پنجاب حکومت: کون کسے بچا رہاہے؟

بظاہر عمران خان کی ساری  سیاسی اسکیم دھری کی دھری رہ گئی ۔ اسپیکر پنجاب اسمبلی  سبطین خان نے کہا ہے کہ اسمبلی جنوری سے پہلے  توڑنا ممکن نہیں ہے۔ اسی کے ساتھ ہی  خیبر پختون خوا کے وزیر اعلیٰ محمود خان نے  عمران خان کے  ’حکم ‘ کے مطابق جمعہ کو اسمبلی توڑنے  کا پروگرام ملتوی کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس دوران وزیر اعلیٰ پنجاب پرویز الہیٰ مکمل طور سے خاموش ہیں لیکن عمران خان گرج برس رہے ہیں ۔ اور اداروں سے یعنی فوج اور عدلیہ سے پوچھ رہے ہیں کہ کیا انہیں ملک تباہی کی طرف گامزن دکھائی نہیں دیتا۔ وہ کیوں خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں؟

عمران خان جو سوال کرتے ہیں ان کے جوابات بھی  انہوں نے  اپنے ہی نہاں خانہ دل میں چھپائے ہوئے   ہیں۔ بھلا ان سے بہتر کون  جان سکتا ہے کہ ادارے کیسے کام کرتے ہیں اور کب اور کن حالات میں کسی  کو گود لے کر زیرو سے ہیرو بناتے ہیں۔  پنجاب میں جو  سیاسی بحران دیکھنے میں آرہا ہے، وہ نہ تو پہلی  بار رونما ہؤا اور نہ ہی اس  میں چالیں چلنے والے کردار نئے ہیں۔  البتہ عمران خان اس صورت حال کا پہلی بار  تجربہ کررہے ہیں اور سخت ناراض ہیں۔  عمران خان کی کیفیت بیان کرنے کے لئے ناراضی شاید درست لفظ نہیں  ہے۔ ان کے غصے اور  جھنجھلاہٹ کے درپردہ  درحقیقت مایوسی اور پریشانی ہویدا ہے۔ اقتدار کا مزہ چکھنے کے بعد اب وہ اس کے بغیر  سیاست کرنے کا تصور نہیں کرسکتے لیکن اقتدار تک پہنچنے کی ساری امیدیں مٹھی میں دبائی ریت کی طرح ان کے ہاتھوں سے نکلی جارہی ہیں۔  اب نہ تو وہ مٹھی  کو بھینچ سکتے ہیں اور نہ ہی اسے کھول کر کسی  ہوش مند سیاست دان کی طرح کوئی ذمہ دارانہ قدم اٹھانے پر آمادہ ہوتے ہیں۔ وہ  ایک کے بعد دوسرا بحران پیدا کرکے کسی طرح  فوری انتخابات کا مقصد حاصل کرنا چاہتے ہیں لیکن جوابی وار سے ان کی ساری امیدیں راکھ ہوجاتی ہیں۔

آج گورنر ہاؤس کے باہر تحریک انصاف کے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے  انہوں نے  نام لئے بغیر موجودہ بحران، اپنے خلاف عدم اعتماد، قاتلانہ حملہ اور حامی صحافیوں کے خلاف کارروائیوں  کے سارے الزامات سابق آرمی چیف جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ  پر عائد کئے۔ اور پھر اداروں کو پکارا اورعدلیہ سے فریاد کی ۔  ملک کی حالت زار کا قصہ بیان کیا لیکن یہ سب  بتاتے ہوئے  وہ  اپنی  صفوں میں موجود دراڑوں  کو دیکھنا یا دکھانا بھول گئے۔   پنجاب میں ان کے سب سے اہم  حلیف پرویز الہیٰ جنرل باجوہ کے وکیل بن کر سامنے آچکے ہیں اور کہہ چکے ہیں کہ مجھے ساتھ بٹھا کر عمران خان نے باجوہ پر تنقید کرکے بہت ظلم کیا۔ انہوں نے باجوہ پر تنقید کو تحریک انصاف کی محسن کشی قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ اب اگر ان  پر حرف زنی کی گئی تو میں بنفس نفیس اس کی مزاحمت کروں گا۔ خیر ا س اعلان کو بھی پرویز الہیٰ کے ان  بیانات سے مماثل سمجھنا چاہئے  جو وہ پرویز مشرف کو بار بار وردی میں صدر منتخب کروانے کے بارے میں  دیا کیا کرتے تھے۔ جب سیاسی ہوا پرویز مشرف کے خلاف چلی تو پرویز الہیٰ بھی اسی ہوا کے دوش پر سوار تھے۔ اب وہ کیسے عمران خان  کے سیاسی منصوبہ کو کامیاب ہونے دیں گے؟

