مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے پرویز الہٰی کے خلاف تحریک عدم اعتماد واپس لے لی

  • جمعہ 23 / دسمبر / 2022

اپوزیشن جماعتوں نے پنجاب اسمبلی میں وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہٰی کے خلاف جمع کرائی گئی تحریک عدم اعتماد واپس لےلی ہے۔

واضح رہے کہ 20 دسمبر کو تحریک عدم اعتماد جمع کرائے جانے کے بعد گورنر پنجاب نے وزیر اعلیٰ پنجاب کو 21 دسمبر کو اعتماد کا ووٹ لینے کا کہا تھا۔ اور اعتماد کا ووٹ لینے میں ناکامی پر گزشہ روز وزیراعلیٰ کو عہدے سے ڈی نوٹیفائی کردیا تھا۔ پرویز الہیٰ نے گورنر کے حکم کو لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کردیا ہے۔

اس دوران مسلم لیگ (ن) کے چیف وہب پنجاب اسمبلی خلیل طاہر سندھو وزیراعلیٰ کے خلاف تحریک عدم اعتماد واپس لینے کے لیے پنجاب اسمبلی پہنچے۔ مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں نے کہا کہ پرویز الہیٰ اعتماد کا ووٹ حاصل نہ کرنے کی وجہ سے پہلے ہی عہدے سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں، اس لیے اب تحریک عدم اعتماد کی ضرورت نہیں ہے۔ درخواست کو باضابطہ طور پر پنجاب اسمبلی کے سیکریٹری عنایت اللہ لک نے وصول کیا۔

وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے بھی پرویز الہٰی کے تحریک عدم اعتماد واپس لینے سے متعلق کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کی اعتماد کا ووٹ لینے میں ناکامی کے بعدان کے کے خلاف تحریک عدم اعتماد غیر ضروری تھی چنانچہ واپس لے لی گئی ہے۔ ٹوئٹر پر جاری اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ پنجاب اور خیبر پختونخوا دونوں اسمبلیاں اب محفوظ ہیں۔ ایجی ٹیشن اور جلاؤ گھراؤ کی ناکام کوششیں کرنے کے بجائے پی ٹی آئی اپنی باقی ماندہ مدت میں عوام کے لیے کوئی کارکردگی دکھائے۔

عمران خان کی جانب سے پنجاب اور خیبر پختونخوا کی اسمبلیاں تحلیل کرنے کے اعلان کے بعد وفاق میں حکمران اتحاد کے رہنما پنجاب کے وزیراعلیٰ پرویز الٰہی کو پنجاب اسمبلی تحلیل کرنے سے روکنے کے لیے حرکت میں آگئے تھے۔ 20 دسمبر کو پنجاب میں اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہٰی اور اسٌپیکر سبطین خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کرائی گئی تھی ۔ ایک روز بعد گورنر پنجاب بلیغ الرحمٰن نے وزیراعلیٰ پرویز الہٰی سے 21 دسمبر کو اعتماد کا ووٹ بھی طلب کرلیا تھا۔

مسلم لیگ (ن) کی جانب سے صرف وزیراعلیٰ پنجاب کے خلاف جمع کرائی گئی تحریک عدم اعتماد واپس لی ہے۔ اسیپکر پنجاب اسمبلی سبطین خان اور ڈپٹی اسیپکر کے خلاف تحریک عدم اعتماد بدستور دائر رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

اسپیکر پنجاب اسمبلی سبطین خان نے اپنے خلاف جمع کرائی گئی تحریک عدم اعتماد کو غیر آئینی اور غیر قانونی قرار دیتے ہوئے رولنگ دی تھی اور کہا تھا کہ گورنر پنجاب کی جانب سے اعتماد کا ووٹ لینے کا کہنا غیر قانونی سمجھتا ہوں۔  گورنر پنجاب نے صوبائی اسمبلی کے اسپیکر سبطین خان کی جانب سے وزیراعلیٰ پرویز الہٰی کو اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے سے متعلق دی گئی رولنگ کو غیر آئینی اور غیر قانونی قرار دیا تھا۔

وزیر اعلیٰ کو جاری کیے گئے گورنر کے احکامات پر قانونی ماہرین کی آرا مختلف اور منقسم ہیں۔ تاہم وہ اس بات پر متفق تھے کہ پنجاب کے موجودہ بحران کا حتمی فیصلہ عدالتوں میں ہی ہوگا۔