لیول پلیئنگ فیلڈ

عاشق کا معشوق سے بنیادی تقاضا یہ ہے کہ صرف اور صرف اسی کے دل کو پری خانہ بنایا جائے ، زلفِ یار کی مہک پر اسی کے مشامِ جاںکا اجارہ ہو، ان آنکھوں کے مے کدے سے فقط اسی کو جام میسر آئیں، ان شہد لبوں کی کہانی صرف اسی نے سن رکھی ہو۔

 ان دراز پلکوں کے سائے تلے بس وہی سستائے۔ محبوب کا رقیب پر التفات عاشق کے تن بدن میں آگ لگا دیتا ہے، یعنی آپ کہہ سکتے ہیں کہ عاشق ’لیول پلیئنگ فیلڈ‘ کا سرے سے قائل نہیں ہوتا۔ عشق کے کھیل کا یہ اصول قابلِ فہم ہے کیوں کہ اگر معشوق اپنے سب عاشقوں کو لیول پلیئنگ فیلڈ فراہم کرنے لگے تو اس کی اخلاقی حالت پر گھمبیر سوال اٹھ سکتے ہیں مگر ریاست کا معاملہ اس سے مختلف ہے بلکہ یہ کہیے کہ اس کے بالکل برعکس ہے۔

یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ جن ممالک نے اپنے شہریوں کو معاشی، معاشرتی اور سیاسی سطح پر لیول پلیئنگ فیلڈ فراہم کی وہ ریاستیں اور ان میں بسنے والی اقوام آج ترقی یافتہ کہلاتی ہیں۔ لیول پلیئنگ فیلڈ کے آسان معنی یہ ہیں کہ ریاست رنگ، نسل، عقیدہ، دولت یا کسی بھی بنا پرشہریوں کے درمیان امتیاز نہ برتے، کھیل کا ایک اصول ہو جس کا اطلاق سب فریقین پر یکساں کیا جائے یعنی وہ ساحر آنکھیں سب شہریوں پر اٹھیں، وہ پیشانی، وہ رخسار، وہ ہونٹ سب کو سامانِ نظارہ فراہم کریں۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں روزِ اول سے لیول پلیئنگ فیلڈ کا کوئی خاص رواج نہیں رہا، نہ سب ڈومی سائل برابر سمجھے گئے، نہ نسلیں، نہ مسالک، نہ عقیدے۔ ہمیں یہ قبول تھا کہ ملک دو لخت ہو  جائے مگر بنگالیوں کو لیول پلیئنگ فیلڈ فراہم کرنا ہمیں منظور نہیں تھا۔

ہم نے قومی سانحوں پر آنسو بہائے مگر ان سے سبق سیکھنے کو ہم اپنی مردانگی کی توہین سمجھتے رہے، سو آج بھی اس ملک کے شہریوں کو زندگی کی دوڑ میں لیول پلیئنگ فیلڈ میسر نہیں۔ اشرافیہ پر مشتمل ایک مختصر سی اقلیت کو دوڑنے کے لیے مسطح زمین فراہم کی گئی ہے جبکہ آبادی کی اکثریت کو دلدل میں دوڑنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ وفاق کی ایک اکائی کا نام بلوچستان ہے، اس صوبے کو کیا معلوم لیول پلیئنگ فیلڈکس چڑیا کا نام ہے۔ مذہبی اقلیتوں سے عورتوں تک کس کس کا ذکر کیا جائے۔ یہ داستان طویل ہے، اور دامانِ تحریر تنگ، سو بات کو سیاست کے دائرے تک محدود رکھنا ہو گا۔

