گورنر پنجاب نے وزیر اعلیٰ کو ڈی نوٹیفائی کردیا، ہائی کورٹ میں سماعت جاری

  • جمعہ 23 / دسمبر / 2022

لاہور ہائی کورٹ مسلم لیگ (ق) کے رہنما چوہدری پرویز الٰہی کو وزارت اعلیٰ سے برطرف کرنے کے حکم کے خلاف درخواست پر سماعت کررہی ہے۔ گورنر پنجاب بلیغ الرحمٰن نے کل رات پرویز الہیٰ کو وزیر اعلیٰ کے طور پر ڈی نوٹیفائی کردیا تھا۔

جسٹس عابد عزیز شیخ کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر بینچ درخواست پر سماعت کر رہا ہے۔ چوہدری پرویز الہٰی نے آج صبح ہی خود کو گورنر پنجاب بلیغ الرحمٰن کی جانب سے وزیر اعلیٰ پنجاب کے عہدے سے ڈی نوٹی فائی کرنے کا اقدام لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا جس پر سماعت کے لیے اب سے کچھ دیر قبل ہی جسٹس عابد عزیز شیخ کی سربراہی میں نیا 5 رکنی لارجر بینچ تشکیل دیا گیا تھا۔

سماعت کے آغاز پر اپنے دلائل شروع کرتے ہوئے پرویز الہی کے وکیل علی ظفر نے کہا کہ پرویز الہٰی 22 جولائی کو چیف منسٹر منتخب ہوئے۔ وزیر اعلیٰ کو تحریک عدم اعتماد کے ذریعے ہٹایا جا سکتا ہے۔ 20 اراکین اسمبلی کے دستخط کے ساتھ تحریک جمع ہو سکتی ہے۔ چیف منسٹر کو اسمبلی منتخب کرتی ہے، چیف منسٹر کو تعنیات نہیں کیا جاتا۔ اگر گورنر سمجھے کہ وزیر اعلی اکثریت کھو چکے ہیں تو وہ عدم اعتماد کے ووٹ کا کہہ سکتے ہیں، عدم اعتماد کے لیے الگ سے سیشن بلایا جاتا ہے۔

پرویز الہٰی کے وکیل نے اپنے دلائل میں کہا کہ گورنر تحریک عدم اعتماد کے لیے دن اور وقت کا تعین نہیں کر سکتا۔ جب عدم اعتماد کے لیے 3 سے 7 روز کا وقت ہے تو اعتماد کے ووٹ کے لیے ایسا کیوں نہیں ہو سکتا۔ عدم اعتماد کے لیے بھی طریقہ کار موجود ہے اراکین کو نوٹس دیتے ہیں۔

اس دوران عدالت نے استفسار کیا کہ رولز کے مطابق کیا اسی دن ووٹنگ نہیں ہو سکتی جس پر علی ظفر نے کہا کہ اسپیکر کو اختیار ہے وہ ایک ہی دن نوٹس اور ووٹنگ کرا سکتا ہے۔ ضروری ہے کہ اسپیکر ووٹنگ کے لیے دن مقرر کرے۔ وزیر اعلی اگر اعتماد کا ووٹ نہیں لیتا تو گورنر کوئی آرڈر پاس کر سکتے ہیں۔ گورنر نے اعتماد کے ووٹ کےلیے اسپیکر کو خط لکھا۔ وزیر اعلی نے اعتماد کا ووٹ لینے سے انکار نہیں کیا، اجلاس اسپیکر نے بلانا ہے۔ وزیر اعلی خود سیشن نہیں بلا سکتا۔

بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ اجلاس ہوا ہی نہیں تو پھر گورنر نے خود سے کیسے فیصلہ کرلیا۔ اجلاس بلانے کے اختیارات اسپیکر کے پاس ہیں۔ یہ تو ایسے ہی کہ دو افراد کے درمیان لڑائی کے نتیجے میں سزا تیسرے کو دے دی جائے۔ اس موقع پر جسٹس عابد عزیز شیخ نے ریمارکس دیے کہ اگر گورنر نے اعتماد کے ووٹ کا کہا ہے تو اس پر عمل درآمد تو ہونا چاہیے۔

