پاکستان میں سیاسی عدم استحکام اور اقتصادی بحران
- تحریر اطہر مسعود وانی
- جمعہ 23 / دسمبر / 2022
آج کل ملک کا ہر شہری ملکی معیشت کی تباہ حالی اور سیاسی انتشار اور عدم استحکام کی صورتحال سے پریشان ہے۔ ہر محب وطن کو ان خطرات کا ادراک ہے کہ یہ صورتحال ملک کی بقاء اور سلامتی کے لئے حقیقی طور پر سنگین خطرات کا موجب ہے۔
پاکستان میں اقتصادی بحران کی سنگین صورتحال درپیش ہے اور معیشت کی ابتری کی یہ صورتحال ملک کے ہر شعبے کو بری طرح متاثر کر رہی ہے۔ ہر شعبے کے ماہرین اس بات سے اتفاق رکھتے ہیں کہ اقتصادی بہتری کے لئے ملک میں سیاسی استحکام ایک بنیادی شرط ہے جس کے بغیر ملکی معیشت میں بہتری کا خواب بھی نہیں دیکھا جا سکتا۔یہ کہنا بے جا نہیں ہوگا۔ ملک میں سیاسی عدم استحکام پیدا کرنا، اسے جاری رکھنا ایسی سیاسی دہشت گردی ہے جو ملک کو اقصادی طور پر تباہ کرتے ہوئے زمین سے لگانے کے ہولناک خطرات کا موجب ہو سکتی ہے۔ سیاسی عدم استحکام سے ملک میں بیرونی ہی نہیں بلکہ مقامی سرمایہ کاری بھی رک جاتی ہے اور ملکی اقتصادیات کی ریڑھ کی ہڈی یعنی برآمدات کا شعبہ بھی اس سے بری طرح متاثر ہوتا ہے۔ اس مضمون میں ہم کوشش کریں گے کہ ملک میں اقتصادی ابتری، اس کے عوامل، اس بارے میں معتبر اداروں کے حوالوں کا جائزہ لیتے ہوئے تمام صورتحال کا احاطہ کیا جا سکے۔ سب سے پہلے ہم ملک میں سیاسی عدم استحکام کی صورتحال کا جائزہ لیتے ہیں جس کی وجہ سے ملک میں ایسا انتشار اور بے یقینی پیدا کی گئی ہے کہ جس سے ہر شعبے کی طرح ملک کی معیشت بھی بہت بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔
سیاسی عدم استحکام اور معیشت کی خراب صورتحال میں ہی چند ماہ قبل ہی ملک میں تاریخ کے بدترین سیلاب سے کروڑوں افراد شدید متاثر ہوئے اور ملک کے کئی صوبوں میں وسیع پیمانے پر تباہی ہوئی۔ تحریک انصاف عدم اعتماد کے ذریعے حکومت سے نکالے جانے کے بعد سے مسلسل باغیانہ اوردھمکی کی سیاست کرتے ہوئے ملک میں قبل از وقت الیکشن کرانے کا مطالبہ کرتے چلی آ رہی ہے۔ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کا دعوی ہے کہ وہ الیکشن میں بھاری اکثریت حاصل کرکے ملک کو موجودہ صورتحال سے نکال لیں گے جبکہ ملک میں موجودہ سیاسی اور اقتصادی خرابیوںمیں ان کے تقریبا ساڑھے تین سال کے عرصہ حکومت کا بڑا کردار ہے۔ عمران خان ملک کو درپیش خطرناک صورتحال کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنے مطالبات منوانے کے لئے مہم جوئی کی سیاست کرتے ہوئے ملک میں سیاسی عدم استحکام کو قائم ر کھتے ہوئے خطرناک اقتصادی صورتحال کو مزید خراب کرنے کے درپے نظر آتے ہیں۔
ملک میں سیاسی استحکام کے لئے سیاسی عناصر کو بات چیت کے ذریعے معاملات ، مسائل کو حل کرنا چاہئے۔ دھمکی اور دھونس کی سیاست سے نقصان صرف ملک اور عوام کا ہو رہا ہے اور اب حالات اتنے خراب ہو چکے ہیں کہ ملک اور عوام اس کے ہولناک نتائج کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ چند دن قبل پنجاب، کے پی کے، گلگت بلتستان کے وزرائے اعلی اور آزاد کشمیر کے وزیر خزانہ نے مشترکہ پریس کانفرنس میں شکایت کی کہ وفاق کی طرف سے ان کی حکومتوں کو فنڈز نہیں مل رہے ۔ پنجاب اور کے پی کے کی یہ صورتحال نمایاں ہے کہ وہاں ہر سال بجٹ لیپس کر جاتا ہے کہ وہ پورا استعمال ہی نہیں کر پاتے۔ المختصر کہ یہ حقیقت واضح ہے کہ مضبوط اور مستحکم پاکستان ہی تمام مسائل کے حل کی بنیاد ہے ۔
