پرویز الہٰی نے اعتماد کا ووٹ نہیں لیا اس لیے وہ آئینی طور پر وزیراعلیٰ نہیں رہے: وزیرداخلہ

  • جمعرات 22 / دسمبر / 2022

وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ گزشتہ روز پرویز الہیٰ نے اعتماد کا ووٹ نہیں لیا اس لیے آئین کے مطابق وہ پنجاب کے وزیر اعلیٰ نہیں رہے۔

رانا ثنااللہ نے لاہور میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ آئین کے مطابق گورنر کو ا اختیار حاصل ہے کہ وہ وزیر اعلیٰ کو کسی بھی وقت اعتماد کے ووٹ کا کہہ سکتا ہے۔ اگر وزیر اعلیٰ اعتماد کا ووٹ لینے میں ناکام ہوجائے تو وہ وزیر اعلیٰ کے عہدے پر برقرار نہیں رہ سکتا۔ گزشتہ روز گورنر کے 4 بجے طلب کردہ اجلاس کے نہ ہونے یا اس میں اعتماد کا ووٹ نہ لینے کی بنیاد پر پرویز الہٰی آئینی بنیاد پر پنجاب کے وزیر اعلیٰ نہیں ہیں۔ گورنر کی جانب سے آرڈر جاری کرنا صرف رسمی ہے۔ گورنر کا آرڈر جاری ہونے کے بعد آئینی کارروائی شروع کردی جائے گی۔

رانا ثنااللہ نے کہا کہ جو لوگ ہنگامہ برپا کرنا چاہتے ہیں انہوں نے یہ کوشش پچھلے 7 ماہ سے اسلام آباد میں کرلی ہے۔ لیکن اگر پی ٹی آئی نے گورنر ہاؤس کے باہر ہنگامہ کیا تو ہم نے اس کا بندوبست کرلیا ہے۔ گزشتہ روز پرویز الہٰی نے اعتماد کا ووٹ نہیں لیا، نئے وزیر اعلیٰ کا الیکشن ہونا ہے اور اس کا شیڈول بھی گورنر کو دینا پڑے گا۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم میں کوئی سیاسی بحران نہیں ہے۔ وفاقی وزیر کا کہنا تھا گورنر پنجاب آئین کے تحت اپنے اختیارات کا استعمال کر رہے ہیں۔ جیسے ہی گورنر پنجاب آرڈر جاری کریں گے اس پر عمل درآمد کروائیں گے۔ فیصلے پر عمل درآمد نہ ہونے کی صورت میں گورنر وفاقی حکومت کو صوبے میں گورنر راج لگانے کا کہہ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دو ماہ کے لیے گورنر راج لگ سکتا ہے جس میں توسیع بھی ہوسکتی ہے۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) نے ابھی تک وزیر اعلیٰ کے عہدے کے لیے ناموں پر غور نہیں کیا لیکن حمزہ شہباز امیدوار ہوسکتے ہیں۔ پنجاب اسمبلی برقرار رہے گی لیکن آج ہونے والے پنجاب کابینہ کے اجلاس کی کوئی حیثیت نہیں ہے کیونکہ پرویز الہٰی وزیر اعلیٰ نہیں رہے۔ قانون کے مطابق اسمبلی کا اجلاس جب بھی بلایا گیا سب سے پہلے وزیر اعلیٰ کے انتخاب پر بات ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ اگر ایک شخص اپنی ضد اور انا کے لیے پنجاب اسمبلی توڑ سکتا ہے تو کل ہمارے اوپر بھی سوال اٹھ سکتا ہے کہ جب ایک شخص غیر آئینی اقدام کر رہا تھا تو ہم نے کارروائی کیوں نہیں کی۔ اگر عمران خان کو اسمبلی توڑنا ہوتی تو یہ کام بہت پہلے کرچکے ہوتے۔

آئین کے مطابق اعتماد کا ووٹ لینے میں ناکامی کے بعد پرویز الہٰی پنجاب اسمبلی توڑنے کی ایڈوائس نہیں دے سکتے۔ ہم نے الیکشن سے فرار کی کوئی کوشش نہیں کی، الیکشن کی بھرپور تیاری کر رکھی ہے۔