میں نہیں تو کوئی نہیں

اِس بارے میں قطعاً دو آرا نہیں پائی جاتیں کہ پاکستان ایک مشکل دور سے گزر رہا ہے۔ سیاست ہو یا سفارت اور معیشت بھی بحرانی کیفیت سے گزر رہی ہے۔ معاملات دگرگوں ہیں، شدید پریشانی ہے،عامتہ الناس کی زندگی اور اُس کے شب و روز درست نہیں ہیں۔

آٹا، دال،چاول، چینی ہی نہیں، بجلی گیس اور تیل بھی اُس کی دسترس سے نکل چکے ہیں۔ قدرِ زر پست سے پست تر ہوتی چلی جا رہی ہے۔ عام انسان کی قوت خرید جامد ہو چکی ہے۔ کورونا پہلے ہی ہماری معیشت پر کاری ضرب لگا چکا ہے، رہی سہی کسر گزرے سال کی بارشوں اور اُس کے نتیجے میں آنے والے خوفناک سیلاب نے پوری کر دی ہے۔ ہماری قوت معیشت حقیقتاً سرخ لائن کراس کرتی نظر آ رہی ہے۔ عمران خان کے قریباً چار سالہ دورِ حکمران کی نالائقیاں اور نااہلیاں اپنی جگہ لیکن اُنہوں نے آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ کرنے کے بعد اُس کی شرائط پر عمل درآمد نہ کرنے کی پالیسی اختیار کر کے قومی معیشت کو اندھے غار میں دھکیل دیا ہے۔

اتحادی حکومت معاملات سدھارنے کی سرتوڑ کاوش کر رہی ہے حتیٰ کہ مفتاح اسماعیل کو ہٹا کر اسحاق ڈار کی مشکل میں معاشی شہ دماغ بھی میدان میں اُتارا جا چکا ہے لیکن عوام کی اُمیدیں بلند آہنگ ہیں۔ مسائل پوائنٹ آف نو ریٹرن تک جا پہنچے ہیں، مشکلات پہاڑ جیسی ہیں۔ اِس لئے معاشی حالات میں درستگی کی رفتار اتنی نہیں  ہے جو عوام کی تشفی و تسلی کا باعث بن سکے۔ معاشی معاملات کی فوری بہتری نہ ہونے کی ایک اہم وجہ یوکرائن کی جنگ بھی ہے جس نے عالمی منظر پر بے یقینی کی صورت حال طاری کر رکھی ہے۔ امریکہ اِس جنگ کے ذریعے روس کے ساتھ حساب چکتا کرنا چاہتا ہے، اپنی برتری قائم رکھنے اور دنیا پر اپنی دھاک بٹھانے اور بٹھائے رکھنے کے لئے جنگ کی بھٹی دھکائے رکھنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ امریکہ چین کے ساتھ براہ راست پنگا لینے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ چین کی تعمیر و ترقی اور سفارتی پرواز نے اُس کی پوزیشن مستحکم کر دی ہے۔ سازشوں اور دھمکیوں کے برعکس  چین، امریکہ کے ہاتھ لگنے والا نہیں ہے اِس لئے امریکہ نے روس کو یوکرائن کی جنگ میں اُلجھا کر ایک طرف اپنی کمزور معیشت کو سہارا دینے کی پالیسی اپنا لی ہے تو دوسری طرف اپنی گرتی ہوئی عالمی ساکھ کو سہارا دینے کا ذریعہ بنا لیا ہے۔

روس،یوکرائن جنگ طول پکڑتی چلی جا رہی ہے۔ یورپ اِس جنگ میں الجھا ہوا ہے۔ اناج اور توانائی کے ذرائع کی منڈی افتراق و تفریق کا شکار ہو چکی ہے۔ ایک طرف اشیاء کی رسد متاثر ہے تو دوسری طرف اِن کی طلب میں اضافہ ہوتا نظر آ رہا ہے جس کے باعث بحرانی کیفیت پیدا ہو چکی ہے۔ امریکہ ہو یا برطانیہ، جرمنی ہو یا جاپان یا پھر فرانس، سبھی نے اپنی اپنی معیشتوں کو سہارا دینے کے لئے شرح سود میں اضافہ کرنا شروع کر رکھا ہے۔ ترقی یافتہ ممالک بھی طلب و رسد کے تفاوت کے باعث مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں۔ کارخانے بند بھی ہو رہے ہیں، ایئر لائنیں اور ریلوے ملازمین اپنی تنخواہوں میں اضافے کے لئے ہڑتالیں کر رہے ہیں۔ برطانیہ میں نرسوں نے تاریخ میں پہلی مرتبہ اپنے مطالبات کی منظوری کے لئے ہڑتال کا سہارا لیا ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام معیشت سے منسلک تمام اقوام شدید معاشی مسائل میں گھری ہوئی ہیں، اِس لئے پاکستان بھی اگر معاشی مسائل کا شکار ہے تو یہ اَنہونی بات نہیں لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ معاملات درست کرنے کی قوت کمزور نظر آ رہی ہے۔