دسمبر کے دوسرے ہفتے سٹیٹ بینک آف پاکستان نے بتایا کہ ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر کم ہو کر 6.7 بلین ڈالر پر آ گئے ہیں جو کہ تقریبا چار سالوں میں اس کی کم ترین سطح ہے۔ اسٹیٹ بینک کے گورنر جمیل احمد نے کہا کہ پاکستان کا معاشی بحران بنیادی طور پر اس سال کے تباہ کن سیلاب، یوکرائن کی جنگ اور عالمی سطح پر خوراک کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے ہے۔ پاکستان نے گزشتہ ہفتے اپنے میچورنگ بانڈز اور دیگر بیرونی قرضوں کی ادائیگیوں کے لیے 1 بلین ڈالر کی ادائیگی کی جس کے نتیجے میں غیر ملکی ذخائر میں کمی واقع ہوئی۔ پاکستان کو آنے والے مالی سال میں اپنے غیر ملکی قرض دہندگان کو تقریباً 33 بلین ڈالر ادا کرنے ہیں، ملک کو گزشتہ ہفتے اس کی ادائیگی کو پورا کرنے کے لیے ایشین انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک سے 3 بلین ڈالر کے لیے بات چیت کر رہی ہے۔ ایک دوست ملک سے 500 ملین ڈالر موصول ہوئے۔
یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے کہ جب ملک کو اپنے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کو کم کرنے کے لیے غیر ملکی امداد کی اشد ضرورت ہے اور ساتھ ہی ساتھ اگلے مالی سال کے لیے قرض کی ذمہ داریوں کی ادائیگی کے لیے کافی ذخائر کو یقینی بنانا ہے۔ صورتحال یہ ہے کہ نومبر کے آخر سے زرمبادلہ کے ذخائر میں 784 ملین ڈالر کی کمی واقع ہوئی ہے، کمرشل بینکوں کے پاس مزید 5.8 بلین ڈالر ہیں۔ آخری بار زرمبادلہ کے ذخائر جنوری 2019 میں 7 بلین ڈالر سے نیچے گرے تھے جب وہ 6.6 بلین ڈالر تھے۔ پاکستان کو سعودی عرب سے 4.2 بلین ڈالر کا پیکیج ملنے کا امکان ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کا پاکستان کے لیے بیل آٹ پیکج میں 7 ارب ڈالر کے اجرا کا جائزہ ستمبر سے زیر التوا ہے۔ عالمی مالیاتی ادارے کے ساتھ 2019 میں 6 بلین ڈالر کے بیل آئوٹ پر اتفاق کیا گیا تھا، اس سال کے شروع میں مزید 1 بلین ڈالر کا وعدہ کیا گیا تھا۔
اکنامک فریڈم انڈیکس نے اپنی2022 کی رپورٹ میں کہا ہے کہ پاکستان کی معیشت 2019 میں سست ہوئی اور 2020 میں سکڑ گئی۔ 2021 میں ترقی دوبارہ شروع ہوئی۔ سرمائے کی کمی سے معاشی آزادی کا پانچ سالہ رجحان مزید کمزور ہو گیا ہے۔ کاروبار کی آزادی، مالیاتی صحت اور قانون کی حکمرانی کے سکور میں کمی کی وجہ سے، پاکستان نے 2017 سے معاشی آزادی میں مجموعی طور پر 4.0 پوائنٹس کا نقصان ریکارڈ کیا ہے اور2020 میں معیشت 0.4 فیصد سکڑ گئی۔ انفرادی انکم ٹیکس کی شرح 35 فیصد ہے۔ اور سب سے اوپر کارپوریٹ ٹیکس کی شرح کو کم کر کے 29 فیصد کر دیا گیا ہے۔ مجموعی ٹیکس کا بوجھ کل گھریلو آمدنی کے 11.4 فیصد کے برابر ہے۔ گزشتہ تین سالوں میں حکومتی اخراجات کل پیداوار (جی ڈی پی) کا 22.3 فیصد رہے ہیں، اور بجٹ خسارہ جی ڈی پی کا اوسطاً 7.8 فیصد ہے۔ سرکاری قرضہ جی ڈی پی کے 87.2 فیصد کے برابر ہے۔ کاروباری ضوابط میں صوبوں میں ہم آہنگی کا فقدان ہے، اور لیبر قوانین کو یکساں طور پر نافذ نہیں کیا جاتا ہے۔
