ایک کیس میں متعدد ایف آئی آر کا اندراج ڈرانے، دھمکانے کے مترادف ہے: اسلام آباد ہائی کورٹ
اسلام آباد ہائی کورٹ کا کہنا ہے کہ ایک جرم میں متعدد ایف آئی آر کا اندراج ڈرانے دھمکانے کے مترادف ہے۔ عدالت نے سیکرٹری اطلاعات و نشریات اور پی ٹی وی کے مینجنگ ڈائریکٹراور ڈائریکٹر نیوز کی درخواست پر تفصیلی حکم جاری کیا ہے۔
لاہور اور پشاور میں انسداد دہشت گردی قانون کے تحت دو مقدمات درج کیے جانے کے بعد درخواست گزاروں نے عدالت سے رجوع کیا تھا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس طارق محمود جہانگیری نے تفصیلی حکم نامے میں کہا کہ اسلام آباد کی حدود سے باہر درج کی گئی ایف آئی آر سپریم کورٹ کے حکم نامے کی خلاف ورزی ہے۔ عدالت عظمیٰ نے ایم ایس ٹی صغراں بی بی اور ریاست کے کیس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ ایک جرم کے خلاف صرف ایک ایف آئی آر درج کی جاسکتی ہے۔
جسٹس طارق محمود نے کہا کہ درخواست گزاروں کے ساتھ اسلام آباد کی حدود میں پیش آنے والے مبینہ واقعے کا مقدمہ درج کیا گیا جبکہ لاہور اور پشاور میں درج کی گئی ایف آئی آر سپریم کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی ہے۔ اختیارات کا غلط استعمال گیا جس کی وجہ سے درخواست گزار ذہنی اذیت کے ساتھ ساتھ ہراسانی کا شکار ہوئے اور اپنی زندگی اور آزادی کے حوالے سے خوف میں مبتلا ہیں۔
عدالت نے نشاندہی کی کہ درخواست گزار اعلیٰ حکومتی افسران ہیں جو اپنی ذمہ داریاں ادا کررہے ہیں۔ ایف آئی آر کے مواد اور الزامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ درخواست گزار دہشت گردی کے مرتکب نہیں ہیں۔ عدالت نے لاہور اور پشاور میں درج ایف آئی آر کالعدم قرار دے دی اور پولیس کو مذکورہ کیس میں درخواست گزاروں کے خلاف ایف آئی آر کے اندراج سے روک دیا۔
عدالت نے درخواست گزاروں کے وکیل کو ہدایت کی کہ وہ شکایت کنندگان کو مقدمے میں فریق بنائیں۔ خیال رہے کی ملسم لیگی رہنما جاوید لطیف کے عمران خان پر الزامات نشر کرنے پر درخواست گزاروں کے خلاف مقدمے قائم کئے گئے تھے۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے لیڈر تحریک انصاف کے چیئرمین کے خلاف مذہبی بنیادوں پر تشویش ناک الزامات عائد کیے تھے جسے پی ٹی وی نے براہ راست نشر کیا تھا۔ بعدازاں درخواست گزاروں کے خلاف مقدمات درج کیے گئے تھے۔
19 ستمبر کو لاہور کے گرین ٹاؤن تھانے میں پولیس نے انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کی دفعہ 9- 11 ایکس (3) کے تحت مقدمہ درج کیا تھا۔ دفعہ 9 کے تحت اگر کسی نے نفرت پھیلانے کے جرم میں 5 سال قید کی سزا سنائی جائے گی جبکہ دفعہ 11 ایکس (3) کے تحت مجمع کے دوران خطاب میں مذہبی، فرقہ وارانہ یا نسلی نفرت پر اکسانے کے لیے جرم میں 10 سال تک قید کی سزا سنائی جائے گی۔
شکایت کنندگان نے کہا کہ جاوید لطیف کی پریس کانفرنس وزیراطلاعات مریم اورنگزیب اور درخواست گزار پاکستان ٹیلی ویژن کے مینجر ڈائریکٹر سہیل علی خان اور ڈائریکٹر نیوز مرزا راشد بیگ کی ملی بھگت سے پی ٹی وی پر نشر کی گئی۔ دوسری ایف آئی آر پشاور کے ضلع رحمٰن بابا تھانے میں درج کی گئی تھی۔