قومی معیشت کی بحالی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ سیاسی عدم استحکام ہے۔ ہمارے ہاں سیاست اُس مقام تک جا پہنچی ہے جہاں سیاسی عدم استحکام کے سوا کوئی اور نتیجہ نظر نہیں آ رہا۔ عمران خان اپریل 2022 میں تحریک عدم اعتماد کے نتیجے میں حکومت سے رخصت ہونے کے بعد سے سیاسی توازن کھو چکے ہیں، اُن کی غیر متوازن پالیسیوں نے جاری سیاسی انتشار میں اضافہ کیا ہے۔ اُنہوں نے اپنے دورِ حکمرانی میں بھی سیاسی مار دھاڑ جاری رکھی، اپوزیشن کو نیب اور دیگر حکومتی و ریاستی اداروں کے ذریعے جھوٹے مقدمات میں اُلجھائے رکھا۔ سیاست میں انتقام اور عدم رواداری کے رویوں کے فروغ کے ذریعے نہ صرف سیاست کو مکدر کیا بلکہ معاشی عدم استحکام کو بھی فروغ دیا۔ اپریل 2022 میں حکومت سے رخصتی کے بعد اُنہوں نے ایسے ہی رویوں کو زیادہ شدت سے جاری رکھا۔ فوج کے سیاست سے علیحدہ ہونے کے اعلان نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔ عمران خان فوج کی آشیرباد کھو جانے کے بعد میدانِ سیاست میں تنہائی کا شکار ہو چکے ہیں، اُن کی تمام پالیسیاں اور بیانئے نہ صرف ناکام نظر آ رہے ہیں بلکہ اُن کی تمام پالیسیاں بھی اپنی اہمیت کھو چکی ہیں۔  وہ نہ صرف اپنے تمام اہداف حاصل کرنے میں ناکام ہو چکے ہیں بلکہ کرپشن اور فراڈ کے الزامات کے تحت تیزی سے سزاؤں کی طرف بڑھتے نظر آ رہے ہیں اِس لئے وہ ساری بساطِ سیاست کو بھی لپیٹنے اور اتحادی حکومت کو ناکام بنانے کے لئے خودکش حملہ آور کا روپ دھار چکے ہیں

سیاسی انتشار و افتراق کو بڑھانا اور بڑھاتے ہی چلے جانا اُن کی پالیسی تو ہے ہی، وہ تو ملک کو معاشی ڈیفالٹ کے حوالے کرنے کی بھی شعوری کاوشیں کرتے نظر آتے ہیں۔ بڑے شد و مد کے ساتھ جلتی پر تیل کا کام کر رہے ہیں، وہ اپنے آپ ہی کو ملک اور اپنے آپ ہی کو پارلیمان سمجھتے ہیں اِس لئے اُنہوں نے اپنے دور حکمرانی میں اپوزیشن کو تسلیم ہی نہیں کیا۔ اپوزیشن لیڈروں کو بُرے بُرے ناموں سے پکارتے رہے، اُن سے ہاتھ ملانے سے بھی انکاری رہے۔ اب جبکہ 14جماعتی اتحاد کی حکومت قائم ہے تو عمران خان اِس حکومت کو بھی نہیں مانتے۔ وہ حکومت کو فوری الیکشن کرانے کے لئے مجبور بھی کرتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ اِس سے بھی مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ جس آئینی ادارے نے الیکشن کا انعقاد کرانا ہے اُس کے سربراہ کے بھی عمران خان لتے لیتے رہے ہیں۔ چیف الیکشن کمیشن اِنہی کا منتخب کردہ ہے،وہی اُنہیں ڈھونڈ کر لائے تھے اور اپنی دریافت پر دن رات تعریفوں کے پُل باندھتے تھے لیکن اب وہ اُس کے خلاف ہو چکے ہیں اور اُنہیں مسلم لیگ(ن) کے ایجنٹ قرار دیتے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پھر اُن کا حکومت سے الیکشن کرانے کا مطالبہ کیا معنی رکھتا ہے؟ جس حکومت کو وہ امپورٹڈ کہتے ہیں جس کے سربراہ کو چور اور لٹیرا قرار دیتے ہیں،اُسی سے الیکشن کا اعلان کرانے کا مطالبہ کیا معنی رکھتا ہے اور پھر جس آئینی ادارے نے الیکشن کرانے ہیں اُس پر دشنام طرازی کرتے ہیں،ایسے میں عمران خان کے الیکشن کرانے کے مطالبے کو انتشار اور افتراق کی سوچی سمجھی پالیسی نہیں تو اور کیا سمجھا جائے؟

آج بروز ہفتہ 17دسمبر2022 وہ دو اسمبلیاں تحلیل کرنے کی تاریخ کا اعلان کرنے جا رہے ہیں۔ اِس بارے میں بھی ابھی کوئی حتمی رائے نہیں ہے کہ وہ ایسا کر بھی سکتے ہیں یا نہیں؟کیونکہ اب تک اُن کی پالیسی یہی رہی ہے کہ وہ ہر وہ بات کرتے ہیں جس سے سیاسی بے چینی پھیلے، معاشی ابتری میں اضافہ ہو۔ آج بھی وہ کچھ ایسا ہی کرنے کا اعلان کریں گے جس سے پاکستان کے بارے میں پایا جانے والا منفی تاثر اور بھی گہرا ہو،  سیاسی بے چینی بڑھے، معیشت پرمزید منفی اثرات مرتب  ہوں، پاکستان ڈیفالٹ کی طرف بڑھے۔دراصل وہ چاہتے ہیں کہ بس ایسا ہی ہوتا رہے: ’میں نہیں تو پھر کوئی بھی نہیں‘۔

(بشکریہ: روزنامہ پاکستان)