متنازع ٹوئٹس کیس میں اعظم سواتی کی درخواست ضمانت مسترد

  • بدھ 21 / دسمبر / 2022

اسلام آباد کی خصوصی عدالت نے پاکستان تحریک انصاف  کے سینیٹر اعظم خان سواتی کی درخواست ضمانت مسترد کردی ہے۔

اسلام آباد کی خصوصی عدالت کے اسپیشل جج اعظم خان نے تحریک انصاف کے سینیٹر اعظم سواتی کی درخواست پر سماعت کی۔ دوران سماعت وکیل استغاثہ رضوان عباسی نے اعظم سواتی کی درخواستِ ضمانت پر حتمی دلائل دیے۔ وکیل استغاثہ رضوان عباسی نے ٹوئٹر پر اکاؤنٹ ویریفکیشن (بلیو ٹک) کا طریقہ کار بتایا۔

پراسیکوٹر رضوان عباسی نے کہا کہ سینیٹر اعظم سواتی کے اکاؤنٹ پر بلیو ٹِک ہے۔ انہیں مشہور شخصیات نے فالو کیا ہوا ہے۔ استغاثہ نے دلائل دیے کہ اعظم سواتی کو فالو کرنے والی مشہور شخصیات میں سیاسیتدان اور صحافی بھی شامل ہیں اور اعظم سواتی کبھی اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے منکر نہیں ہوئے۔ اس بات میں کوئی دو رائے نہیں کہ ٹوئٹر اکاؤنٹ اعظم سواتی کا ہی ہے۔

سرکاری وکیل نے کہا کہ اس اکاؤنٹ پر اعظم سواتی نے افواجِ پاکستان کے خلاف ایک بیانیہ بنانے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے اعظم سواتی کی درخواستِ ضمانت کی مخالفت کی۔

اعظم سواتی کے وکیل سہیل خان نے دلائل دیے کہ ٹوئٹس کے اسکرین شاٹس پر سائبر کرائم کا مقدمہ نہیں بنتا۔ پراسیکوٹر نے کہا کہ درخواست گزار کے وکیل نے دلائل کے دوران ایک بار نہیں کہا کہ ٹوئٹر اکاؤنٹ اعظم سواتی کا نہیں۔ فریقین کے حتمی دلائل سننے کے بعد عدالت نے سینیٹر اعظم سواتی کی درخواستِ ضمانت مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اعظم سواتی نے ایک ہی جرم دو بار کیا ہے۔

27 نومبر کو پاکستان تحریک انصاف کے سینیٹر اعظم خان سواتی کو فوجی افسران کے خلاف متنازع ٹوئٹ کرنے پر وفاقی تحقیقاتی ادارے نے گرفتار کیا تھا، اس سے قبل بھی انہیں 12 اکتوبر کو آرمی چیف کے خلاف ٹوئٹ کرنے پر گرفتار کیا گیا تھا۔

ایف آئی اے کی جانب سے سابق وفاقی وزیر کے خلاف پیکا 2016 کی دفعہ 20 اور پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 131، 500، 501، 505 اور 109 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ ایف آئی آر میں تین ٹوئٹر اکاؤنٹس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا تھا کہ اعظم سواتی اور مذکورہ اکاؤنٹس نے غلط عزائم اور مذموم مقاصد کے ساتھ ریاستی اداروں، سینئر افسران سمیت جنرل قمر جاوید باجواہ کے خلاف انتہائی جارحانہ انداز میں ٹوئٹر پر مہم کا آغاز کیا۔