ہمیں خبر دی گئی ہے کہ ادارہ غیر سیاسی ہو گیا ہے ، گویا ساقی نے توبہ کر لی ہے اور غیر سیاسی ہونے کا مطلب یہ ہے کہ تمام سیاسی جماعتوں کو لیول پلیئنگ فیلڈ فراہم کی جائے گی۔ نہ کوئی لاڈلا رہے گا، نہ کوئی لاڈلا نواز۔ سادہ لفظوں میں نواز شریف پر عائد تمام پابندیاں ختم ہو جائیں گی، وہ سیاست میں براہ راست حصہ لیں گے، اپنی پارٹی کی صدارت کریں گے۔ الیکشن لڑیں گے اور اگر ان کی جماعت انتخاب جیت گئی تو چوتھی دفعہ وزیراعظم پاکستان کا حلف اٹھائیں گے۔ جبکہ ایک حلقہ فکرکا خیال ہے کہ حقیقی لیول پلیئنگ فیلڈ کا تقاضا تو یہ ہے کہ وہ سب ’حرکاتِ نازیبا‘جو نواز شریف کے ساتھ کی گئیں وہ ان کے سیاسی حریف کے ساتھ بھی دہرائی جائیں یعنی اگلے الیکشن کے موقع پر عمران خان اور ان کی بیگم یا بہن جیل میں ہوں، بالکل ویسے ہی جیسے نواز شریف اور ان کی بیٹی پچھلے انتخابات سے پہلے پسِ دیوارِ زنداں دھکیل دیے گئے تھے۔ جس طرح سارے میڈیا کو گدی سے پکڑ کر دن رات ’چور ڈاکو ‘ کی گردان کروائی گئی تھی، اسی طرح اب توشہ خانہ، فارن فنڈنگ، لندن سے آئے 190ملین پاﺅنڈ، عارف نقوی والے 250 ارب روپے اور درجن بھر دوسرے اسکینڈلز کا ڈھندورا پیٹا جائے۔

عمران خان کی معاشی اور اخلاقی کرپشن کی داستانیں دن رات دہرائی جائیں، کبھی کوئی آڈیو، وڈیو کبھی کوئی ’والیم 10‘ ، وغیرہ وغیرہ، پھر عمران خان کو بیٹے سے تنخواہ وصول نہ کرنے پر نہیں بلکہ دونوں ہاتھوں سے اربوں روپے وصول کرنے کی پاداش میں نا اہل کیا جائے، پارٹی صدارت سے ہٹایا جائے، پھر ان کی پارٹی توڑی جائے، پی ٹی آئی کے سرکردہ راہ نما گرفتار کئے جائیں۔ بلّے کے نشان پر الیکشن لڑنا عذاب بنا دیا جائے اور اگر یہ سب کچھ کافی نہ ہو تو پھر الیکشن والے دن اپنے پیارے آر ٹی ایس کو حکم دیا جائے ’چل بیٹھ جا‘، یہ ہو گا صحیح معنی میں لیول پلیئنگ فیلڈ۔ یہ تو نہیں ہو سکتا کہ آئین سے چھیڑ چھاڑ کر کے پنجاب میں نواز شریف مخالف حکومت قائم کروائی جائے جو نواز شریف کو واپسی پر گرفتار کرنے کی دھمکی دے رہی ہو اور ساتھ ساتھ غیر سیاسی ہونے اور لیول پلیئنگ فیلڈ فراہم کرنے کے دعوے بھی کیے جائیں۔

آج اگر شفاف کھیل کا فیصلہ کر بھی لیا جائے تو کیا یہ ’کی مرے قتل کے بعد اس نے جفا سے توبہ‘  والی صورت حال ہو گی؟ سیف صاحب نے کہا تھا ”شاید تمہارے ساتھ بھی واپس نہ آ سکیں/ وہ ولولے جو ساتھ تمہارے چلے گئے“۔ کتنی نسلیں روٹی، کپڑا، تعلیم اور علاج کے بغیر رزقِ خاک ہو گئیں، اس کا حساب کس سے مانگیں؟ چوبیس سال لیول پلیئنگ فیلڈ کی نفی کر کے ہم 1971 تک پہنچے تھے۔ پھر یہ کھیل ہم  نے مغربی پاکستان میں پورے ذوق و شوق سے جاری رکھا،1977 آیا، 1999 آیا اور پھر 2018  آ گیا۔ کبھی بھٹوز اور کبھی نواز شریف، کبھی الطاف حسین اور کبھی علی وزیر کو لیول پلئینگ فیلڈ دینے سے انکار کیا گیا اور اسی کھیل تماشے میں پچھتر سال گنوا دیے گئے۔ م

عیشت پاتال میں اور دہشت گردی اوج پر، یہ ہے موجودہ پاکستان۔ب ہرحال، ہم سیف صاحب سے کہیں ڈھیٹ واقع ہوئے ہیں۔ چلئے خوش گمان کہہ لیجیے، ہم پھر حوصلہ کریں گے، ہمارے ولولے بھی لوٹ آئیں گے لیکن لیول پلئینگ فیلڈ کا وعدہ کرنے والے یاد رکھیں، یہ آخری موقع ہے، واقعی آخری!

(بشکریہ روزنامہ جنگ)