تحریک انصاف  کے لیڈر شفقت  محمود انکشاف کرچکے ہیں کہ مسلم لیگ (ق) یعنی پرویز الہیٰ تحریک انصاف سے پنجاب اسمبلی کی 30  اور قومی اسمبلی کی 15 نشستیں مانگ رہے ہیں۔ انہوں نے عندیہ بھی دیا کہ  اس تعداد میں کمی بیشی ہوسکتی ہے لیکن  حلیف پارٹی کے طور پر تحریک انصاف اس خواہش کو پورا کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔  شفقت محمود کو تحریک انصاف کے نمائیندہ ترجمان کی  حیثیت حاصل نہیں ہے البتہ  موجودہ بحرانی صورت حال میں ان  کے ذریعے   پرویز الہیٰ کی خواہش کا پردہ فاش کرواکے تحریک انصاف درحقیقت پرویز الہیٰ کو باور کروانا چاہتی ہے کہ  ان کا سیاسی مستقبل اب تحریک انصاف کے ہاتھ میں ہے۔  اس  بندر بانٹ  پر تبصرہ سے پہلے یہ سوچنا چاہئے کہ  پرویز الہیٰ کس برتے پر اتنا  بڑا سیاسی حصہ مان رہے ہیں؟  اس وقت مسلم لیگ (ق) کو قومی اسمبلی میں 5اور پنجاب اسمبلی میں 10 نشستیں حاصل ہیں۔  اس دوران عمران خان کی حمایت سے وزیر اعلیٰ بننے کی خواہش میں پرویز الہیٰ پارٹی میں پھوٹ ڈال چکے ہیں۔

ایک دھڑا چوہدری شجاعت کی سربراہی میں سرگرم ہے اور موجودہ وفاقی حکومت میں حصے دار بھی ہے۔  پرویز الہیٰ  صرف  اپنی  موجودہ سیاسی  حیثیت کی وجہ سے موجودہ نمائیندگی سے تین گنا زیادہ نشستیں مانگ رہے ہیں ۔ اگر عمران خان پنجاب اسمبلی توڑنے کی خواہش میں واقعی  پرویز الہیٰ کی یہ خواہش پوری کرنے پر تیار ہیں تو یہ اپنے ہی  ہاتھ کاٹ کر پرویز الہیٰ کے سپرد کرنے کے مترادف ہوگا۔   ایسی صورت میں  اگر انتخابات ہوگئے اور تحریک انصاف اپنی امیدوں کے مطابق پنجاب اسمبلی میں سویپ کرنے میں کامیاب ہوگئی تو بھی  اسے 30 نشستوں  والی  پرویز الہی لیگ کے سامنے سرنگوں رہنا پڑے گا۔ جب صرف 10 ارکان کے بل بوتے پر پرویز الہیٰ نے عمران خان  کو تگنی کا ناچ نچایا  ہؤا ہے تو سوچا جاسکتا ہے کہ اس سے تین گنا زیادہ  نمائیندگی پر ان کے مطالبات  کیا ہوں گے۔