2021 میں آئی ایم ایف نے مالیاتی نظم و ضبط قائم کرنے کے لیے بنیادی خوراک کے ساتھ ساتھ بجلی اور گیس پر دی جانے والی سبسڈی کے خاتمے پر زور دیا لیکن 2021-2022 کے بجٹ میں اسی طرح کی بہت سی سبسڈیز میں اضافہ ہوا۔ پاکستان کے پاس 10 ترجیحی تجارتی معاہدے موجود ہیں۔ تجارتی لحاظ سے اوسط ٹیرف کی شرح 9.6 فیصد ہے اور 83 نان ٹیرف اقدامات نافذ العمل ہیں۔ معیشت میں ریاستی مداخلت اور سرمایہ کاری کا غیر موثر نظام معاشی حرکیات پر سنگین رکاوٹیں ہیں۔ تجارتی بینکوں کی اکثریت نجی ہے لیکن بینکنگ سیکٹر ریاستی مداخلت کا شکار ہے۔
اکنامک فریڈم انڈیکس کی رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ مالی آزادی اور تجارتی آزادی کچھ امکان ظاہر کرتی ہے لیکن قانون کی یکساں حکمرانی کی مسلسل کمی معاشی آزادی کو خطرہ بناتی ہے۔ پاکستان نسبتاً غیر مستحکم جمہوریت ہے جسے فرقہ وارانہ تشدد اور مذہبی انتہا پسندی سے خطرہ ہے۔ جائیداد کے حقوق کے حصول اور تصرف کا تحفظ، منظم جرائم، بدعنوانی، کمزور ریگولیٹری ماحول، اور قانونی نظام کی تخریب کاری سے کمزور ہوتا ہے۔ عدلیہ کی سیاست کی جاتی ہے اور یہ انتہا پسند گروہوں اور اعلی سیاسی عہدیداروں کے بیرونی اثر و رسوخ اور دھمکیوں کا شکار ہے۔ عدالتیں سست، پرانی اور ناکارہ ہیں۔ بدعنوانی سیاست، حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں میں عام ہے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی برقرار ہے۔ سیاسی اور سماجی عدم استحکام معاشی ترقی میں رکاوٹ ہے۔ ٹیکسٹائل اور ملبوسات سے زیادہ تر برآمدی آمدنی ہوتی ہے لیکن معیشت کا زیادہ تر حصہ غیر رسمی ہے اور بے روزگاری زیادہ ہے۔ چین نے چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبوں میں بنیادی ڈھانچے اور توانائی میں 60 بلین ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کاری کا وعدہ کیا ہے جن کو نمایاں دھچکا لگا ہے۔
حاصل بحث یہ ہے کہ پاکستان کا استحکام آئین و قانون کی حقیقی بالا دستی میں ہی پوشیدہ ہے اور اس ضرورت کو یقینی بنانے کے لئے عارضی، ناپائیدار فیصلوں اور اقدامات کے بجائے طویل المدتی اور مستحکم پالیسیاں اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ یہاں یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ وہ کون سا ملک ہے جو پاکستان کو اقتصادی طور پر تباہ اور برباد کرتے ہوئے اتنا کمزور اورلاچار کرنا چاہتا ہے کہ وہ پاکستان کو خطے میں اپنی تابعداری اختیار کرنے پر مجبور کر سکے۔ ہمیں اس حقیقت کا ادراک کرنا ہو گا کہ دشمن ایک طرف پاکستان کو عسکری دہشت گردی سے نقصان پہنچا رہے ہیں اور دوسری طرف پاکستان کو سیاسی عدم استحکام اور اقتصادی طورپر تباہ کرنے کے لئے سیاسی دہشت گردی کے ہتھیار بھی استعمال کئے جا رہے ہیں۔
ہمیں اپنے مسائل خود حل کرنا ہوں گے۔ شخصیات یا طبقات کی مفاداتی بالادستی کے بجائے عوامی مفادات کی بالادستی کو یقینی بنانے کے اقدامات اور حکمت عملی اختیار کرنا ہو گی کیونکہ عوام ہی ملک کی اصل طاقت ہیں اور عوامی حقوق کی پاسداری کو یقینی بنانے سے پاکستان حقیقی طور پر اتنامضبوط ہو سکتا ہے۔ تاکہ دشمن کی کسی بھی عسکری یا سیاسی دہشت گردی کی طرح کے منصوبوں اور عزائم کو ناکام اور نامراد کیا جا سکے۔