مذہبی معاملات سے نمٹنے کا اختیار صرف ریاست کو ہونا چاہیے: سپریم کورٹ
سپریم کورٹ نے مبینہ طور پر توہین آمیز مواد پوسٹ کرنے والے واٹس گروپ میں شامل ہونے پر توہین مذہب کے الزامات کا سامنا کرنے والے ایک ملزم کی ضمانت منظور کرلی اور مشاہدہ کیا کہ مذہب سے متعلق معاملات سے نمٹنے کے لیے افراد کے بجائے صرف ریاست کو اختیار ہونا چاہیے۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس یحییٰ آفریدی پر مشتمل سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے مشاہدہ کیا کہ ریاست کو مذہبی معاملات پر خود کو افراد کے حوالے نہیں کرنا چاہیے۔ بلکہ ایسے حساس معاملات میں ریاستی مشینری کو انتہائی مہارت کے ساتھ استعمال کرنا چاہیے۔ ضمانت کی درخواست کی سماعت کرنے والے بینچ نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملزم اپنا دفاع کیسے کرے گا جب اسے جرم کی نوعیت کے بارے میں کوئی علم ہی نہیں ہے۔
عدالت نے ایک لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکوں کے عوض ضمانت کی درخواست منظور کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ کیس میں مزید انکوائری کی ضرورت ہے۔ ملزم نے لاہور ہائی کورٹ کے ملتان بینچ کی جانب سے اپنی درخواست ضمانت مسترد کیے جانے کو چیلنج کیا تھا۔
ڈپٹی اٹارنی جنرل شفقت عباسی نے ڈان کو بتایا کہ ملزم کو فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کے سائبر کرائم ونگ نے تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295 سی کے تحت 6 اپریل کو درج کی گئی شکایت پر رواں سال 22 اپریل کو لیہ سے گرفتار کیا تھا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ شکایت کنندہ واٹس ایپ گروپ کا ممبر نہیں تھا اور اس نے شکایت اس وقت درج کی جب اس کے ایک دوست نے اسے اس قابل اعتراض ٹیکسٹ کے بارے میں بتایا جو اس کے سیل فون پر موصول ہوا تھا۔
ایف آئی اے نے بعد میں اسلامی نظریاتی کونسل سے رائے طلب کرنے کے بعد تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295 سی کو چالان سے خارج کر دیا تھا۔ سماعت کے دوران عدالت عظمیٰ نے شکوک و شبہات کا اظہار کیا اور مشاہدہ کیا کہ جب ملزم کو الزامات کی نوعیت کا علم ہی نہیں تو وہ اپنا دفاع کیسے کرے گا۔
سپریم کورٹ ایف آئی اے کی ٹیم کی جانب سے جس طرح سے انکوائری کی گئی اس سے بھی خوش نہیں اور کہا کہ افسوس ہے کہ تحقیقات اس بات کی وضاحت کرنے میں ناکام رہی کہ آیا شکایت کنندہ عربی زبان سے اچھی طرح واقف تھا یا نہیں کیونکہ سوشل میڈیا گروپ پر پوسٹ کیا گیا قابل اعتراض متن عربی زبان میں تھا۔
عدالت نے نوٹ کیا کہ ٹرائل کورٹ کی جانب سے ملزمان کے خلاف الزامات عائد کرتے ہوئے اسلامی نظریاتی کونسل کی رائے کو مدنظر نہیں رکھا گیا۔ عدالت نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر آئینی ادارے کی رائے پر عمل نہ کیا جائے تو سی آئی آئی کا کیا مقصد ہے۔
ڈپٹی اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ چونکہ کیس سیکشن 295 سی کے ضمرے میں نہیں آیا اس لیے ایف آئی اے نے اس دفعہ کو شکایت سے خارج کر دیا تھا۔