گورنر پنجاب نے اسپیکر کی رولنگ غیر آئینی قرار دے دی

  • بدھ 21 / دسمبر / 2022

گورنر پنجاب بلیغ الرحمٰن نے اسپیکر سبطین خان کی جانب سے وزیراعلیٰ پرویز الہٰی کو اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے سے متعلق رولنگ کو ’غیر آئینی اور ’غیر قانونی‘ قرار دیا ہے۔

تین صفحات پر مشتمل ایک خط سوشل میڈیا پر جاری کیا کیا گیا ہے جس میں گزشتہ روز پنجاب اسمبلی کے اسپیکر سبطین خان کی جانب سے دی جانے والی رولنگ کو مسترد کیا گیا ہے۔ بلیغ الرحمٰن نے سبطین خان کی رولنگ میں اٹھائے گئے دو اہم نکات پر ردعمل دیا ہے۔ جس میں کہا گیا تھا کہ گورنر اُس وقت تک اسمبلی کا نیا اجلاس طلب نہیں کر سکتے جب تک موجودہ اجلاس ختم نہیں کیا جاتا۔ اور دوسرا یہ کہ وزیر اعلیٰ کو اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کے لیے کم از کم 10 دن کی مدت لازمی درکار تھی۔

اسپیکر کی جانب سے اٹھائے جانے والے پہلے نکتے پر ردعمل دیتے ہوئے گورنر پنجاب بلیغ الرحمٰن نے کہا کہ انہوں نے اپنے 19 دسمبر کے حکم میں کہا تھا کہ اگر جاری اجلاس کو آپ ( اسپیکر) نے آج شام 4 بجے سے پہلے کسی بھی وقت ملتوی کر دیا، تو پھر اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کے لیے شام 4 بجے نیا اجلاس طلب کرے کی ضرورت ہوگی۔

اگر اسمبلی کا اجلاس پہلے ہی جاری ہو تو آئین کا آرٹیکل 130(7) اسے نافذ ہونے سے نہیں روکتا۔ آپ کی تشریح غلط ہے۔ بلیغ الرحمٰن کے خط میں مزید کہا گیا ہے کہ لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے پر اسپیکر پنجاب اسمبلی کا انحصار کرنا غلط ہے کیونکہ اس فیصلے میں شامل حقائق اور حالات واضح طور پر مختلف ہیں۔

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما فواد چوہدری نے گورنر کی جانب سے وزیراعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی کو اعتماد کا ووٹ لینے کے معاملے پر ’مہم جوئی‘ سے خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ووٹنگ نہیں ہوگی جبکہ وزیرداخلہ رانا ثنا اللہ نے گورنر راج لگانے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر وزیر اعلیٰ نے آج اعتماد کا ووٹ نہ لیا تو وہ عہدے پر برقرار نہیں رہیں گے۔