے  جس حصے پر ’قابض‘ ہیں، وہ کشمیری عوام کا وطن ہے اور انہی کو اس کی قسمت کا فیصلہ کرنے کا حق  ہے۔ اقوام متحدہ نے اپنی قرار دادوں  میں اسی بنیادی انسانی حق کو  تسلیم کیا ہے۔  اگر بالفرض یہ قراردادیں نہ بھی موجود ہوتیں تو بھی بھارت یا پاکستان  اس خطے کے عوام کے حق خود ارادی کے اصول سے انکار نہیں کرسکتے تھے۔ کیوں کہ  بین الریاستی تعلقات کا  کوئی اصول  کسی خطے کے عوام کو  اپنے بارے میں فیصلہ کرنے  سے محروم نہیں کرتا۔  اس تناظر میں بھی بھارتی حکمرانوں کو کشمیر میں استصواب  کی یاددہانی پر سیخ پا ہونے کی بجائے پاکستان کے ساتھ  ڈائیلاگ شروع کرنے  پر غور کرنا چاہئے۔ کشمیریوں کو تحریص یا عسکری  مظالم سے  ہمیشہ کے لئے دبایا نہیں جاسکتا اور نہ ہی مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے مظالم کو محض اس لئے دنیا سے چھپایا جاسکتا ہے کہ  بھارت بڑا ملک ہے اور امریکہ اپنے علاقائی مفادات اور چین مخالف حکمت عملی کی وجہ سے بھارت میں ایک انتہا پسند حکومت کے انتہا پسند ہتھکنڈوں کو نظر انداز کررہا ہے۔ 

وسیع تناظر میں یہ حکمت عملی کارگر نہیں ہوگی۔ ایک تو امریکہ دنیا میں  انفرادی آزادی کے اصول کا علمبردار ہے۔ اگر اسے واقعی فری ورلڈ کا  بلاشرکت غیرے لیڈر رہنا ہے تو وہ    بھارت سمیت کسی بھی ملک کی انسان دشمن پالیسیوں  کا تادیر دفاع نہیں کرسکے گا۔ اس تصویر کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ چین بھی بھارت کا ہمسایہ ہے اور بھارت اس کے ساتھ بھی سرحدی تنازعہ میں ملوث ہے۔ امریکہ  اسٹریٹیجک لحاظ سے  کبھی پاکستان کو تنہا  نہیں چھوڑ سکتا ورنہ چین کے ساتھ پاکستان کا اشتراک  ایک ایسے عالمی بلاک کی بنیاد رکھ سکتا ہے جو  امریکی بالادستی کو   معاشی، سفارتی اور عسکری لحاظ سے  چیلنج کرے گا۔ یوکرین جنگ سے یورپ میں پڑنے والی دراڑیں اور توانائی  پالیسی میں  عرب ملکوں کی بڑھتی ہوئی خود مختاری کا مشاہدہ کرتے ہوئے اس تصویر کو مکمل کرنے کی کوشش کی جاسکتی ہے۔ امریکی  پالیسی ساز   اس پہلو  کو نظر انداز نہیں کرسکتے ۔ اس لئے بھارتی لیڈروں کو اس غلط فہمی میں مبتلا ہونے کی ضرورت نہیں ہے کہ عالمی سفارت کاری میں پاکستان  ’غیر متعلق‘ ہے۔

بلاول بھٹو زرداری نے  جائز طو رسے مسئلہ کشمیر پر عالمی ضمیر جھنجھوڑنے کی  کوشش کی ہے۔ البتہ بھارتی وزیر خارجہ کی طرف سے  پاکستان  کو اسامہ بن لادن کی میزبانی کرنے کا طعنہ   صرف اس مطالبہ کا  جواب نہیں تھا  بلکہ لاہور کے جوہر  ٹاؤن سانحہ میں بھارت کے ملوث ہونے  کے پاکستانی  دعوے نے نئی دہلی کو بر افروختہ کیا ہے۔ پاکستان اس معاملہ کو اب تمام دوست ممالک اور عالمی سطح پر اٹھانے کا اعلان کررہا ہے۔  دونوں ملک ایک دوسرے پر دہشت گردی میں ملوث ہونے کا الزام لگاتے رہے ہیں۔ البتہ پاکستانی حکام کی اس دلیل کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ پاکستان کے خلاف بھارتی الزام تراشی کو زیادہ توجہ  سے سنا جاتا رہا ہے۔ اس کی ایک وجہ افغانستان میں امریکی جنگ بھی تھی جس کی وجہ سے امریکہ  نے بھارت کے ساتھ مل کر پاکستان کو مسلسل دباؤ میں رکھا۔ تاہم اس  کا ہرگز یہ مقصد نہیں کہ بھارت کے اپنے ہاتھ صاف ہیں اور اس نے پاکستان میں تخریب کاری کی کبھی کوشش نہیں کی۔  بھارت  کی طرف سے بلوچستان میں انتہاپسند عناصر کی مالی و عسکری امداد کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔ اسی طرح پاکستان میں دہشت گردی کے متعدد  واقعات میں بھارت ملوث رہا ہے۔ اب گزشتہ برس لاہور سانحہ کے بارے میں یہی شواہد سامنے لائے گئے ہیں  جس کی وجہ سے نئی دہلی کو شدید بے چینی ہے۔

نریندر مودی کو  2002 میں  گجرات کے فرقہ وارانہ  فسادات کی وجہ سے  ’گجرات کا قصاب‘ کہا جاتا ہے کیوں کہ وزیر اعلیٰ کے طور پر انہوں نے ریاست میں مسلمانوں  کی خوں ریزی روکنے کی کوشش نہیں کی اور انتہا پسند ہندوؤں کو مسلمانوں کو ہلاک کرنے اور ان کی آبادیوں کو نیست و نابود کرنے کا موقع فراہم کیا۔  ان فسادات میں ایک ہزار سے زائد مسلمان جاں بحق ہوئے تھے۔  عالمی سطح پر ان سانحات کے دستاویزی شواہد سامنے لائے جاچکے ہیں اور کسی کو اس میں شبہ نہیں  ہے کہ  نریندر مودی کی نگرانی میں  بی جے پی کے انتہا پسندوں   نے یہ  فسادات   منظم کئے تھے۔  اسی لئے بھارت کا وزیر اعظم بننے سے پہلے امریکہ میں نریندر مودی کا داخلہ بند تھا۔ بلاول بھٹو زرداری نے اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے جے شنکر سے کہا ہے کہ’ اسامہ بن لادن  تو مارا جاچکا لیکن گجرات کا قصاب ابھی زندہ ہے اور بھارت کا وزیر اعظم ہے‘۔  یہ فقرہ   سفارتی فقرے بازی سے زیادہ تاریخی حقیقت کا بیان ہے۔   انتہا پسندی کوہوا دے کر  بھارت کا وزیر اعظم بننے کے باوجود نریندر مودی کے ان جرائم کو فراموش نہیں کیا جاسکتا۔

البتہ یہ خواہش کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے کہ مودی کے ماضی کو دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننا چاہئے۔  تاہم جب   مودی حکومت اپنی مسلم دشمن ذہنیت کی وجہ سے پاکستان کو کسی بھی طرح دنیا میں تنہا کرنے یا کمزور کرنے کا خواب دیکھتی ہے  تو اس طرز عمل کو قبول نہیں کیا جاسکتا۔ مودی حکومت کا یہ طریقہ پاکستان کے لئے ہی  نہیں بھارت کے سوا  ارب لوگوں کے  پرامن مستقبل کے لئے  بھی خطرے کی گھنٹی ہے۔