جسٹس عابد عزیز شیخ نے کہا کہ گورنر اعتماد کے ووٹ کا کہہ سکتا ہے یہ تو رولز میں ہے۔ اس پر علی ظفر نے کہا کہ عدم اعتماد کے ووٹ کے لیے اسمبلی کا پروسیجز بھی ہے۔ اس پورے پراسس کے لیے مناسب وقت دینا چاہیے، اگر کوئی سیشن ہی نہیں ہے تو وزیر اعلی کہاں ووٹ لے گا۔

جسٹس عابد عزیز شیخ نے علی ظفر سے استفسار کیا کہ آپ کہتے ہیں سیشن بلائے بغیر چیف منسٹر کو ڈی سیٹ کر دیا گیا، یہ سارا پراسس تو اب بھی ہو سکتا ہے۔ یہ سارا بحران حل ہو سکتا ہے اگر ووٹنگ کے لیے مناسب وقت دے دیا جائے ۔ علی ظفر نے کہا کہ یہ تو تب ہو گا جب ڈی سیٹ کرنے کا نوٹی فیکیشن کالعدم ہو گا۔ جسٹس عابد عزیز شیخ نے کہا کہ یہ ہم دیکھیں گے جو قانون کے مطابق ہوا فیصلہ کریں گے۔

علی ظفر نے کہا کہ پنجاب ملک کا سب سے بڑا صوبہ ہے، صوبے میں کابینہ ہے مخلتف پراجیکٹس چل رہے ہیں۔ گورنرمنتخب ہو کر نہیں آتا۔ جسٹس عابد عزیز شیخ نے کہا کہ گورنر کے احکامات میں یہ بھی لکھا ہے کہ اگلے چیف منسٹر تک وزیر اعلی کام جاری رکھیں گے ۔ علی ظفر نے کہا کہ اگر وزیر اعلیٰ رہے گا تو کابینہ بھی رہے گی، کابینہ کے بغیر وزیر اعلیٰ نہیں رہ سکتا۔

آج صبح چوہدری پرویز الہٰی نے گورنر پنجاب کی جانب سے خود کو وزیر اعلیٰ پنجاب کے عہدے سے ڈی نوٹی فائی کرنے کا اقدام لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کرتے ہوئے مؤقف اپنایا کہ اسپیکر کے اجلاس نہ بلانے پر وزیر اعلیٰ اور کابینہ کو ڈی نوٹیفائی کرنا غیر آئینی ہے۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز رات گئے گورنر پنجاب بلیغ الرحمٰن نے اعتماد کا ووٹ لینے میں ناکامی پر وزیراعلیٰ چوہدری پرویز الہٰی کو عہدے سے ڈی نوٹیفائی کردیا تھا۔ گورنر نے وزیر اعلیٰ پنجاب کو ان کے عہدے سے ہٹانے کا آرڈر اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے جاری کیا تھا۔

گورنر پنجاب بلیغ الرحمٰن نے ڈی نوٹیفائی کرنے کے اپنے آرڈر میں کہا تھا کہ انہوں نے 19 دسمبر کو وزیر اعلیٰ پرویز الہٰی کو اعتماد کا ووٹ لینے کی ہدایت کی تھی۔ وزیر اعلیٰ کو21 دسمبر سہ پہر چار بجے تک اعتماد کا ووٹ لینے کا کہا گیا تھا مگر 48 گھنٹے گزرنے کے باوجود انہوں نے اعتماد کا ووٹ نہیں لیا، لٰہذا آئین کے آرٹیکل 30 کے مطابق صوبائی کابینہ کو ختم کیا جاتا ہے۔ سابق وزیراعلٰی پرویز الٰہی نئے وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب تک اپنا کام جاری رکھیں۔