پاکستان نے بلاول بھٹو کے بیان پر بھارتی احتجاج مسترد کردیا

  • ہفتہ 17 / دسمبر / 2022

دفتر خارجہ نے وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی سے متعلق تبصرے کے ردعمل میں بھارتی وزارت خارجہ کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے اسے بھارت کی بڑھتی ہوئی مایوسی کا عکاس قرار دے دیا۔

دو روز قبل اقوام متحدہ میں بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر نے پاکستان پر دہشت گردی کا سلسلہ جاری رکھنے اور اسامہ بن لادن کو پناہ دینے کا الزام عائد کیا تھا۔ بلاول بھٹو نے بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر کے الزامات پر ردعمل دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’میں جے شنکر کو یاد دلانا چاہتا ہوں کہ اسامہ بن لادن مر چکا ہے لیکن گجرات کا قصائی زندہ ہے اور وہ بھارت کا وزیراعظم ہے‘۔

بلاول بھٹو کی جانب سے نریندر مودی کو ’گجرات کا قصائی‘ کہنے پر بھارت شدید تلملا اٹھا تھا۔ گزشتہ روز ہندو قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے کارکنان نے نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن کے باہر شدید احتجاج کیا۔ بھارتی حکومت نے بھی بلاول بھٹو کے ریمارکس پر کڑی تنقید کی، این ڈی ٹی وی کے مطابق کے مطابق بھارتی وزارت خارجہ نے کہا کہ پاکستان، بھارت پر الزامات عائد کرنے کا جواز نہیں رکھتا۔

بھارتی وزارت خارجہ کے بیان کے حوالے سے آج میڈیا کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرہ بلوچ نے کہا کہ بھارتی حکومت نے 2002 میں گجرات قتل عام کی حقیقتوں کو چھپانے کے لیے عذر اور من گھڑت کہانیوں کے پیچھے چھپنے کی کوشش کی ہے۔ یہ بڑے پیمانے پر قتل، ریپ اور لوٹ مار کی شرمناک داستان ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ گجرات قتلِ عام کے ماسٹر مائنڈ انصاف سے بچ گئے ہیں اور اب بھارت میں اہم سرکاری عہدوں پر فائز ہیں۔ ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ کسی بھی قسم کی لفاظی بھارت میں زعفرانی دہشت گردی پر پردہ نہیں ڈال سکتی۔ بھارتی حکمران جماعت کے سیاسی نظریے ’ہندوتوا‘ نے نفرت، تفرقہ بازی اور سزا سے استثنیٰ کے ماحول کو جنم دیا۔

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق سزاؤں سے استثنیٰ کا کلچر اب بھارت میں ہندوتوا سے چلنے والی سیاست میں اندر تک سرایت کر چکا ہے۔ دہلی لاہور سمجھوتہ ایکسپریس پر گھناؤنے حملے میں بھارتی سرزمین پر 40 پاکستانی شہری شہید ہوگئے تھے۔ اس حملے کے ماسٹر مائنڈ اور مجرموں کی بریت آر ایس ایس بی جے پی کے زیر انتظام انصاف کے قتل عام کو ظاہر کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کی تمام ریاستوں میں مذہبی اقلیتوں کو سرکاری سرپرستی میں دھمکایا جاتا ہے۔ بھارت اپنی مظلومیت کی فرضی داستان گھڑتا ہے لیکن درحقیقت بھارت خود غیر قانونی طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر میں جبر کا مرتکب اور جنوبی ایشیا میں دہشت گرد گروہوں کا کفیل اور مالی معاون ہے۔