سیکیورٹی فورسز کا سی ٹی ڈی مرکز بنوں میں عسکریت پسندوں کے خلاف کامیاب آپریشن
سیکیورٹی فورسز نے کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے عسکریت پسندوں کی جانب سے بنوں میں محکمہ انسداد دہشت گردی کے مرکز پر قبضے کے 3 روز بعد یرغمال بنائے گئے افراد کو بازیاب کروانے کے لیے کامیاب آپریشن کیا ہے۔
اتوار کے روز بنوں میں محکمہ انسداد دہشت گردی کی عمارت میں زیر حراست دہشت گردوں نے عمارت کو قبضے میں لے لیا تھا اور اپنی باحفاظت افغانستان منتقلی کا مطالبہ کیا تھا۔ خیبرپختونخوا پولیس کے محکمہ انسداد دہشت گردی کے زیر انتظام چلائے جانے والے حراستی مرکز میں عسکریت پسند لاک اَپ سے باہر نکلنے میں کامیاب ہوگئے تھے اور سیکیورٹی اہلکاروں کو یرغمال بنا لیا تھا۔
گزشتہ روز بھی بنوں میں صورتحال کشیدہ رہی جب پولیس اور سیکیورٹی اداروں نے کینٹ ایریا کو سیل کر دیا اور مکینوں کو گھروں کے اندر رہنے کی ہدایت کی تھی، اس کے علاوہ علاقے میں انٹرنیٹ اور موبائل سروس بھی معطل کردی گئی تھی۔
سیکورٹی فورسز نے بنوں میں تین روز قبل انسدادِ دہشت گردی پولیس کے دفتر پر قبضہ کرنے والے مبینہ عسکریت پسندوں کے خلاف فوجی کارروائی میں حکام نے تمام عسکریت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ وائس آف امریکہ کے نمائندے کے مطابق آپریشن کے دوران ہلاک کیے جانے والے مبینہ دہشت گردوں کی تعداد کے بارے میں متضاد اطلاعات سامنے آرہی ہیں۔ البتہ ایک سرکاری بیان میں چھ عسکریت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے ۔
مقامی پولیس اور صحافی نو عسکریت پسندوں کے مارے جانے کی اطلاعات دے رہے ہیں۔ سرکاری طور پر جاری کردہ بیانات میں یرغمال بنائے جانے والے 15 دیگر افراد کو بازیاب کرانے کا بتایا گیا ہے لیکن اب تک انہیں میڈیا کے سامنے پیش نہیں کیا گیا۔
بنوں کے مقامی افراد اور صحافیوں نے بتایا ہے کہ عسکریت پسندوں کے خلاف آپریشن کے دوران ڈرون کا بھی استعمال کیا گیا ہے۔ خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ کے مشیر برائے اطلاعات بیرسٹر محمد علی سیف نے وائس آف امریکہ کو بتایاہے کہ آپریشن مکمل ہونے کے بعد اس کی تفصیلات سے متعلق ذرائع ابلاغ کو آگاہ کیا جائے گا۔
عسکریت پسندوں نے اتوار کو سی ٹی ڈی کے دفتر پر حملہ کر کے وہاں موجود اہلکاروں کو یرغمال بنا لیا تھا۔ بعدازاں حملہ آور ویڈیو پیغامات کے ذریعے حکومت سے محفوظ راستہ فراہم کرنے کا مطالبہ کر رہے تھے۔
دہشت گردوں سے مذاکرات کی ناکامی کے بعد منگل کو سیکیورٹی فورسز نے آپریشن شروع کیا جس میں فوج کے اسپیشل سروس گروپ (ایس ایس جی) کے کمانڈوز نے بھی حصہ لیا ۔ کشیدہ صورتِ حال کے باعث بنوں میں منگل کو تمام تعلیمی ادارے بند رہے جب کہ فوجی چھاؤنی کے علاقے میں ہر قسم کی سرکاری، تجارتی اور کاروباری سرگرمیاں بھی معطل رہیں۔