پرویز الہی سیاست کے پرانے کھلاڑی ہیں اور اس وقت وہ اپنی زیادہ سے زیادہ قیمت لگوانے کی سعی کررہے ہیں ۔ تاہم وہ ایک اندازہ کرنے کی غلطی کررہے ہیں کہ  موجودہ سیاسی بلبلہ  پھٹنے کے بعد  کوئی انہیں گھاس بھی نہیں ڈالے گا اور سیاسی طور سے مسترد کرنے والوں میں عمران خان سب سے آگے ہوں گے۔  شاید انہیں بھی اس صورت حال کا اندازہ ہے  جس کی وجہ سے پنجاب اسمبلی ٹوٹنے کی نوبت ہی نہیں آرہی حالانکہ عمران خان   ہر حال میں پرویز الہیٰ کے لیڈر ہیں اور وزارت اعلیٰ ان کی امانت ہے جو وہ طلب کرنے پر واپس کرنے  کا اعلان کرتے رہتے ہیں۔ بس یہ موقع آنے نہیں دیتے۔ کیا عمران خان کو اس سیاسی صورت حال کا اندازہ ہے یا وہ بڑے مقاصد حاصل کرنے کی دھن میں  چھوٹے موٹے سیاسی جوڑ توڑ کی پرواہ نہیں کررہے۔ سچائی شاید ان دونوں کے بیچ کہیں چھپی ہو۔ عمران خان جن لوگوں کے  گھیرے میں ہیں ، وہ اپنے اپنے سیاسی مقصد کے لئے ان کے کان بھرتے رہتے ہیں اور عمران خان ہر بات کو سچ مانتے ہوئے بھڑکتے رہتے ہیں تاکہ  وہ کسی طرح ایک بار پھر وزیر اعظم بن جائیں۔ کاش ان کے دوستوں میں کوئی ایسا بھی ہوتا جو انہیں بتا سکتا کہ دوبارہ وزیر اعظم بننے کے لئے ایک مدت تک اپوزیشن لیڈر بن کر بھی دیکھ لیں۔ اس طرح آپ کو سیاسی داؤ پیچ بھی آجائیں گے اور  مخالفین کو یہ کہنے کا موقع بھی نہیں ملے گا کہ عمران خان تو بس انتشار  پیدا کرنا جانتا ہے۔

زمینی حقائق یہ ہیں کہ   17 دسمبر کے اعلان کے باوجود  جمعہ کو پنجاب یا خیبر پختون خوا اسمبلی نہیں توڑی جائے گی۔ پنجاب اسمبلی تو تحریک عدم اعتماد لانے اور گورنر کی طرف سے اعتماد کا ووٹ لینے کی ہدایت کی وجہ سے تعطل کا شکار ہوگئی لیکن خیبر پختون خوا اسمبلی بھی پنجاب اسمبلی سے پہلے توڑی نہیں جاسکتی۔  حالانکہ کم از کم ایک اسمبلی توڑ کر عمران خان  کم از کم یہ تو ثابت کرسکتے تھے کہ اپنی پارٹی کے اندر سیاسی معاملات مکمل طور سے ان کی گرفت میں ہیں۔    معروضی حالات سے لگتا ہے کہ   تحریک انصاف میں اسمبلیاں توڑنے اور پارٹی کی سیاسی حکمت عملی کے بارے میں اتفاق رائے نہیں ہے اور  عمران خان کا ساتھ دینے کے باوجود  ان کے فیصلوں اور خواہشات پر عمل   کرنے میں تعاون نہیں کیا جاتا۔ اب عمران خان یہ شکوہ صرف پرویز الہیٰ سے نہیں کرسکتے بلکہ ان کی اپنی ہی پارٹی کے وزیراعلیٰ محمود خان بھی اسی قسم کے طرز عمل کا  مظاہرہ کررہے ہیں۔

دوسری طرف اگر پی ڈی ایم کے  نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو اگرچہ  سیاسی تعطل پیدا کرکے  پنجاب اسمبلی کو ٹوٹنے سے بچایا گیا ہے لیکن کیا اسے اس سیاسی اتحاد یا مسلم لیگ (ن) کی  کامیابی قرار دیا جائے گا؟  پی ڈی ایم  کے لیڈر اپنے طور پر  پرویز الہیٰ کی سیاسی بلیک میلنگ کا حصہ بننے پر تیار دکھائی دیتے ہیں اور انہیں عمران خان کا ساتھ چھوڑ کر وزیر  اعلیٰ بنے رہنے کے لئے  سیاسی معاونت دینے کی پیش کش کی گئی ہے۔  پی ڈی ایم اگر اس مقصد میں کامیاب ہو بھی جائے تو اسے کیسے ملکی مفاد یا اس سیاسی اتحاد کی کامیابی   کہا جائے گا۔ سیاسی چالاکی تو یہ ہوتی کہ محض 10 سیٹوں کی  وجہ سے پرویز الہیٰ کو دانہ ڈالنے کی بجائے  ، بال ان کے حصے میں رہنے دی جاتی تاکہ وہ خود ہی اسے کھیل لیتے۔ سیاسی تجزیہ نگار اس بات پر متفق ہیں کہ پرویز الہیٰ کسی قیمت پر پنجاب اسمبلی توڑنے کی سمری  بھیجنے پر آمادہ نہ ہوتے۔  پھر کیا وجہ ہے کہ  انہیں فیس سیونگ  فراہم کرنے کے لئے عدم اعتماد کی تحریک لانے اور گورنر سے اعتماد کا ووٹ لینے کی ہدایت بھجوائی گئی ہے؟  اور اعتماد کا ووٹ لینے   میں ناکام ہونے کے بعد  آئینی موشگافیوں  میں وقت صرف کیا جارہا ہے اور گورنر پنجاب کو پرویز الہیٰ کو ڈی نوٹیفائی کرنے سے روک دیا گیا ہے۔ اس سے تو یوں لگتا ہے کہ پرویز الہیٰ کو بچانا عمران خان کا نہیں بلکہ پی ڈی ایم کا سیاسی منصوبہ ہے۔

یہ الجھی ہوئی چال بازی ہے لیکن اس سیاسی کشمکش کا سب سے بڑا نقصان  قومی معیشت اور ملکی سفارت کاری کو اٹھانا پڑرہا ہے۔ اگر برسر اقتدار پارٹیوں  کو واقعی اپنے اقتدار سے زیادہ قومی مفاد عزیر ہے تو بحران کو طول دینے کی بجائے اس سے نکلنے اور ایک دوسرے کے ساتھ فئیر پلے کے اصول پر عمل کرنا چاہئے۔  انتخابات آج ہوں یا ایک  سال بعد ان کے نتائج  کے بارے میں کوئی بھی پیش گوئی  کرنا وقت کا ضیاع ہے لیکن اگر سب پارٹیاں صمیم قلب سے یہ تسلیم کرلیں کہ انہیں ہر صورت انتخابات کے نتائج قبول ہوں گے اور جیتنے والا گروہ ، ہارنے والی سیاسی پارٹیوں کے لئے مشکلات پیدا کرنے کی بجائے انہیں ساتھ ملا کر قومی تعمیر کا کام کرے گا ، تب ہی خیر کی  امید کی جاسکتی ہے۔

 عمران خان ہر تقریر اور  بیان میں فوری انتخابات کو سیاسی استحکام کا واحد طریقہ بتاتے ہیں۔ سب سے پہلے انہیں یہ اعلان کرنا چاہئے کہ وہ انتخابی نتائج قبول کریں گے۔ جیت گئے تو سیاسی مخالفین  کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھائیں گے۔ اور ہار گئے تو ایک ذمہ دار سیاست دان کے  طور پر پارلیمانی سیاست میں کردار ادا کریں گے۔  ایسا اعلان سامنے آجائے تو حکومت پر انتخابات کے لئے دباؤ میں اضافہ ہوگا اور عمران خان کی سیاسی پوزیشن بھی مضبوط ہوگی۔  البتہ بے یقینی قائم رکھنے کی صورت میں عمرا ن خان ہر گزرنے والے دن کے ساتھ اپنے سیاسی زوال کی طرف گامزن دکھائی دیں گے۔